شرعی سوالات

سکول،کالج وغیرہ کا جون جولائی کی چھٹیوں کی فیس لینا جائز ہے

سوال:

کچھ عرصہ قبل نیو کراچی میں ایک مفتی صاحب حلال و حرام کے موضوع پر تقریر کر رہے تھے ۔ تقریر کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سکولوں میں چونکہ ماہ جون اور جولائی میں تدریس نہیں ہوتی لہذا ان مہینوں کی فیس لینا اسکول والوں کے لئے جائز نہیں ۔مفتی صاحب کی تقریر نے اس علاقہ میں سکول مالکان کے لئے مسئلہ کھڑا کر دیا ہے ۔صورت حال یہ ہے کہ قانون کے مطابق سکولوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسٹاف کو جون اور جولائی کی تنخواہیں پوری پوری ادا کریں مزید یہ کہ جو اسکول کرایے کی عمارتوں میں قائم ہیں انہیں ان مہینوں کا کرایہ بھی دینا پڑ تا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جون، جولائی کی فیسیں وصول نہیں کی جائیں تو اسٹاف کی تنخواہ اور دیگر اخراجات کیسے پورے ہوں گے ؟

جواب:

معاہدات و عقود بعض مشروط ہوتے ہیں اور یہ زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس سے بعد میں کوئی تنازع پیدا نہیں ہوتا۔ لہذا سکول کی انتظامیہ کو چاہیے کہ داخلہ فارم کی شرائط میں واضح طور پر لکھ دے کہ طالب علم کو بارہ ماہ کی فیسیں پوری ادا کرنی ہوں گی ۔سالا نہ تعطیلات اس لئے نہیں ہوتیں کہ اسکول کی انتظامیہ یا اساتذہ پڑھانا نہیں چاہتے ، بلکہ ان تعطیلات کا نظام حکومت کی طرف سے جبری ہوتا ہے اور یہ ایک عالمی روش ہے ۔اگر داخلہ فارم کے معاہدے میں لکھا نہ بھی ہو تب بھی یہ معہود (Under stood) ہوتا ہے اور فقہی قاعدہ ہے کہ "المعهود كالمشروط” یعنی یہ ایک ایسی شرط ہے جو فریقین کے ذہن میں بھی تقریباً طے شدہ ہے اور خارج میں بھی تعامل عام (General practice ) اسی پر ہے۔ لہذا سکولوں کے لئے ایام تعطیلات کی فیس لینا جائز ہے اور اس میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس تنازع کے حل کے لئے فریقین یہ بھی کر سکتے ہیں کہ سالانہ بارہ ماہ کی فیسوں کی جو مجموعی رقم بنتی ہے، اسے دس ماہانہ قسطوں میں تقسیم کر دیں اور اس طرح تعطیلات کے مہینوں کے بارے میں یہ نزاع پیدا ہی نہیں ہو گا ۔اور یہ بات بھی درست ہے کہ اسکول کی انتظامیہ کو اپنے عملے کو بارہ ماہ کی تنخواہ دینی ہوتی ہے ، اور اسی طرح بلڈنگ کا کرایہ اور دیگر واجبات بھی ادا کرنے ہوتے ہیں ،لہذا مفتی صاحب کا حقائق کو معلوم کئے بغیر اس پر حرمت کا فتوی لگانا درست نہیں ہے، البتہ ان اعلی کیٹگری کے تعلیمی اداروں کے خلاف آواز اٹھانا درست ہے، جو غیر معمولی فیسیں اور مختلف عنوانات کے تحت دیگر رقوم بھی بٹورتے ہیں۔ جس کی وجہ سے تعلیم صنعت بن چکی ہے، بلکہ یہ سب سے کامیاب اور منافع بخش صنعت ہے، اور یہی سبب ہے کہ اعلی معیار کے تعلیمی ادارے صرف أمراء ، صنعت کاروں، اعلی مراتب کے بیورو کریٹ اور اہل ثروت کے بچوں کے لئے مختص ہو کر رہ گئے ہیں ۔اور اس طرح تمؤل و غربت پر مبنی یہ ایک طبقاتی نظام بن چکا ہے، جس میں دولت سے محروم طبقات استحقاق ، اہلیت ،محنت اور قابلیت کے باوجود وافر دولت نہ ہونے کے سبب مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں، اولین مرحلے ہی میں حاکم و محکوم کی منزلیں جدا ہو جاتی ہیں ۔

(تفہیم المسائل، جلد4،صفحہ 435،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button