شرعی سوالات

صدقات جمع کرنے والے سفراءکا اجارہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ عاملین ِزکاۃ کے حکم میں ہیں؟

سوال :

ایک عالم دین فرماتے ہیں:مدارس دینیات کے سفیروں کا اطلاق عاملین صدقات پر ہو سکتا ہے اور ان کوا جرت عمل کا لینا و دینا ثابت بلکہ ضروری ہے کماقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم لعمر رضي الله عنه خذما اعطيت قال الضحاك ومجاهد لهم الثمن من الصدقة وقال البغوى يستحقون منها قسطا على ذلك ( تفسیر ابن کثیر ) ان معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ عامل کوا س کے عمل کی اجرت بعد فراغت عمل مکسوب ہی میں دینا چاہیے اسی طرح اہل مدرسہ زمانہ کی موجودہ حالت اور ضرورتوں کا لحاظ کرتے ہوئے سفیروں کو رقومات محصلہ سے کوئی حصہ چہارم یا سوم یا پنجم یا نصف یا دو تہائی یا ہشتم ٹھہرا کر دور ہ کا صرفہ سفیر کو ذمہ ہوا گر بحق سفارت بحق خدمت دیں تو جائز ہے اور دیو بند کا فتوی یہ ہے

صدقات واجبہ میں سے بعد حیلہ تملیک کے سفیروں کو تنخواہ دینا جائز ہے لیکن رقوم محصلہ کا کوئی حصہ نصف، ثمن ، ربع وغیرہ اگر مقرر کیا جائے تو اجارہ فاسد اور ناجائز ہے ۔ اس لئے تنخواہ  ماہوار مقرر ہونی چاہیے ۔

اگر اول جواب صحیح ہے تو دارالافتاء دیو بند کے جواب کا رد مدلل و وضاحت مع الروایہ مطلوب ہے ۔

جواب:

جواب سے قبل چند مقدمات پیش کئے جاتے ہیں تا کہ فہم جواب میں آسانی ہو جائے اور مسئلہ کما حقہ مجھ میں آ جائے ۔

مقدمہ اولی: مزدوری تنخواہ پر کام کرنا کرایہ پر یا ٹھیکہ پر یا نوکری پر کوئی خدمت کرنا یہ سب اجارہ کہلا تا ہے۔ اور اجارہ کا معنی شریعت میں کسی کو نفع کا عوض کے مقابل مالک کر دینا ہے۔

مقدمہ ثانیہ: صحت اجرت کے شرائط میں سے چندا ہم شرائط یہ ہیں:

 (1) عاقدین کی رضامندی۔

(2) اجرت کا معلوم ہونا

( 3) نفع کا معلوم ہونا

(4) مدت کا بیان کر دینا

(5) بیان عمل

ان عبارات سے ثابت ہو گیا کہ اجارہ پر دو عاقدوں کی رضا کا پایا جانا ضروری ہے ۔ اور اجرت اور نفع کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ اگر یہ مجہول ہوئے تو نزاع کی نوبت پیش آ جائے گی ۔اور اس میں بیان مدت اس لئے ضروری ہے کہ جب مدت ہی معلوم نہ ہو گی تو منفعت کس طرح معلوم ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح اس میں بیان عمل اس لئے ضروری ہے کہ جب اجارہ عمل پر ہے تو عمل کا مجہول ہونا نزاع کی طرف مفضی ہو گا ۔ الحاصل صحت اجارہ کے یہ پانچ شرائط ہیں ۔

مقدمہ ثالثہ: اجارہ کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ اجارہ جو اعیان و ذوات کے منافع پر ہو جیسےمکان، زمین، جانور وغیرہ۔ دوسرا وہ اجارہ جو عمل پر ہو جیسے دھوبی، درزی، حمال وغیرہ کے عمل پر۔

پھر جو عمل پر ہو اس کے اجیر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ اجیر ہے جو عمل میں کسی ایک ہی شخص کا کسی خاص وقت میں پابند ہو وہ اجیر خاص کہلاتا ہے جیسے ایک شخص کا نوکر، ملازم، خادم۔ دوسرا وہ اجیر جو عمل میں ایک شخص کا کسی خاص وقت میں پابند نہ ہو وہ اجیر مشترک کہلاتا ہے جیسے دھوبی، درزی، رنگریزوغیرہ

