بہار شریعت

شہادت میں اختلاف کے متعلق مسائل

شہادت میں اختلاف کے متعلق مسائل

اختلاف شہادت کے مسائل کی بنا چند اصول پر ہے:۔

(۱) حقوق العباد میں شہادت کے لئے دعوی ضروری ہے یعنی جس بات پر گواہی گزری مدعی نے اس کا دعوی نہیں کیا ہے یہ گواہی معتبر نہیں کہ حق العبد کا فیصلہ بغیر مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور یہاں مطالبہ نہیں اور حقوق اللہ میں دعوے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر شخص کے ذمہ اس کا اثبات ہے گویا دعوی موجود ہے۔

(۲) گواہوں نے اس سے زیادہ بیان کیا جتنا مدعی دعوی کرتا ہے تو گواہی باطل ہے اور کم بیان کیا تو مقبول ہے اور اتنے ہی کا فیصلہ ہو گا جتنا گواہوں نے بیان کیا۔

(۳) ملک مطلق ملک مقید سے زیادہ ہے کہ وہ اصل سے ثابت ہوتی ہے اور مقید وقت سبب سے معتبر ہو گی۔

(۴) دونوں شہادتوں میں لفظاً و معنیً ہر طرح اتفاق ہوناضروری ہے اور شہادت و دعوی میں باعتبار معنے متفق ہونا ضرور ہے لفظ کے مختلف ہونے کا اعتبار نہیں ۔ (درر)

مسئلہ ۱ : مدعی نے ملک مطلق کا دعوی کیا یعنی کہتا ہے کہ یہ چیز میری ہے یہ نہیں بتایا کہ کس سبب سے ہے مثلاًخریدی ہے یا کسی نے ہبہ کی ہے اور گواہوں نے ملک مقید بیان کی یعنی سبب ملک کا اظہار کیا مثلاً مدعی نے خریدی ہے یہ گواہی مقبول ہے اور اس کا عکس ہو یعنی مدعی نے ملک مقید کا دعوی کیا اور گواہوں نے ملک مطلق بیان کی یہ گواہی مقبول نہیں بشرطیکہ مدعی نے یہ بیان کیا کہ میں نے فلاں شخص سے خریدی ہے اور بائع کو اس طرح بیان کر دے کہ اس کی شناخت ہو جائے اور خرید نے کے ساتھ قبضہ کا ذکر نہ کرے۔ اور اگر دعوے میں بائع کا ذکر نہیں یا یہ کہ میں نے ایک شخص سے خریدی ہے یا یہ کہ میں نے عبداللہ سے خریدی ہے یا خریدنے کے ساتھ دعوے میں قبضہ کا بھی ذکر ہے اور گواہوں نے ان صورتوں میں ملک مطلق کی شہادت دی تو مقبول ہے۔ (درمختار ، بحرالرائق)

مسئلہ ۲ : یہ اختلاف اس وقت معتبر ہے جب اس شے کے لئے متعدد اسباب ہوں اور اگر ایک ہی سبب ہو مثلاً مدعی نے دعوی کیا کہ یہ میری عورت ہے میں نے اس سے نکاح کیا ہے گواہوں نے بیان کیا کہ اس کی منکوحہ ہے شہادت مقبول ہے۔ (بحر)

