شرعی سوالات

سود کے طور پر دی ہوئی رقم کو قرض سے مائنس کیا جائے گا

سوال:

مارکیٹ یونین میں اکثر سود کے متعلق کیس آ تے ہیں ۔ ایسا ہی ایک کیس آیا ہے، دکان دار نے کاریگر سے دو لاکھ کا سونا لیا باہمی رضامندی سے سود ( منافع) طے کر لیا۔ چند ماہ میں ہی دونوں کے درمیان تنازع ہو گیا کہ میں اب منافع نہیں دے سکتا۔ دکان دار اب تک تیس ہزار روپے منافع یعنی سود میں دے چکا ہے اور دس ہزار باقی ہیں ۔اب معلوم یہ کرنا ہے : جو منافع ( سود) کاریگر کھا چکا ہے ، وہ رقم واپس ہو گی ؟  یا جو رقم ( سود ) باقی ہے ،وہ ختم ہو گی اور کاریگر کی اصل رقم کتنی واپس کی جائے گی ؟

جواب:

سودی لین دین کا معاہدہ اصلا ہی گناہ و حرام تھا اور اس کے لئے سود لینے اور دینے کا معاہدہ کر نے والے دونوں گناہ گار ہیں اور یہ گناہ کبیرہ ہے لہذا دونوں کو اپنے اپنے گناہ کا صدق دل سے اعتراف کر کے اللہ تعالی سے تو بہ کرنی چاہیے ، جو رقم سودی قرض لینے والے شخص نے بطور سود ادا کی ہے ،اسے قرض کی کل رقم سے وضع کر کے باقی اصل رقم قرض خواہ کو ادا کر دی جائے ۔سود کے نام پر جو رقم قرض خواہ نے لی ہے ،وہ اس کے لئے حرام ہے۔

(تفہیم المسائل، جلد6،صفحہ 406،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button