            پھر اجیر اپنی اجرت کا حقدار کبھی اپنا پورا عمل کر دینے کے بعد ہوتا ہے جیسے دھوبی اور درزی اور کبھی اثر عمل ظاہر ہو جانے کے بعد اجرت کا حقدار ہوتا ہے جیسے رنگ ریز کپڑے پر رنگ آ جانے کے بعد۔ اور کبھی غرض اور مقصود عمل کے حاصل ہو جانے کے بعد اجرت کا حقدار ہوتا ہے جیسے اہل و عیال کے لانے والے اجیر کا انہیں لے آنے کے بعد اور خط کے پہنچانے والے اجیر کا مکتوب الیہ کو خط پہنچانے کے بعد اور کبھی وقت و مدت اجارہ میں اپنے آپ کو موجود و حاضر رکھنے کے بعد بھی اجرت کا حقدار ہوتا ہے اگرچہ اس نے کچھ عمل نہ کیا ہو جیسے خادم کا وقت مقررہ پر حاضر رہنا

            اب اس فتوی دیوبندی کی بنا پر اگر سفارت مقدار میں ماہوار تنخواہ پر ہو تو یہ اجارہ فاسد قرار پاتا ہے ۔

اولا: اس اجارہ میں اجر تو معلوم ہے یعنی وہ ماہوار تنخواہ جو اراکین مدارس نے مقرر کر دی ہے اور نفع غیر معلوم ہے  کہ سفیر کے ذمے مہینے بھر میں آمدنی لانے کا کچھ تعین نہیں ، تو منفعت کے مجہول ہونے سے اجارہ فاسد ہو گیا۔

ثانیاً: صحت اجارہ کی شرط رضائے عاقدین بھی ہے اور اس اجارے میں سفیر کی رضا تو شامل ہے کہ وہ ماہوار اپنی مقررہ تنخواہ وصول کرنے کا حقدار ہے چاہے کچھ آمدنی حاصل ہو یا نہ ہو اور مہتمم مدرسہ کی رضامندی اس صورت میں تو ہے کہ جب وہ سفیر اپنی تنخواہ سے زائد لے کر آئے  اور جب وہ سفیر کچھ آمدنی نہ لایا یا لایا مگر وہ اس کی تنخواہ سے کم ہے یا بمقدار تنخواہ ہے تو ظاہر ہے مہتمم رضامند نہیں تو اس صورت میں رضا عاقدین متحقق نہ ہوئی جو صحت اجارہ کی شرط تھی۔ لہذا یہ اجارہ فاسد ہوا۔

ثالثا: جس اجارے میں نفع صرف احد العاقدین کو حاصل ہو وہ اجارہ بھی فاسد ہوتا ہے۔ اور اس اجارے میں مہتمم کا نفع تو خطرے میں ہے اور سفیر کا نفع یقینی ہوا تو احد العاقدین کا نفع تو بہر صورت متحقق ہے لہذا اس بنا پر بھی یہ اجارہ فاسد قرار پایا۔

رابعاً: اجارہ کا مقصود علیہ کبھی نفس عمل نہیں ہوا کرتا ہے جیسے کسی شہر میں ایک شخص خاص کے پاس خط پہنچانے اور جواب لانے کے لیے کسی کو اجیر کیا وہ اجیر وہاں پہنچا تو مکتوب الیہ کو مردہ پایا تو اس میں معقود علیہ عمل یعنی قطع مسافت نہیں بلکہ مقصود علیہ عمل یعنی خط کا پہنچانا اور مکتوب الیہ کو مضمون خط پر مطلع کرنا ہے جس کی عبارت مقدمہ ثالثہ میں گزری۔ اسی طرح اس اجارے میں مقصود الیہ بظاہر عمل یعنی آمدنی کی سعی کرنا ہے لیکن اہل مدارس کا مقصود منافع عمل یعنی سفیر کا آمدنی کر کے لانا ہے اور اس قدر آمدنی کر کے لانا ہے  جو اس کی تنخواہ سے زائد ہو گی۔ تو اگر سفیر اپنی تنخواہ سے کم آمدنی لایا ہو تو اس نے اجارہ کے مقصود علیہ کے خلاف کیا جو موجب فساد اجارہ ہے۔

