ARTICLESشرعی سوالات

شبِ مزدلفہ میں مغرب و عشاء کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھنا یعنی جمع بین الصلاتین کیا ہے ؟ نیز بتائیے کہ مغرب و عشاء ملا کر پڑھنے کی صورت میں درمیان میں سنّتیں پڑھے یا نہیں اور اگر پڑھ لے تو کیا حکم ہے ؟ اور یہ بھی بتائیے کہ جماعت کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں ہر نماز کے لئے الگ اقامت کہی جائے یا ایک اقامت ہی کافی ہے ؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : امام اعظم امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مزدلفہ میں مغرب کی نماز کو مؤخر کر کے عشاء کے وقت میں پڑھنا واجب ہے اور ان کی دلیل نبی ا کا قول اور فعل ہے ، چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما مروی ہے ، فرماتے ہیں :

’’دَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالشَّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَ لَمْ یُسْبِغِ الْوُضُوْئَ، فَقُلْتُ لَہٗ : الصَّلَاۃَ، قَال : ’’اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ‘‘ فَرَکِبَ فَلَمَّا جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ نَزَلَ
فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ، ثُمَّ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ الخ (104)

یعنی، رسول اللہ ا عرفات سے لوٹے ایک گھاٹی پر اُتر کر بول فرمایا پھر وضو فرمایا اور خفیف وضو فرمایا، میں نے عرض کی نماز، آپ نے فرمایا’’نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے ‘‘ (یعنی مزدلفہ میں ) پھر سوار ہوئے جب مزدلفہ آئے تو آپ ا اُترے ، آپ ا نے وضو فرمایا اور مکمل وضو فرمایا پھر نماز کی اقامت کہی گئی پھر آپ انے مغرب کی نماز پڑھی الخ۔ اسی طرح دوسری روایت ہے کہ

عن ابن عمر قال جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ المَغْرِبِ وَ الْعِشَائِ بِجَمْعٍ صَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا وَ الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ الخ رواہ مسلم فی ’’صحیحہ‘‘ فی کتاب الحج، باب الإفاضۃ من عرفات الخ، الحدیث : 29/1288

یعنی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء نماز جمع کر کے پڑھی آپ ا نے مغرب کی تین رکعات اور عشاء کی دو رکعت پڑھیں ۔ تو مندرجہ بالا احادیث میں سے حدیث اسامہ میں ہے کہ جب انہو ں نے نبی ا کو نماز مغرب یاد دلائی تو آپ نے فرمایا :

’’اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ‘‘

یعنی نماز کا وقت آگے ہے ۔ اس میں اشارہ ہے کہ تأخیر واجب ہے اور تأخیر اس لئے واجب ہے کہ مزدلفہ میں دونوں نمازوں کو جمع کر کے پڑھا جا سکے اسی لئے جب کوئی راستے میں مغرب پڑھ لے جب تک طلوع فجر نہ ہو اس پر اعادہ واجب ہوتا ہے وہ اس لئے کہ دونوں نمازیں جمع کی جا سکیں اور علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

ہٰذا إشارۃ إلی أن التأخیر واجب، إنما وجب لیمکنہ الجمع بین الصلاتین بالمزدلفۃ فکان علیہ الإعادۃ ما لم یطلع الفجر لیصیر جامعاً بینہما (105)

یعنی، یہ اشارہ ہے اس طرف کہ تأخیر واجب ہے اور یہ تأخیر اس لئے واجب ہے کہ مزدلفہ میں دونوں نمازیں جمع کی جا سکیں تو جب تک طلوعِ فجر نہ ہو تو اس پر اعادہ واجب ہے تاکہ وہ دونوں نمازوں کو جمع کرنے والا ہو جائے ۔ اور پھر مشاہدہ یہی ہے کہ ابھی عشاء کا بہت وقت باقی ہوتا ہے لوگ راستے میں ہی نمازیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور ہمارے حنفی بھائی بھی ان کی دیکھا دیکھی نماز پڑھ لیتے ہیں جب کہ نمازِ مغرب و عشاء کو عشاء کے وقت مزدلفہ میں پڑھنا واجب ہے تو ایسی صورت میں یہ لوگ ترکِ واجب کا ارتکاب کرتے ہیں جب یہ لوگ مزدلفہ پہنچ جائیں تو ان پر لازم ہے کہ نمازِ مغرب راستہ میں پڑھنے کی صورت میں اس کا اعادہ کریں اور اگر دونوں ہی راستے میں پڑھ لی تھیں تو دونوں کا اعادہ کریں کیونکہ ان کو راستے میں مغرب نماز پڑھنا جائز نہ تھا، چنانچہ امام ابو الحسین قدوری متوفی 428ھ لکھتے ہیں :

