شرعی سوالات

سوال:لقمہ لینے دینے کے جواز پرکچھ احادیث مبارکہ بیان کردیں۔

سوال:لقمہ لینے دینے کے جواز پرکچھ احادیث مبارکہ بیان کردیں۔

جواب:لقمہ لینے دینے کے جواز پر کچھ احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:

(1)رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا((مالی رأیتکم اکثرتم التصفیق من نابہ شیء فی صلوتہ فلیسبح فانہ اذا سبح التفت الیہ وانماالتصفیق للنساء ))ترجمہ:تمہیں کیا ہوا کہ میں تمہیں کثرت کے ساتھ تصفیق کرتے دیکھتا ہوں، جب نماز میں کوئی معاملہ پیش آجائے تو سبحان اللہ کہو،جب سبحان اللہ کہا جائے گا تو امام متوجہ ہوجائے گا،تصفیق(ہاتھ پر ہاتھ مارکر متوجہ کرنا)صرف عورتوں کے لئے ہے ۔(بخاری،ج1 ،ص 163 ،مکتبہ رحمانیہ،لاہور)

(2)رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا((من نابہ شیء فی صلوتہ فلیسبح فانہ اذا سبح التفت الیہ))ترجمہ:جب نماز میں کوئی معاملہ پیش آجائے تو سبحان اللہ کہو،جب سبحان اللہ کہا جائے گا تو امام متوجہ ہوجائے گا۔(صحیح مسلم،ج1،ص225،مطبوعہ دارابن حزم،بیروت)

(3)سنن ابی داؤد میں ہے((عن مسوربن یزید المالکی قال صلی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فترک اٰیۃ فقال لہ رجل یا رسول اللہ اٰیۃ کذا وکذا فقال فھلا اذکرتنیھا))ترجمہ:حضرت مسور بن یزید مالکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو ایک آیت چھوڑ دی ،ایک آدمی نے عرض کیا:یا رسول اللہ آیت تو ایسے ہے ،تو آپ نے ارشاد فرمایا:تو نے مجھے (لقمہ دے کر)یاد کیوں نہ کرائی۔ (سنن ابی داؤد،ج1،ص131،آفتاب عالم پریس،لاہور)

(4)حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں((کنانفتح علی عھد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علی الائمۃ))ترجمہ:ہم رسول اللہصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں ائمہ کو لقمہ دیا کرتے تھے۔

(سنن دارقطنی،ج1،ص199،نشرالسنۃ ،ملتان)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button