شرعی سوالات

سوال:پندرہ دن یکمشت نہ کی ،ذہن ہے کہ کام دوچار دن میں ہوجائے گا،مگر نہ ہوا،کرتے کرتے پندرہ سے زیادہ دن ہوگئے توکیا حکم ہے؟

سوال:پندرہ دن یکمشت نہ کی ،ذہن ہے کہ کام دوچار دن میں ہوجائے گا،مگر نہ ہوا،کرتے کرتے پندرہ سے زیادہ دن ہوگئے توکیا حکم ہے؟

جواب:مسافر کسی کام کے لیے یا ساتھیوں کے انتظار میں دو چار روز یا تیرہ چودہ دن کی نیت سے ٹھہرا یا یہ ارادہ ہے کہ کام ہو جائے گا تو چلا جائے گا اور دونوں صورتوں میں اگر آجکل آجکل کرتے برسیں گزر جائیں جب بھی مسافر ہی ہے، نماز قصر پڑھے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر، ج1، ص139)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button