شرعی سوالات

سونا ادھار پیسوں کے بدلے خریدنا ناجائز ہے

سوال:

 کیا سونا ادھار پیسوں کے بدلے خریدا جا سکتا ہے؟ مثلاً زید نے دو تولہ سونا خریدا اور پیسے دو ماہ بعد ادا کئے تو اس کی شرعی صورت کیا ہو گی؟ جبکہ علامہ ابن عابدین شامی نے رد المحتار باب الربا میں اس کو جائز قرار دیا ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نوٹوں کے ذریعے  لین دین پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں  ”ان نوٹوں کے ذریعے سونے اور چاندی کی  خریداری کو اس لیے ناجائز قرار دینا کہ یہ بیع صرف ہے اور بیع صرف میں دونوں طرف سے مجلس پر قبضہ کرنا ضروری ہے، جو یہاں نہیں پایا گیا، ان تمام باتوں میں ناقابل تحمل حرج لازم آتا ہے، حالانکہ اس قسم کے معاملات میں شریعت مروجہ عرف کو معتبر مانتے ہوئے اس میں سہولت اور آسانی پیدا کرتی ہے۔ “ کیا یہ بیع بیع صرف میں داخل ہے یا نہیں؟

جواب:

ایسے عوضین کے تبادلے کو ”بیع صرف“ کہتے ہیں، جن میں سے ہر ایک ثمن کی جنس سے ہو۔ چاندی کی چاندی کے عوض اور سونے کی سونے کے عوض خرید و فروخت صرف اس صورت میں جائز ہے کہ مقدار ایک ہو، مقدار میں کمی بیشی سود کے زمرے میں آئے گی لیکن اگر جنس ایک نہیں ہے تو کمی بیشی جائز ہے یعنی سونے کی چاندی کے عوض مقدار میں تفاوت کے ساتھ خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

 (تفہیم المسائل، جلد8، صفحہ316،ضیا القران پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button