مسئلہ ۳ : مدعی نے اپنی ملک کا سبب میراث بتایا کہ وراثۃً میں اس کا مالک ہوں یا مدعی نے کہا کہ یہ جانور میرے گھر کا بچہ اور گواہوں نے ملک مطلق کی شہادت دی یہ گواہی مقبول ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۴ : ودیعت کا دعوی کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے پاس ودیعت رکھی ہے گواہوں نے بیان کیا کہ مدعی علیہ نے ہمارے سامنے اقرار کیا ہے کہ یہ چیز میرے پاس فلاں کی امانت ہے۔ یونہی غصب یا عاریت کا دعوی کیا اور گواہوں نے مدعی علیہ کے اقرار کی شہادت دی یا نکاح کا دعوی کیا اور گواہوں نے اقرار نکاح کی گواہی دی یا دین کا دعوی کیا اور گواہی یہ دی کہ مدعی علیہ نے اپنے ذمہ اس کے مال کا اقرار کیا ہے یا قرض کا دعوی ہے اور گواہی یہ ہوئی کہ اپنے ذمہ مال کا اقرار کیا ہے اور سبب کچھ نہیں بیان کیا ان سب صورتوں میں گواہی مقبول ہے۔ بیع کا دعوی کیا اور اقرار بیع کی شہادت گزری گواہی مقبول ہے۔ دعوی یہ ہے کہ میرے دس من گیہوں فلاں شخص پر بیع سلم کی رو سے واجب ہیں اور گواہوں نے یہ بیان کیا کہ مدعی علیہ نے اپنے ذمہ دس من گیہوں کا اقرار کیا ہے یہ گواہی مقبول نہیں ۔ (بحرالرائق)

مسئلہ ۵ : دونوں گواہوں کے بیان میں لفظاً و معنیً اتفاق ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں لفظوں کے ایک معنے ہوں یہ نہ ہو کہ ہر لفظ کے جدا جدا معنے ہوں اور ایک دوسرے میں داخل ہوں مثلاً ایک نے کہا دو روپے دوسرے نے کہا چار روپے یہ اختلاف ہو گیا کہ دو اور چار کے الگ الگ معنے ہیں یہ نہیں کہا جائے گا کہ چار میں دو بھی ہیں لہذا دو روپے پر دونوں گواہوں کا اتفاق ہو گیا۔ اور اگر لفظ دو ہیں مگر دونوں کے معنی ایک ہیں تو یہ اختلاف نہیں مثلاً ایک نے کہا ہبہ دوسرے نے کہا عطیہ یا ایک نے کہا نکاح دوسرے نے کہا تزویج یہ اختلاف نہیں اور گواہی معتبر ہے۔ (بحر ، درمختار)

مسئلہ ۶ : ایک گواہ نے دو ہزار روپے بتائے دوسرے نے ایک ہزار یا ایک نے دو سو دوسرے نے ایک سو یا ایک نے کہا ایک طلاق یا دو طلاق دوسرے نے کہا تین طلاقیں دیں یہ گواہیاں رد کر دی جائیں گی کہ دونوں میں اختلاف ہو گیا یا ایک نے کہا مدعی علیہ نے غصب کیا دوسرے نے کہا غصب کا اقرار کیا ایک نے کہا قتل کیا دوسرے نے کہا قتل کا اقرار کیا دونوں نامقبول ہیں ۔ اور اگر دونوں اقرار کی شہادت دیتے قبول ہوتی۔ (درمختار)

مسئلہ ۷ : جب قول و فعل کا اجتماع ہو گا یعنی ایک گواہ نے قول بیان کیا دوسرے نے فعل تو گواہی مقبول نہ ہو گی مثلاً ایک نے کہا غصب کیا دوسرے نے کہا غصب کا اقرار کیا دوسری مثال یہ ہے کہ مدعی نے ایک شخص پر ہزار روپے کا دعوی کیا ایک گواہ نے مدعی کا دینا بیان کیا دوسرے نے مدعی علیہ کا اقرار کرنا بیان کیا یہ نامقبول ہے البتہ جس مقام پر قول و فعل دونوں لفظ میں متحد ہوں مثلاً ایک نے بیع یا قرض یا طلاق یا عتاق کی شہادت دی دوسرے نے ان کے اقرار کی شہادت دی کہ ان سب میں دونوں کے لئے ایک لفظ ہے یعنی یہ لفظ کہ میں نے طلاق دی طلاق دینا بھی ہے اور اقرار بھی اسی طرح سب میں لہذا فعل و قول کا اختلاف ان میں معتبر نہیں دونوں گواہیاں مقبول ہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۸ : ایک نے گواہی دی کہ تلوار سے قتل کیا دوسرے نے بتایا کہ چھری سے یہ گواہی مقبول نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۹ : ایک نے گواہی دی ایک ہزار کی دوسرے نے ایک ہزار اور ایک سو کی اور مدعی کا دعوی گیارہ سو کا ہو تو ایک ہزار کی گواہی مقبول ہے کہ دونوں اس میں متفق ہیں اور اگر دعوی صرف ہزار کا ہے تو نہیں مگر جب کہ مدعی کہہ دے کہ تھا تو ایک ہزار ایک سو مگر ایک سو اس نے دیدیا یا میں نے معاف کر دیا جس کا علم اس گواہ کو نہیں تو اب قبول ہے۔ (درمختار) اور اگر گواہ نے ایک ہزار ایک سو کی جگہ گیارہ سو کہا تو اختلاف ہو گیا کہ لفظاً دونوں مختلف ہیں ۔