خامسا:  اس اجارہ میں جب مقصود علیہ سفیر کی آمدنی ہے تو اس کی جہالت ضرور مفضی الی النزاع ہو گی (اور شرعاً وہ اجارہ معتبر ہے جو مفضی الی النزاع نہ ہو۔)

سادساً: جب سفیر کی آمدنی اجارہ کی معقود علیہ قرار پائی تو اگر یہ سفیر کچھ آمدنی نہ لایا یا لایا تو اپنی تنخواہ سے کم لایا تو سفیر اپنی تنخواہ کا حقدار نہ ہونا چاہیے جیسے کسی کو شہر سے اہل و عیال کے لانے کے لیے اجیر کیا اور وہ انہیں نہ لایا تو وہ اجر کا مستحق نہیں ہوتا ہے۔

سابعاً: اس اجارے میں جب سفیر اپنی تنخواہ سے زائد نہیں لایا تو اہل مدرسہ کو اس اجارے میں کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا اور عقد اجارہ نفع ہی کے لیے مشروع ہے ۔ لہذا اس صورت میں سفیر کو تنخواہ دینے میں اہل مدرسہ کا کیا نفع پہنچتا ہے اور ان کے حق میں اس عقد اجارہ کا جواز و صحت کس بنا پر ہے۔

ثامناً: جب اس اجارے میں تنخواہ ماہوار ہے تو ظاہر ہے کہ یہ اجیر خاص ہوا اور جب اجیر خاص قرار پا گیا تو اگر اس سے زر چندہ ہلاک ہو جائے تو اس پر تاوان نہ آئے گا۔ اور تنخواہ کا حقدار رہے گا۔ جیسا کہ اجیر خاص کا حکم ہے ۔

تاسعاً: جب اس اجارہ میں سفیر اجیر خاص ہوا تو اسے تنخواہ کے حقدار ہونے میں آمدنی کا لانا شرط نہ ہو گا، بلکہ چندہ کے لیے سعی کرنا اور سفر کرنا کافی قرار پائے گا، جیسا کہ اجیر خاص کا حکم ہے۔

حاصل کلام یہ کہ اس فتوے میں  اہل دیوبند نے سفیر کے لیے ماہوار تنخواہ کو جو جائز قرار دیا ہے یہ غلط و باطل ہے اسی وجہ سے اس پر کوئی فقہ کی عبارت پیش نہ کر سکے ۔ اب باقی رہا یہ امر کہ یہ سفیر عاملین زکوۃ کے حکم میں داخل ہیں یا نہیں تو عاملین تو وہ سعی کرنے والے اشخاص ہیں جنہیں امام و سلطان صدقات کے وصول کرنے کیلیے مقرر کرتا ہے۔

پھر صدقات دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو صدقات ظاہرہ کہلائے جیسے سائمہ جانوروں کی زکوۃ و عشر دوسرے صدقات باطنہ ہیں جیسے سونے چاندی کی زکوۃ اور اما م کے مقرر کردہ عاملین و عاشرین صدقات ظاہرہ کو اور ان باطنہ کو حاصل کر سکتے ہیں جنہیں  اپنے شہر سے نکال کر کسی عاشر پر لے کر گزریں لیکن وہ صدقات باطنہ جو شہر ہی میں ہوں تو ان کے لیے یہ عاملین و عاشرین مقرر نہیں کیے جاتے۔

پھر ان عاملین سے جو معاملہ کیا جاتا ہے نہ تو وہ عقد اجارہ ہے اور انہیں جو کچھ دیا جاتا ہے نہ اسے ہر اعتبار سے اجرت کہا جاتا ہے بلکہ وہ من وجہ اجرت ہے اور من وجہ صدقہ ہے۔ اسی بنا پر فقہا نے انکے عمل پر اجر معلوم مقرر نہیں فرمایا اور نہ ان کے عمل کو بالکل بے اجرت قرار دے کر انکی ساری محنت کو رائیگاں ٹھہرایا بلکہ ان عاملین کو اس رقوم محصلہ  سے بقدر عمل ربع، ثلث یا نصف تک بلا حیلہ تملیک کے حقدار قرار دیا اور ان صدقات کو غیر ہاشمی غنی کے لیے بھی جائز فرمایا۔

