شرعی سوالات

سوال:وترپڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

سوال:وترپڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب:نماز وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدہ اُولیٰ واجب ہے اور قعدہ اُولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے جیسے مغرب میں کرتے ہیں اُسی طرح کرے اور اگر قعدہ اُولیٰ بھول کر کھڑا ہوگیا تو لوٹنے کی اجازت نہیں بلکہ سجدہ سہو کرے۔ (درمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج2، ص532)

وتر کی تینو ں رکعتوں میں مطلقاً قراء ت فرض ہے اور ہر ایک میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب اور بہتر یہ ہے کہ پہلی میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ یا اِنَّا اَنْزَلْنَادوسری میں قُلْ یٰـاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ تیسری میں قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھے۔ اور کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے، تیسری رکعت میں قراء ت سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر اللہ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں پھر ہاتھ باندھ لے اور دعائے قنوت پڑھے، دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں، سب میں زیادہ مشہوردُعا یہ ہے۔اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَ نَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ ۔

دُعائے قنوت کے بعد درود شریف پڑھنا بہتر ہے۔ (درمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج2، ص534)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button