مسئلہ ۱۰ : ایک گواہ نے دو معین چیز کی شہادت دی اور دوسرے نے ان میں سے ایک معین کی تو جس ایک معین پر دونوں کا اتفاق ہوا اس کے متعلق گواہی مقبول ہے۔ اور اگر عقد میں یہی صورت ہو مثلاً ایک نے کہا یہ دونوں چیزیں مدعی نے خریدی ہیں اور ایک نے ایک معین کی نسبت کہا کہ یہ خریدی ہے تو گواہی مقبول نہیں یا ثمن میں اختلاف ہوا ایک کہتا ہے ایک ہزار میں خریدی ہے دوسرا ایک ہزار ایک سو بتاتا ہے توعقد ثابت نہ ہو گا کہ مبیع یا ثمن کے مختلف ہونے سے عقد مختلف ہو جاتا ہے اور عقدکے دعوے میں ثمن کا ذکر کرنا ضروری ہے کیونکہ بغیر ثمن کے بیع نہیں ہو سکتی ہاں اگر گواہ یہ کہیں کہ بائع نے اقرار کیا ہے کہ مشتری نے یہ چیز خریدی اور ثمن ادا کر دیا ہے تو مقدار ثمن کے ذکر کی حاجت نہیں کیونکہ اس صورت میں فیصلہ کا تعلق عقد سے نہیں ہے بلکہ مشتری کے لئے ملک ثابت کرنا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۱ : مدعی نے پانچ سو کا دعوی کیا اور گواہوں نے ایک ہزار کی شہادت دی مدعی نے بیان کیا کہ تھا تو ایک ہزار مگر پانچ سو مجھے وصول ہو گئے فوراً کہا ہو یا کچھ دیر کے بعد گواہی مقبول ہے اور اگر یہ کہا کہ مدعی علیہ کے ذمہ پانچ سو ہی تھے تو شہادت باطل ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۲ : راہن نے دعوی کیا اور گواہوں نے زر رہن میں اختلاف کیا ایک نے ایک ہزار بتایا دوسرے نے ایک ہزار ایک سو اور راہن زائد کا مدعی ہے یا کم کا بہرحال شہادت معتبر نہیں کہ مقصود اثبات عقد ہے۔ اور اگر مرتہن مدعی ہو اور گواہوں میں اختلاف ہو اور مرتہن زائد کا مدعی ہو تو گواہی معتبر ہے یعنی ایک ہزار کی رقم پر دونوں کا اتفاق ہے اسی کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اگر مرتہن نے کم یعنی ایک ہزار کا دعوی کیا ہے تو گواہی معتبر نہیں ۔ خلع میں اگر عورت مدعی ہو اور گواہوں میں اختلاف ہو تو گواہی معتبر نہیں اور اگر شوہر مدعی ہو تو زیادت کی صورت میں معتبر ہے جیسا دین کا حکم ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۳ : اجارہ کا دعوی ہے اور گواہوں کے بیان میں اجرت کی مقدار میں اسی قسم کا اختلاف ہوا اس کی چار صورتیں ہیں ۔ مستاجر مدعی ہے یا موجر۔ ابتدائے مدت اجارہ میں دعوی ہے یا ختم مدت کے بعد۔ اگر ابتدائے مدت میں دعوی ہوا ہے گواہی مقبول نہیں کہ اس صورت میں مقصود اثبات عقد ہے اور زمانۂ اجارہ ختم ہونے کے بعد دعوی ہوا ہے اور موجر مدعی ہے تو گواہی مقبول ہے اور مستاجر مدعی ہے مقبول نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۴ : نکاح کا دعوی ہے اور گواہوں نے مقدار مہر میں اسی قسم کا اختلاف کیا تو نکاح ثابت ہو جائے گا اور کم مقدار مثلاً ایک ہزار مہر قرار پائے گا مرد مدعی ہو یا عورت۔ دعوے میں مہر کم بتایا ہو یا زیادہ سب کا ایک حکم ہے کیونکہ یہاں مال مقصود نہیں جو چیز مقصود ہے یعنی نکاح اس میں دونوں متفق ہیں لہذا یہ اختلاف معتبر نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۵ : میراث کا دعوی ہو مثلاً زید نے عمرو پر یہ دعوی کیا کہ فلاں چیز جو تمہارے پاس ہے یہ میرے باپ کی میراث ہے اس میں گواہوں کا ملک مورث ثابت کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ وہ شخص مرا اور اس چیز کو ترکہ میں چھوڑا یا یہ کہنا ہو گا کہ وہ شخص مرتے وقت اس چیز کا مالک تھا یا یہ چیز موت کے وقت اس کے قبضے میں تھی یا اس کے قائم مقام کے قبضے میں تھی مثلاً جب مرا تھا یہ چیز اس کے مستاجر کے پاس یا مستعیر یا امین یا غاصب کے ہاتھ میں تھی کہ جب مورث کا قبضہ بوقت موت ثابت ہو گیا تو یہ قبضہ مالکانہ ہی قرار پائے گا کیونکہ موت کے وقت کا قبضہ قبضۂ ضمان ہے ۔ اگر قبضۂ ضمان نہ ہوتا تو ظاہر کر دیتا اس کا ظاہر نہ کرنا کہ یہ چیز فلاں کی میرے پاس امانت ہے قبضۂ ضمان کر دیتا ہے اور جب مورث کی ملک ہوئی تو وارث کی طرف منتقل ہی ہو گی۔ (درمختار ، بحر)