و من صلّی المغرب فی الطریق لم یجز عند أبی حنیفۃ و محمد (106)

یعنی، جس نے راستے میں نمازِ مغرب پڑھ لی تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک جائز نہ ہوئی۔ اور جب تک طلوع فجر نہ ہو اعادہ لازم ہے ، چنانچہ علامہ قاسم بن قطلوبغا مصری حنفی متوفی 879ھ لکھتے ہیں :

و علیہ إعادتہا ما لم یطلع الفجر و قال أبو یوسف یجزیہ و قد أساء و رجح فی ’’الہدایۃ‘‘ و غیرہا دلیلہا و اعتمد قولہما المحبوبی و النسفی (107)

یعنی، اور جب تک فجر طلوع نہ ہو اس پر (راستے میں پڑھی ہوئی) نماز کا اعادہ واجب ہے اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں راستے میں پڑھی ہوئی نماز اُسے جائز ہو گئی اور اس نے (راستے میں نماز پڑھ کر) اسائت کا ارتکاب کیا(یعنی بُرا کیا) اور ’’ہدایہ‘‘ وغیرہما میں طرفین کی دلیل کو ترجیح دی گئی اور ان دونوں ائمہ کے قول پر محبوبی (نے وقایۃ الروایہ میں ) اور نسفی نے (کنز الدقائق میں ) اعتماد کیا۔

اور اگر کسی نے مزدلفہ آ کر راستے میں پڑھی نماز کا اعادہ نہ کیا یہاں تک کہ فجر کا وقت شروع ہو گیا تو اعادہ ساقط ہو جائے گا چنانچہ علامہ مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

و إذا طلع لا یمکنہ الجمع فسقطت الإعادۃ (108)

یعنی، فجر طلوع ہو جائے اس کے لئے جمع بین الصلاتین ممکن نہ رہے تو اعادہ ساقط ہے ۔ اور ترک واجب و عدم اعادہ کے باوجود ایسے شخص پر دَم وغیرہ کچھ لازم نہ ہو گا کیونکہ یہ واجب اُن واجبات میں سے ہے کہ جن کے ترک پر دَم لازم نہیں آئے گا چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

دویم آنکہ ترک کنند تاخیر مغرب را برائے جمع اُو باعشاء در مزدلفہ (109)

یعنی، دوسرا یہ کہ مغرب کو عشاء کے ساتھ مزدلفہ میں پڑھنے کے لئے مغرب کی تاخیر کو ترک کر دے ۔ اور عدم وجوب دَم کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اماعدم وجوبِ دم در ترک تاخیر مغرب برائے جمع او باعشا در مزدلفۃ پس بواسطہ انکہ تصریح واقع شدہ است از ابی حنیفہ بآنکہ چون تاخیر نکرد مغرب در شب مزدلفہ بلکہ ادا کرد ہر نمازی را در وقت خود پس او ترک کرد واجب را در حق نمازِ مغرب و لیکن چون طالع گشت فجر از شب مزدلفہ منقلب گشت مغرب بجواز و زائل گشت نقصان از وی (110)

یعنی، نمازِ مغرب کو عشاء کے ساتھ ملا کر مزدلفہ میں پڑھنے کے لئے مؤخّر کرنے کے ترک پر دَم کا واجب نہ ہونا اس واسطے سے ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے تصریح واقع ہوئی ہے کہ جب مزدلفہ کی رات مغرب کو مؤخّر نہ کرے بلکہ اسے اپنے وقت پر ہی ادا کر لے اور واجب کو ترک کر دے تو اس نے نمازِ مغرب کے حق میں واجب کو چھوڑ دیا، لیکن شبِ مزدلفہ کی فجر طلوع ہو جائے تو مغرب کا فرض پھر کے جائز ہو جائے گا اور اس سے (ترکِ واجب کا) نقصان زائل ہو جائے گا۔ اور مغرب و عشاء کے مابین سنّتیں و نوافل کچھ نہیں پڑھے گا کیونکہ مندرجہ بالا سطور میں بیان کردہ حدیثِ اُسامہ میں ہے :

’’فَلَمَّا جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ نَزَلَ وَ تَوَضَّأَ وَ أَسْبَغُ الْوُضُوْئَ ثُمَّ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ کُلُّ إِنْسَانٍ بَعِیْرَہٗ فِیْ مَنْزِلِہٖ ثُمَّ أُقِیْمَتِ الْعِشَآئُ فَصَلاَّہَا وَ لَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا رواہ البخاری و مسلم۔ و اللفظ لمسلم

