مضامین

شرط کسے کہتے ہیں؟ شرط کی تعریف

شرط کی لغوی و اصطلاحی تعریف

شرط کی لغوی تعریف:

شرط کے لغوی معنی ہیں: بیع وغیرہ میں کسی چیز کا پابند بنانا اور پابند بننا۔ اس کی جمع شروط اور شرائط آتی ہے۔ القاموس المحیط میں ہے: ” إلزامُ الشيءِ، والتِزَامُهُ في البيعِ ونحوِه “[1]

شرط کی اصطلاحی تعریف:

علمائے اصولیین نے شرط کی مختلف الفاظ کے ساتھ تعریف  بیان فرمائی ہے:

  1. اللباب: ما يتوقف عليه وجود الشيء، ويكون خارجًا عن ماهيته، ولا يكون مؤثرًا في وجوده[2]
  2. حاشیہ قلیوبی: ما يلزم من عدمه العدم، ولا يلزم من وجوده وجود ولا عدم لذاته[3]
  3. التعریفات: الشرط: ما يتوقف ثبوت الحكم عليه.[4]
  4. شرط خارج موقوف علیہ کو کہتے ہیں یعنی حقیقت شی میں داخل نہ ہو پرا س کے بغیر شی موجود نہ ہو۔[5]

 تعریفات کا خلاصہ:

  1. شرط وہ چیز ہوتی ہے کہ اگر یہ وجود میں نہ آئے تو  مشروط  بھی وجود میں  نہیں آتا۔
  2. شرط وجود میں آجائے تو ضروری نہیں کہ مشروط بھی وجود میں آجائے ۔
  3. شرط ، مشروط کی حقیقت و ماہیت میں داخل نہیں ہوتی بلکہ ایک خارجی چیز ہوتی ہے۔

مثال نمبر1، اور وضاحت:

نماز کے لیے طہارت شرط ہے۔ یعنی طہارت کا نماز کے ساتھ ایسا تعلق ہے کہ اس کے بغیر نماز وجود میں نہیں آ سکتی لیکن طہارت نماز کی حقیقت  و ماہیت میں داخل نہیں ہے یعنی نماز جن مخصوص افعال کے مجموعے کا نام ہے طہارت اس میں شامل نہیں ہے۔ نیز ایسا بھی نہیں ہے کہ طہارت کرنے سے ہی  نمازہو جائے ۔

مثال نمبر2، اور وضاحت:

بیع میں مبیع (بیچی جانے والی چیز) کا ملکیت میں ہونا شرط ہے۔ یعنی ملکیت کا بیع کے ساتھ ایسا تعلق ہے کہ اگر مبیع میں ملکیت نہ ہو تو بیع منعقد ہی نہیں ہوتی لیکن ایسا نہیں ہے کہ جیسے ہی کوئی چیز ملکیت میں آئے بیع کا تحقق ہو جائے بلکہ بیع الگ چیز ہے اور ملکیت الگ چیز ۔

[1] : القاموس المحیط، جلد1، صفحہ 673، مادہ شرط، موسسۃ الرسالۃ، بیروت

[2] : اللباب فی شرح الکتاب، جلد1، صفحہ 61، مکتبۃ العلمیہ، بیروت

[3] : حاشیہ قلیوبی علی  شرح جلال محلی ، جلد1، صفحہ200، دار الکفر، بیروت

[4] : مصدر السابق

[5] : فتاوی رضویہ، جلد10 ، صفحہ 786، رضا فاؤنڈیشن، لاہور

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button