مسئلہ ۱۶ : میراث کے دعوے میں گواہوں کو سبب وراثت بھی بیان کرنا ہو گا فقط اتنا کہنا کافی نہ ہو گا کہ یہ اس کا وارث ہے بلکہ مثلاً یہ کہنا ہو گا کہ اس کا بھائی ہے اور جب بھائی بتا چکا تو یہ بتانا بھی ہو گا کہ حقیقی بھائی ہے یا علاتی ہے یا اخیافی۔ (بحر)

مسئلہ ۱۷ : گواہ کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ اس کے سوا میت کا کوئی وارث نہیں ہے یا یہ کہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا وارث میں نہیں جانتا اس کے بعد قاضی نسب نامہ پوچھے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کوئی دوسرا وارث ہے یا نہیں ۔ (بحر)

مسئلہ ۱۸ : یہ بھی ضروری ہے کہ گواہوں نے میت کو پایا ہو اگر یہ بیان کیا کہ فلاں شخص مر گیا اور یہ مکان ترکہ میں چھوڑا اور خود ان گواہوں نے میت کو نہیں پایا ہے تو یہ گواہی باطل ہے۔ میت کا نام لینا ضرور نہیں اگر یہ کہہ دیا کہ اس مدعی کاباپ یا اس کا دادا جب بھی گواہی مقبول ہے۔ (درمختار ، بحر)

