شرعی سوالات

سوال:چہرے کے کون سے بال داڑھی میں شمار ہوتے ہیں ؟کہ جن کو مونڈنا یا ایک مٹھی سے کم کرنا گناہ ہے۔

سوال:چہرے کے کون سے بال داڑھی میں شمار ہوتے ہیں ؟کہ جن کو مونڈنا یا ایک مٹھی سے کم کرنا گناہ ہے۔

جواب:داڑھی تین جگہ پر ہوتی ہے:

(1)قلموں سے نیچے کنپٹیوںپر(2)جبڑوں پر(3)ٹھوڑی پر۔کانوں پر یا گالوں پر اُگنے والے بال داڑھی میں شامل نہیں لہذا ان کو کاٹنے میں حرج نہیں۔امام اہلسنت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ، جبڑوں،ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضاً اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ ہوتا ہے ،جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے(بال) ہوتے ہیںوہ داڑھی سے خارج ہیں،یوں گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں ،یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا وممتاز ہوتے ہیںاس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مخروطی شکل پر جانبِ ذقن(ٹھوڑی کی جانب)جاتا ہے یہ بال اس راہ سے جدا ہوتے ہیں،نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوتِ نامیہ(بڑھنے کی طاقت)،ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسااوقات ان کی پرورش باعثِ تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے ،جو شرعاً پسندیدہ نہیں” (فتاوی رضویہ،ج22،ص596،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)بُچی اور کوٹھوں کاحکم:

سوال:بُچی کومنڈانا کیسا ہے؟اور بچی کے اردگرد بالوں کا کیا حکم ہے؟

جواب:یہ دونوں داڑھی شریف میں شامل ہیں او ران کا منڈاناداڑھی کا منڈانا ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے’’نتف الفنیکین بدعۃ وھو جنب العفقۃوھی شعر الشفۃ السفلی ‘‘ترجمہ:دونوں کوٹھوں کو اکھاڑنا بدعت ہے اور وہ بچی کے دونوں جانب بال ہیں اور بچی نچلے ہونٹ کے بال ہیں۔ (فتاوی ہندیہ،ج5،ص358،نورانی کتب خانہ،پشاور)

امام اہلسنت مجدددین وملت امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

"یہ (بچی کے اردگرد )بال بداہۃً سلسلۂ ریش میں واقع ہیںکہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے تو انہیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہِ وجیہ نہیں،وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں جنہیں عربی میں عنفقۃ اور ہندی میں بچی کہتے ہیں داخلِ ریش ہیں کما نص علیہ امام العینی وعنہ نقل فی السیرۃ الشامیۃ(جیسا کہ امام بدرالدین عینی نے اس کی تصریح فرمائی اور ان سے سیرتِ شامیہ میں نقل کیا گیا)،ولہذا امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہوا کہ جو کوئی انہیں منڈاتا اس کی گواہی رد فرماتے کما ذکرہ الشیخ المحدث فی مدارج النبوۃ(جیسا کہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں اس کو ذکر فرمایا)، تو بیچ میں یہ دونوں طرف کے بال جنہیں عربی میں فنیکین،ہندی میں کوٹھے کہتے ہیںکیونکر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں ،داڑھی کے باب میں حکم احکم حضورپرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اعفوا اللحی واوفروااللحی(داڑھیاں بڑھاؤ اور زیادہ کرو)ہے ،تو اس کے کسی جزکا مونڈنا جائز نہیں لاجرم علماء نے تصریح فرمائی کہ کوٹھوں کا نتف یعنی اکھیڑنا بدعت ہے ،امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسے شخص کی گواہی ردفرمائی”

(فتاوی رضویہ،22،ص597،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

"بچی کے اغل بغل کے بال مونڈانا یا اکھیڑنا بدعت ہے”

(بہار شریعت،حصہ16،ص585،مکتبۃالمدینہ،کراچی)بے ریش بچے کی امامت:

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button