بہار شریعت

شے مرہون کے مصارف کے متعلق مسائل

شے مرہون کے مصارف کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: مرہون کی حفاظت میں جو کچھ صرف ہو گا وہ سب مرتہن کے ذمہ ہے کہ حفاظت خود اسی کے ذمہ ہے لہذا جس مکان میں مرہون کو رکھے اس کا کرایہ اور حفاظت کرنے والے کی تنخواہ اپنے پاس سے خرچ کرے گااور اگرجانور کو رہن رکھا ہے تو اس کے چرانے کی اجرت اور مرہون کا نفقہ مثلاً اس کا کھانا پینا اور لونڈی غلام کو رہن رکھا ہے توان کا لباس بھی اور باغ رہن رکھاہے تو درختوں کو پانی دینے پھل توڑنے اور دوسرے کاموں کی اجرت راہن کے ذمہ ہے اسی طرح زمین کا عشر یا خراج بھی راہن ہی کے ذمہ ہے خلاصہ یہ ہے کہ مرہون کی بقایا اس کے مصالح میں جو خرچہ ہو وہ راہن کے ذمہ ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۲: جو مصارف مرتہن کے ذمہ ہیں اگر یہ شرط کر لی جائے کہ یہ بھی راہن ہی کے ذمہ ہوں گے تو باوجود شرط راہن کے ذمہ نہیں ہوں گے بلکہ مرتہن ہی کو دینے ہوں گے بخلاف ودیعت کے اس میں اگر مودع نے یہ شرط کر لی ہے کہ حفاظت کے مصارف مود ع کے ذمہ ہوں گے تو شرط صحیح ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۳: مرہون کو مرتہن کے پاس واپس لانے میں جو صرفہ ہو مثلاً وہ بھاگ گیا اس کو پکڑ لانے میں کچھ خرچ کرنا ہو گا یا مرہون کے کسی عضو میں زخم ہو گیا یا اس کی آنکھ سپید پڑ گئی یا کسی قسم کی بیماری ہے ان کے علاج میں جوکچھ صرفہ ہو وہ مضمون و امانت پر تقسیم کیا جائے یعنی اگر مرہون کی قیمت دین سے زائد ہو تو اس صورت میں بتایا جا چکا ہے بقدر دین مرتہن کے ضمان میں ہے اور جو کچھ دین سے زائد ہے وہ امانت ہے لہذا یہ صرفہ دونوں پر تقسیم ہو جو حصۂ مرتہن کے مقابل میں آئے وہ مرتہن کے ذمہ ہے اورجو امانت کے مقابل ہو وہ راہن کے ذمہ اور اگر مرہون کی قیمت دین سے زائد نہ ہو تو یہ سارے مصارف مرتہن کے ذمہ ہوں گے۔ (درمختار)

مسئلہ ۴: جو مصارف ایک کے ذمہ واجب تھے انہیں دوسرے نے اپنے پاس سے کر دیا اس کی دو صورتیں ہیں ۔ اگر اس نے خود ایسا کیا ہے جب تو متبرع ہے وصول نہیں کر سکتا۔ اور اگر قاضی کے حکم سے ایسا کیا ہے اور قاضی نے کہہ دیا ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے دوسرے کے ذمہ دین ہو گا اس صورت میں وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر قاضی نے خرچ کرنے کا حکم دے دیا مگر یہ نہیں کہا کہ دوسرے کے ذمہ دین ہو گا تو اس صورت میں بھی وصول نہیں کر سکتا۔ (درمختار)

مسئلہ ۵: مرہون پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے اور وہاں قاضی نہیں ہے کہ اس سے اجازت حاصل کرتا یہاں محض مرتہن کا یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ضرورت کی وجہ سے خرچ کیا ہے بلکہ گواہوں سے ثابت کرنا ہو گا کہ ضرورت تھی اوراس لئے خرچ کیا تھا کہ وصول کرلے گا۔ (ردالمحتار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button