مسئلہ ۱۹ : گواہوں نے گواہی دی کہ یہ مرد اس عورت کا جو مر گئی ہے شوہر ہے یایہ عورت اس مرد کی زوجہ ہے جو مر گیا اور ہمارے علم میں میت کا کوئی دوسرا وارث نہیں ہے عورت کے ترکہ سے شوہر کو نصف دے دیا جائے اور شوہر کے ترکہ سے عورت کو چوتھائی دی جائے اور اگر گواہوں نے فقط اتنا ہی کہا ہے کہ یہ اس کا شوہر ہے یا اس کی بی بی ہے تو یہ حصہ نصف و چہارم نہ دیا جائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ میت کی اولاد ہو اور اس صورت میں زوج کو حصہ کم ملے گا لہذا ایک حد تک قاضی انتظار کرے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۰ : ایک شخص نے مکان کا دعوی کیا گواہوں نے یہ گواہی دی کہ ایک مہینہ ہوا مدعی کے قبضہ میں ہے یہ گواہی مقبول نہیں اور اگر یہ کہیں کہ مدعی کی ملک میں ہے تو مقبول ہے یا کہہ دیں کہ مدعی سے مدعی علیہ نے چھین لیا جب بھی مقبول۔ (ہدایہ) محصل یہ ہے کہ زمانۂ گذشتہ کی ملک پر شہادت مقبول ہے اور زمانۂ گذشتہ میں زندہ کا قبضہ ثابت ہو نا ملک کے لئے کافی نہیں ہے اور موت کے وقت قبضہ ہونا دلیل ملک ہے۔

مسئلہ ۲۱ : مدعی علیہ نے خود مدعی کے قبضہ کا اقرار کیا یا اس کا اقرار کرنا گواہوں سے ثابت ہو گیا تو چیز مدعی کو دلا دی جائے گی۔ (ہدایہ) مدعی علیہ نے کہا کہ میں نے یہ چیز مدعی سے چھینی ہے کیونکہ یہ میری ملک ہے مدعی چھیننے سے انکار کرتا ہے تو اس کو نہیں ملے گی کہ اقرار کو رد کر دیا اور مدعی تصدیق کرتا ہو تو مدعی کو دلائی جائے گی اور قبضہ مدعی کا مانا جائے گا لہذا اس کے مقابل میں جو شخص ہے وہ گواہ پیش کرے یا اس سے حلف لیا جائے۔ (بحر)

مسئلہ ۲۲ : مدعی علیہ اقرار کرتا ہے کہ چیز مدعی کے ہاتھ میں ناحق طریقہ سے تھی یہ قبضۂ مدعی کا اقرار ہو گیا اور جائداد غیر منقولہ میں قبضۂ مدعی کے لئے اقرار مدعی علیہ کافی نہیں بلکہ مدعی گواہوں سے ثابت کرے یا قاضی کو خود علم ہو۔ (بحر)

