شرعی سوالات

سوال:مسجد میں کب جانے کی ممانعت ہے؟

سوال:مسجد میں کب جانے کی ممانعت ہے؟

جواب:مسجد میں کچا لہسن، پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں، جب تک بو باقی ہو کہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:((جو اس بدبودار درخت سے کھائے، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ ملائکہ کو اس چیز سے ایذا ہوتی ہے، جس سے آدمی کو ہوتی ہے۔)) یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میں بدبُو ہو۔ جیسے گندنا(لہسن کی طرح ایک ترکاری)، مولی،کچا گوشت، مٹی کا تیل، وہ دیا سلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہے، ریاح خارج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کو گندہ دہنی کا عارضہ ہو یا کوئی بدبُودار زخم ہو یا کوئی دوا بدبُودار لگائی ہو، تو جب تک بُو منقطع نہ ہو اس کو مسجد میں آنے کی ممانعت ہے، یوہیں قصاب اور مچھلی بیچنے والے اور کوڑھی اور سفید داغ والے اور اس شخص کو جو لوگوں کو زبان سے ایذا دیتا ہو، مسجد سے روکا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب نہی من أکل ثوماإلخ، ص282٭ درالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج2، ص525)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button