یعنی، رسول اللہ ا جب مزدلفہ تشریف لائے آپ اُترے ، آپ نے وضو فرمایا اور مکمل وضو فرمایا پھر نماز کی اقامت کہی گئی پھر آپ نے مغرب کی نماز پڑھی ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اس کی جگہ بٹھا دیا پھر عشاء کی اقامت کہی گئی آپ نے نمازِ عشاء پڑھی اور آپ نے ان دونوں (یعنی مغرب و عشاء کے فرائض) کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ تو اس حدیث میں تصریح ہے کہ آپ انے مغرب و عشاء کے مابین کوئی نماز نہیں پڑھی، اس لئے فقہاء احناف نے فرمایا کہ حاجی درمیان میں سنّتیں نہیں پڑھے گا، چنانچہ امام ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

لا یتطوّع بینہما لأنہ یخل بالجمع (111)

یعنی، نمازِ مغرب و عشاء کے مابین نفل نہیں پڑھے گا کیونکہ یہ جمع کو مُخل ہے ۔ اور رہی یہ بات کہ یہاں پر دونوں نمازیں ایک اذان او رایک اقامت یا ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی جائیں گی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حاجی اس روز مغرب و عشاء ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ عشاء کے وقت میں ادا کرے گا، علامہ مرغینانی لکھتے ہیں :

و لنا روایۃ جابر رضی اللہ عنہ ’’أَنَّ النَّبِیَّ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃ و السَّلَامُ جَمَعَ بَیْنَہُمَا بِأَذَانٍ وَ إِقَامَتٍ وَاحِدَۃٍ‘‘ و لأن العشاء فی وقتہ فلا یفرد بالإقامۃ إعلاماً بخلاف العصر بعرفۃ لأنہ مقدم علی وقتہ فأفرد بہا لزیادۃ الإعلام (112)

یعنی، (اگرچہ مندرجہ بالا حدیث میں دو اقامتوں کا ذکر ہے مگر) ہماری دلیل حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ’’نبی انے مغرب اور عشاء دونوں کو ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ جمع فرمایا‘‘ (دوسری دلیل یہ ہے کہ) کیونکہ عشاء انپے وقت پر ہے لہٰذا خبر دینے کے لئے علیحدہ سے اقامت نہیں کہی جائے گی بر خلاف عرفات میں نمازِ عصر کے (کہ جمع کی شرائط پائی جانے کی صورت میں وہاں اس کے لئے الگ اقامت تھی) کیونکہ (وہاں ) وہ اپنے وقت پر مقدم تھی تو خبر دینے کے لئے اقامت الگ سے کہی گئی۔ ہاں اگر مغرب پڑھ کر اس کے بعد سنّتیں پڑھ لے تو عشاء کے لئے الگ سے اقامت کا حکم ہو گا، چنانچہ علامہ مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

و لو تطوّع أو تشاغل بشیٔ أعاد الإقامۃ لوقوع الفصل (113)

یعنی، اگر (مغرب و عشاء کے فرائض کے درمیان سنّتیں یا) نفل پڑھ لے یا کسی چیز میں مشغول ہو گیا تو فصل (جدائی) واقع ہونے کی وجہ سے (عشاء کے لئے ) اقامت کا اعادہ کرے گا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعا، 24 شوال المکرّم 1428ھ، 7 نوفمبر 2007 م (415-F)

حوالہ جات

104۔ رواہ البخاری فی ’’صحیحہ‘‘ فی کتاب الوضوء ، باب إسباغ الوضوء، الحدیث : 139، 1/45 و أیضاً فی باب الجمع بین الصلاتین بالمزدلفۃ، برقم : 1672، 1/412۔413، و مسلم فی ’’صحیحہ‘‘ فی کتاب الحج، باب الإفاضۃ من عرفات إلی الخ، الحدیث : 276/1280، 2/934، و اللفظ لمسلم

105۔ الہدایۃ،کتاب الحج، باب الإحرام، 1۔2/176

106۔ مختصر القدوری ، کتاب الحج، ص68

107۔ التصحیح و الترجیح، کتاب الحج، ص210

108۔ الہدایۃ، المجلد (1۔2)، کتاب الحج، باب الإحرام، ص176

109۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب،مقدمۃ الرسالہ ،فصل سیوم ص45

110۔ حیاۃ القلوب فی زیارہ المحبوب، مقدمۃ الرسالہ، فصل سیوم، ص46

111۔ الہدایۃ، کتاب الحج، باب الإحرام، 1۔2/176

112۔ الہدایۃ، کتاب الحج، باب الإحرام، 1۔2/176

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button