شرعی سوالات

سوال:نماز میں کفِ ثوب کا کیا حکم ہے؟

سوال:نماز میں کفِ ثوب کا کیا حکم ہے؟

جواب:نمازمیں کفِ ثوب(کپڑا فولڈ کرنا،کپڑا سمیٹنا) مکروہ تحریمی ہے ،اس حالت میں جو نماز ادا کی وہ مکروہ تحریمی ہے،اس کا اعادہ کرنا واجب ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

((أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَی سَبْعَۃٍ، لاَ أَکُفُّ شَعَرًا وَلاَ ثَوْبًا))ترجمہ:میں حکم دیا گیا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور بالوں اور کپڑوں کو” کف” (فولڈ)نہ کروں۔(صحیح بخاری،باب لایکف ثوبہ فی الصلاۃ،ج1،ص163،مطبوعہ دارطوق النجاۃ)

درمختار میں ہے: کفِ ثوب(کپڑے سمیٹنا ) اگرچہ مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے جیسا کہ آستین چڑھانا اور دامن اٹھانا۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار،فروع مشی المصلی مستقبل القبلۃھل تفسد،ج1،ص640، دارالفکر، بیروت)

اس کے تحت ردالمحتار میں ہے:شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے۔( ردالمحتار،فروع مشی المصلی مستقبل القبلۃھل تفسد،ج1،ص640،دارالفکر،بیروت)

نماز کے اندر کفِ ثوب کریں یا باہر سے کرکے اندر جائیں بہر صورت نماز مکروہ تحریمی ہے۔

فتح الباری میں ہے:

اکثر علماء کے نزدیک کراہت دونوں حالتوں میںہے ،ان علماء میںامام اوزاعی ، امام ابوحنیفہ،امام شافعی رحہم اللہ اورصحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت جن میں حضرت عمر،حضرت عثمان ،حضرت ابن مسعود،حضرت حذیفہ،حضرت ابن عباس اور ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ (فتح الباری ،کتاب الصلوٰۃ،لایکف ثوبہ فی الصلوٰۃ،جلد2،صفحہ 380،قدیمی کتب خانہ کراچی)

علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنا دونوں صورتوں میں مکروہ ہے چنانچہ عمد ۃ القاری میںہے:جمہور علما نے کف ثوب کو نماز ی کے لیے مکروہ قرار دیا چاہے وہ نماز میں کرے یا کرکے نماز میں داخل ہو۔(عمدۃ القاری ،کتاب الاذان، باب السجود علی سبعۃ اعظم، جلد 6،صفحہ131، دارالکتب العلمیۃ بیروت )

ردالمحتار میں ہے:

کف ثوب جیسے اگر کوئی آستین چڑھاکر یا دامن سمیٹ کر نماز شروع کرے اور مصنف ( صاحب درمختار ) نے اپنے اس قول سے اسی بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ نماز کی حالت میں کپڑے اڑسنے پر کراہت موقوف نہیں بلکہ نماز سے پہلے بھی ایسا کیا تواس کی نماز مکروہ ہوگی ۔ (درمختار مع ردالمحتار ، باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیھا، جلد2 ،صفحہ490، مکتبہ رشیدیہ ،کوئٹہ )

کف ِثوب کی عام پیش آنے والی درج ذیل صورتیں ہیں:

(1) نصف کلائی سے زیادہ آستین چڑھا لینا،(2)شلوار یاپینٹ کواوپر(نیفے ) سے فولڈ کرنا(3)شلوار یا پینٹ کو نیچے سے فولڈ کرنا(4)،تہبند کو پیچھے سے گھر سنا (5) دامن کو سمیٹناوغیرہ ۔بحرالرائق میں ہے:کفِ ثوب میں آستینوں کا چڑھانا بھی داخل ہے ۔

(بحر الرائق ،ج2،ص24،ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"واقعی ساری پیچھے سے نہ کھولنا کراہت نماز کا موجب ہے "(فتاوی رضویہ،ج7،ص312،رضا فائونڈیشن،لاہور)

صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ـ”کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہویا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔”

(بہار شریعت حصہ3ص624،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

نزھۃالقاری شرح صحیح البخاری میںمفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

"بال یا کپڑے کو غیر معتاد طریقے سے سمیٹنا ،مثلا بالوں کا جوڑا (مردوں کے لیے ) باندھنا یا ان کو سمیٹ کر عمامے کے اندر کرلینا یا آستین چڑھا لینا یا تہبند اور پائجامے کو گھرس لینا اس سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے ۔”(نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری ،ج2، ص64، فرید بک سٹال لاہور)

مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"پائجامہ،تہبند ،شلوار ،پتلون یاکسی اور کپڑے کو نیچے سے موڑ دینا یا اوپر اٹھاکر اڑس لینا کفِ ثوب ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کفِ ثوب کے بارے میں ایک مستقل باب باندھا ہے اور اس باب میں ایک حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت کی ہے : ((امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم لااکف شعراََولا ثوباََ))یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے اور بال اور کپڑے نہ سمیٹنے کا حکم دیا گیا ہے ۔اسی حدیث کی بناء پر ہمارے تمام فقہاء نے کفِ ثوب یعنی کپڑے سمیٹنے کو مکروہ تحریمی لکھاہے……..یہ خیال رہے کہ جو نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ پڑھی جائے گی اس کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوتاہے۔”(وقارالفتاوٰی،ج2،ص243،بزم وقارالدین ،کراچی)

تنبیہ:یاد رہے کہ شلوار نیفے کوباہر سے اندر کی طرف فولڈ کریں یااندر سے باہر کی طرف، اسی طرح پینٹ کے پائنچے کو باہر کی طرف فولڈ کریں یا اندر کی طرف کریں،بہر صورت کفِ ثوب میں شمار ہوگاکیونکہ حدیث پاک اور جزئیات میں مطلقاً ممانعت آئی ہے اندر باہر کی قید نہیں۔سجدے میں انگلیوں کا پیٹ لگانے کا حکم:

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button