شرعی سوالات

سوال:چار رکعتوں والی نماز میں امام قعدہ اولیٰ میں بیٹھااور کافی دیر ہوگئی تو مقتدی نے لقمہ دے دیا اور امام نے اس کا لقمہ لے کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو اس صورت میں لقمہ دینے والے اور لینے والے کی نماز کاکیاحکم ہے ؟

سوال:چار رکعتوں والی نماز میں امام قعدہ اولیٰ میں بیٹھااور کافی دیر ہوگئی تو مقتدی نے لقمہ دے دیا اور امام نے اس کا لقمہ لے کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو اس صورت میں لقمہ دینے والے اور لینے والے کی نماز کاکیاحکم ہے ؟

جواب:صورت مسئولہ میںمقتدی کو لقمہ دینے کی اجازت نہیں،اگر لقمہ دے گا تو دینے والے کی نماز ٹوٹ جائے گی اور امام لے گا تو امام کی اور سب مقتدیوں کی نماز ٹوٹ جائے گی،ہاں اگر امام سلام پھیرنے لگے تو اس وقت لقمہ دے سکتا ہے۔ امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’جب امام کو قعدۂ اولیٰ میں دیر ہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ(امام) قعدۂ اخیرہ سمجھا ہے ،تنبیہ کی تو دوحال سے خالی نہیں:

(1)یا تو واقع میں اس کا گمان غلط ہوگا یعنی امام قعدۂ اولیٰ ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی ،جب تو ظاہر ہے کہ مقتدی کا بتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہوا تو یقینا کلام ٹھہرا اور مفسدِ نماز ہوا ۔

(2)یااس کا گمان صحیح تھا ،غور کیجئے تو اس صورت میں بھی اس بتانے کا محض لغو وبے حاجت واقع ہونا اور اصلاحِ نماز سے اصلاً تعلق نہ رکھنا ثابت کہ امام قعدۂ اولیٰ میں اتنی تاخیر کرچکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تو لاجرم یہ تاخیر بقدرِ کثیرہوئی اور جو کچھ ہونا تھا یعنی ترکِ واجب ولزوم سجدۂ سہو وہ ہوچکا اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہوسکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیا جائے کہ غایت درجہ وہ بھول کر سلام پھیر دے گاپھر اس سے نماز تو نہیں جاتی وہی سہو کا سہو ہی رہے گا ، ہاں جس وقت سلام شروع کرتا اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کو بتانا چاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل وفساد ِ نماز کا اندیشہ ہے کہ یہ تو اپنے گمان میں نماز تمام کرچکا،عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی قاطع نماز اس سے واقع ہوجائے،اس سے پہلے نہ خلل واقع کا ازالہ تھا نہ خلل آئندہ کا اندیشہ تو سوا فضول و بے فائدہ کے کیا باقی رہا لہذامقتضائے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فسادِ نمازہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد7،صفحہ264،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

ہاں اگر لقمہ دینے والااتنا قریب ہے کہ امام کی آواز اس نے سنی کہ التحیات کے بعد اس نے درود شریف شروع کیا تو جب تک امام اللھم صل علیسے آگے نہیں بڑھا ہے یہ سبحان اﷲکہہ کربتائے اور اگر اللھم صل علی سیدنا یا صل علی محمد کہہ لیا ہے تو اب بتانا جائز نہیں بلکہ انتظار کرے ، اگر امام کو خود یاد آئے اور کھڑا ہوجائے تو ٹھیک ہے اور اگر سلام پھیرنے لگے تو اس وقت بتائے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے ’’یہ اتنا قریب ہے کہ اس کی آواز اس نے سنی کہ التحیات کے بعد اس نے درود شریف شروع کیا تو جب تک امام اللھم صل علی سے آگے نہیں بڑھا ہے یہ سبحان اﷲکہہ کربتائے اور اگر اللھم صل علی سیدنا یا صل علی محمد کہہ لیا ہے تو اب بتانا جائز نہیں بلکہ انتظار کرے ، اگر امام کو خود یاد آئے اور کھڑا ہوجائے فبہا اور اگر سلام پھیرنے لگے تو اس وقت بتائے ، اس سے پہلے بتائے گا تو بتانے والے کی نماز جاتی رہے گی اور اس کے بتانے سے امام لے گا تو اس کی اور سب کی جائے گی۔ (فتاوی رضویہ ،جلد8 ، صفحہ212 ، رضافاؤنڈیشن ، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button