شرعی سوالات

سوال:نماز میں کون سی چیزیں مکروہ تنزیہی ہیں؟

سوال:نماز میں کون سی چیزیں مکروہ تنزیہی ہیں؟

جواب:نماز کے مکروہاتِ تنزیہیہ درج ذیل ہیں:

(1)سجدہ یا رکوع میں بلا ضرورت تین تسبیح سے کم کہنا(2)کام کاج کے کپڑوں سے نماز پڑھنا جب کہ اس کے پاس اور کپڑے ہوں ورنہ کراہت نہیں۔(3)منہ میں کوئی چیز لیے ہوئے نماز پڑھنا پڑھانا مکروہ ہے، جب کہ قراء ت سے مانع نہ ہو اور اگر مانع قراء ت ہو، مثلاً آواز ہی نہ نکلے یا اس قسم کے الفاظ نکلیں کہ قرآن کے نہ ہوں، تو نماز فاسد ہو جائے گی۔(4)نماز میں اُنگلیوں پر آیتوں اور سورتوں اور تسبیحات کا گننا (5)ہاتھ یا سر کے اشارے سے سلام کا جواب دینا، مکروہ ہے(6)نماز میں بغیر عذر چار زانو بیٹھنا مکروہ ہے اور عذر ہو تو حرج نہیں (7)دامن یا آستین سے اپنے کو ہوا پہنچانا مکروہ ہے(8) اسبال یعنی کپڑا حد معتاد سے دراز رکھنا ،دامنوں اور پائچوں میں اسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں اورآستینوں میں انگلیوں سے نیچے اور عمامہ میں یہ کہ بیٹھنے میں دبے۔(9)انگڑائی لینا (10) بالقصد کھانسنااورکھنکارنا مکروہ ہے اور اگر طبیعت مجبور کر رہی ہے تو حرج نہیں (11)فرض کی ایک رکعت میں کسی آیت کو بار بار پڑھنا حالت اختیار میں مکروہ ہے اور عذر سے ہو تو حرج نہیں۔ (12)یوہیں ایک سورت کو بار بار پڑھنا(13)سجدہ کو جاتے وقت گھٹنے سے پہلے ہاتھ رکھنا(14)اور اٹھتے وقت ہاتھ سے پہلے گھٹنے اٹھانابلا عذر مکروہ ہے(15)رکوع میں سر کو پشت سے اونچا یا نیچا کرنا(16)بسم اﷲ و تعوذ و ثنا اور آمین زور سے کہنا(17)اذکار نماز کو ان کی جگہ سے ہٹا کر پڑھنا ۔ (18) بغیر عذر دیوار یا عصا پر ٹیک لگانا مکروہ ہے اور عذر سے ہو تو حرج نہیں(19) رکوع میں گھٹنوں پراور سجدوں میں زمین پر ہاتھ نہ رکھنا۔ (20)عمامہ کو سر سے اتار کر زمین پر رکھ دینا،یا زمین سے اٹھا کر سر پر رکھ لینا مفسد نماز نہیں، البتہ مکروہ ہے۔(21)آستین کوبچھا کر سجدہ کرنا تاکہ چہرہ پر خاک نہ لگے مکروہ ہے اور براہِ تکبّر ہو تو کراہت تحریم اور گرمی سے بچنے کے لیے کپڑے پر سجدہ کیا، تو حرج نہیں۔ (22)آیت رحمت پر سوال کرنا اور آیت عذاب پر پناہ مانگنا، منفرد نفل پڑھنے والے کے لیے جائز ہے،امام و مقتدی کو مکروہ اور اگر مقتدیوں پر ثقل کا باعث ہو تو امام کو مکروہ تحریمی۔ (23)داہنے بائیں جھومنا مکروہ ہے اور تراوح یعنی کبھی ایک پاؤں پر زور دیا کبھی دوسرے پر یہ سُنّت ہے۔(24) نماز میں آنکھ بند رکھنا مکروہ ہے، مگر جب کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حرج نہیں، بلکہ بہتر ہے۔ (25)سجدہ وغیرہ میں قبلہ سے انگلیوں کو پھیر دینا، مکروہ ہے۔(26)امام کو تنہا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اور اگر باہر کھڑا ہوا سجدہ محراب میں کیا یا وہ تنہا نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ کچھ مقتدی بھی محراب کے اندر ہوں تو حرج نہیں۔ یوہیں اگر مقتدیوں پر مسجد تنگ ہو تو بھی محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں۔ (27)امام کو دروں میں کھڑا ہونا بھی مکروہ ہے۔ (28) امام کا تنہا بلند جگہ کھڑا ہونا مکروہ ہے، بلندی کی مقدار یہ ہے کہ دیکھنے میں اس کی اونچائی ظاہر ممتاز ہو۔ پھر یہ بلندی اگر قلیل ہو توکراہت تنزیہ ورنہ ظاہر تحریم۔ (29)امام نیچے ہو اور مقتدی بلند جگہ پر، یہ بھی مکروہ و خلافِ سُنت ہے۔(30)کعبہ معظمہ اور مسجد کی چھت پر نما زپڑھنا مکروہ ہے، کہ اس میں ترک تعظیم ہے۔(31)مسجد میں کوئی جگہ اپنے لیے خاص کر لینا، کہ وہیں نماز پڑھے یہ مکروہ ہے۔ (32)جلتی آگ نمازی کے آگے ہونا باعث کراہت ہے، شمع یا چراغ میں کراہت نہیں۔ (33)سامنے پاخانہ وغیرہ نجاست ہونا یا ایسی جگہ نماز پڑھنا کہ وہ مظنۂ نجاست ہو(34)مردکاسجدہ میں ران کو پیٹ سے چپکا دینا (35)ہاتھ سے بغیر عذر مکھی پسو اڑانا مکروہ ہے۔(36)ایسی چیز کے سامنے جو دل کو مشغول رکھے نماز مکروہ ہے، مثلاً زینت اور لہو و لعب وغیرہ۔(37) نماز کے لیے دوڑنا (38)عام راستہ، کوڑا ڈالنے کی جگہ، مذبح،غسل خانہ،حمام، مویشی خانہ خصوصاً اونٹ باندھنے کی جگہ،اصطبل، پاخانہ کی چھت ان مواضع میں نماز مکروہ ہے۔(ہندیہ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی، ج1، ص106تا109٭درمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ، ج2، ص506تا513٭بہار شریعت،حصہ3،ص630تا637)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button