مسئلہ۲۳ : گواہوں کے بیانات میں اگرتاریخ و وقت کا اختلاف ہو جائے یا جگہ میں اختلاف ہو بعض صورتوں میں اختلاف کا لحاظ کر کے گواہی قبول نہیں کرتے اور بعض صورتوں میں اختلاف کا لحاظ نہیں کرتے گواہی قبول کرتے ہیں ۔ بیع و شرا و طلاق۔ عتق۔ وکالت۔ وصیت۔ دین۔ برأت ۔ کفالہ۔ حوالہ۔ قدف ان سب میں گواہی مقبول ہے۔ اور جنابت۔ غصب۔ قتل۔ نکاح۔ رہن۔ ہبہ۔ صدقہ میں اختلاف ہوا تو گواہی مقبول نہیں ۔ اس کا قاعدہ ٔ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کی شہادت دی جاتی ہے وہ قول ہے یا فعل۔ اگر قول ہے جیسے بیع و طلاق وغیرہ ان میں وقت اور جگہ کا اختلاف معتبر نہیں یعنی گواہی مقبول ہے ہو سکتا ہے کہ وہ لفظ بار بار کہے گئے لہذا وقت اور جگہ کے بیان میں اختلاف پیدا ہو گیا اور اگر مشہود بہ فعل ہے جیسے غصب و جنابت یا مشہود بہ قول ہے مگر اس کی صحت کے لئے فعل شرط ہے جیسے نکاح کہ یہ ایجاب و قبول کا نام ہے جو قبول ہے مگر گواہوں کا وہاں حاضر ہونا کہ یہ فعل ہے نکاح کے لئے شرط ہے یا وہ ایسا عقد ہو جس کی تمامیت فعل سے ہو جیسے ہبہ ان میں گواہوں کا یہ اختلاف مضر ہے گواہی معتبر نہیں ۔ (بحرالرائق)

مسئلہ ۲۴ : ایک شخص نے گواہی دی کہ زید نے اپنی منکوحہ کو ۱۰، ذی الحجہ کو مکہ میں طلاق دی اور دوسرے نے یہ گواہی دی کہ اسی تاریخ میں بی بی کو زید نے کوفہ میں طلاق دی یہ گواہی باطل ہے کہ دونوں میں ایک یقیناً جھوٹا ہے اورا گر دونوں کی ایک تاریخ بلکہ دو تاریخیں ہیں اور دونوں میں اتنے دن کا فاصلہ ہے کہ زید وہاں پہنچ سکتا ہے تو گواہی جائز ہے۔ یونہی اگر گواہوں نے دو مختلف بیبیوں کے نام لے کر طلاق دینا بیان کیا اور تاریخ ایک ہے مگر ایک کو مکہ میں طلاق دینا دوسری کو کوفہ میں اسی تاریخ میں طلاق دینا بیان کیا یہ بھی مقبول نہیں ۔ (بحر)

مسئلہ ۲۵ : ایک زوجہ کے طلاق دینے کے گواہ پیش ہوئے کہ زید نے اپنی اس زوجہ کو مکہ میں فلاں تاریخ کو طلاق دی اور قاضی نے حکم طلاق دے دیا اس کے بعد گواہ دوسرے پیش ہوتے ہیں جو اس تاریخ میں زید کا دوسری زوجہ کو کوفہ میں طلاق دینا بیان کرتے ہیں ان گواہوں کی طرف قاضی التفات بھی نہ کرے گا۔ (بحرالرائق)

مسئلہ ۲۶ : اولیائے مقتول نے گواہ پیش کئے کہ اسی زخم سے مرا اور زخمی کرنے والے نے گواہ پیش کئے کہ زخم اچھا ہو گیا تھا یا دس روز کے بعد مرا اولیا کے گواہ کو ترجیح ہے۔ (درمختار ، بحر)

مسئلہ ۲۷ : وصی نے یتیم کا مال بیچا یتیم نے بائع ہو کر یہ دعوی کیا کہ غبن (ٹوٹے) کے ساتھ مال بیع کیا گیا اور مشتری نے گواہ قائم کئے کہ واجبی قیمت پر فروخت کیا گیا غبن کے گواہ کو ترجیح ہو گی۔ مرد نے عورت سے خلع کیا اس کے بعد مرد نے گواہوں سے ثابت کیا کہ خلع کے وقت میں مجنون تھا اور عورت نے گواہ پیش کئے کہ عاقل تھا عورت کے گواہ مقبول ہیں ۔ بائع نے گواہ پیش کئے کہ نابالغی میں اس نے بیچا تھا اور مشتری نے ثابت کیا کہ وقت بیع بالغ تھا مشتری کے گواہ معتبر ہیں ۔ ایک شخص نے وارث کے لئے اقرار کیا مقرلہ یہ کہتا ہے کہ حالت صحت میں اقرار کیا تھا دیگر ورثہ کہتے ہیں کہ مرض میں اقرار کیا تھا گواہ مقرلہ کے معتبر ہیں اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو ورثہ کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ بیع و صلح و اقرار میں اکراہ اور غیر اکراہ دونوں قسم کے گواہ پیش ہوئے تو گواہ اکراہ اولی ہیں ۔ بائع و مشتری بیع کی صحت و فساد میں مختلف ہیں تو قول اس کا معتبر ہے جو مدعی صحت ہے اور گواہ اس کے معتبر ہیں جو مدعی فساد نہ ہو۔ (بحرالرائق منحۃ الخالق)