ان عبارات سے ثابت ہو گیا کہ عاملین کے ساتھ جو معاملہ ہے نہ تو شرعا وہ مقدار اجارہ ہے، نہ وہ اجیر خاص ہیں، نہ ان کی اجرت بہ طریقہ تنخواہ   کے کسی معلوم پر ماہوار مقدر مانی جاتی ہے، نہ انہیں صدقات واجبہ میں سے لینے کے لیے حیلہ تملیک کی حاجت ہے ، نہ وہ رقوم محصلہ میں سے نصف سے زائد لے سکتے ہیں ، نہ وہ بصورت ہلاکت رقوم کسی ایک پیسے کے مستحق ہیں ، نہ ان کے لیے فقیر ہونا ضروری ہے بلکہ غنی بھی یہ عمالت کر سکتے ہیں ۔ہاں ہاشمی سادات کو اس کی اجازت نہیں۔ بالجملہ یہ احکام ان عاملین کے ہیں جو شاہان اسلام کی طرف سے صدقات ظاہرہ وصول کرنے کے لیے مقرر ہیں۔

اب رہی بات صدقات باطنہ کو وصول کرنے والے  سفراء مدارس  ان کے لیے تقرر شاہان اسلام کی حاجت نہیں کہ صدقات باطنہ کو اپنے شہر میں دینے کا خود صاحب مال مالک نصاب مستقل مختار ہے، اس میں نہ شاہان اسلام کو مطالبہ کا حق حاصل ہے نہ اس کے وصول کرنے کے لیے ان کے مقرر کردہ عامل تو ان صدقات باطنہ کو وصول کرنے والے سفرائے مدارس اگرچہ اصطلاحاً عامل نہیں لیکن انہیں عاملین سے مناسبت کاملہ و مشابہت تامہ حاصل ہے تو جو معاملات عاملین کے ساتھ ہے وہی معاملہ ان سفراء کے لیے ہونا چاہیے اور جو احکام عاملین کے حق میں ہیں وہی علت ان سفراء کے حق میں مقرر ہونا چاہیےاس لیے کہ عاملین اگرچہ صدقات ظاہرہ کے لیے سعی کرتے ہیں تو سفراء مدارس صدقات باطنہ کے لیے سعی کرتے ہیں لہذا ان سفراء کے ساتھ جو معاملہ ہے نہ تو وہ عقد اجارہ ہے ، نہ وہ اجیر خاص ہو سکتے ہیں نہ انکی اجرت بہ طریق تنخواہ کسی اجر معلوم پر ماہوار مقرر کی جا سکتی ہے ، نہ انہیں  صدقات واجبہ میں سے لینے کے لیے حیلہ تملیک کی حاجت ہے ، نہ انہیں رقوم محصلہ میں سے ربع یا ثلث یا نصف لینے کی ممانعت ہے ، نہ یہ رقوم محصلہ میں سے نصف سے زائد لے سکتے ہیں ، نہ یہ بصورت ہلاکت رقوم کسی پیسے کے حقدار ہوں گے ، نہ ان کے لیے فقیر ہونا ضروری ہے بلکہ غنی بھی یہ سفارت کر سکتا ہے ۔ہاں ہاشمی سادات کو اس سفارت کی اجازت نہیں ہو گی۔ بالجملہ فتوی دیوبندیہ میں ان سفراء کے لیے ماہوار تنخواہ کو جائز قرار دینا بھی غلط ہے اور ان کے لیے رقوم محصلہ کے کسی حصے کو اجارہ فاسد ٹھہرانا بھی غلط ہے اور اسی طرح فتوی کی  بنا پر ان سفراء مدارس کو عاملین میں داخل کرنا اور انہیں عاملین سمجھنا بھی صحیح نہیں معلوم ہوتا۔

(فتاوی اجملیہ، جلد3، صفحہ 276،شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button