مسئلہ ۲۸ : دو شخصوں نے شہادت دی کہ اس نے گائے چرائی ہے مگر ایک نے اس گائے کا رنگ سیاہ بتایا دوسرے نے سفید اور مدعی نے رنگ کے متعلق کچھ نہیں بیان کیا ہے تو گواہی مقبول ہے اور اگر مدعی نے کوئی رنگ متعین کر دیا ہے تو مقبول نہیں ۔ اور اگر ایک گواہ نے گائے کہا دوسرے نے بیل تومطلقاً گواہی مردود ہے۔ اور دعوی غصب کا ہو اور گواہوں نے رنگ کا اختلاف کیا تو شہادت مردود ہے۔ (ہدایہ ، بحر)

مسئلہ ۲۹ : زندہ آدمی کے دین کی شہادت دی کہ اس کے ذمہ اتنا دین تھا گواہی مقبول ہے ہاں اگر مدعی علیہ نے سوال کیا کہ بتائو اب بھی ہے یا نہیں گواہوں نے یہ کہا ہمیں یہ نہیں معلوم تو گواہی مقبول نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۳۰ : مدعی نے یہ دعوی کیا کہ یہ چیز میری ملک تھی اور گواہوں نے بیان کیا کہ اس کی ملک ہے یہ گواہی مقبول نہیں ۔ یونہی اگر گواہوں نے بھی زمانہٌ گذشتہ میں ملک ہونا بتایا کہ اس کی ملک تھی جب بھی معتبر نہیں کہ مدعی کا یہ کہنا میری ملک تھی بتاتا ہے کہ اب اس کی ملک نہیں ہے کیونکہ اگر اس وقت بھی اس کی ملک ہوتی تو یہ نہ کہتا کی ملک تھی۔ اور اگر مدعی نے دعوی کیا ہے کہ میری ملک ہے اور گواہوں نے زمانۂ گذشتہ کی طرف نسبت کی تو مقبول ہے کیونکہ پہلے ملک ہونا معلوم ہے اور اس وقت بھی اسی کی ملک ہے یہ گواہوں کو اسی بنا پر معلوم ہوا کہ وہی پہلی ملک چلی آئی ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۳۱ : مدعی نے دعوی کیا کہ یہ مکان جس کے حدود دستاویز میں مکتوب ہیں میرا ہے اور گواہوں نے یہ گواہی دی کہ وہ مکان جس کے حدود دستاویز میں لکھے ہیں مدعی کا ہے یہ دعوی اور شہادت دونوں صحیح ہیں اگرچہ حدود کو تفصیل کے ساتھ خود نہ بیان کیا ہو۔ یونہی اگر یہ شہادت دی کہ جو مال اس دستاویز میں لکھا ہے وہ مدعی علیہ کے ذمہ ہے اور تفصیل نہیں بیان کی گواہی مقبول ہے۔ یونہی مکان متنازع فیہ کے متعلق گواہی دی کہ وہ مدعی کا ہے مگر اس کے حدود نہیں بیان کئے اگر فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ گواہ کی شہادت متنازع فیہ کے ہی متعلق ہے گواہ مقبول ہے۔ (ردالمحتار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button