شرعی سوالات

سوال:لقمہ دینے کا شرعاً کیا حکم ہے ؟

سوال:لقمہ دینے کا شرعاً کیا حکم ہے ؟

جواب:لقمہ دیناکبھی فرض ہوتا ہے ،کبھی واجب ہوتا ہے،کبھی جائز ہوتاہے، کبھی مکروہ اور کبھی حرام ۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

فرض:امام جب ایسی غلطی کرے جونماز کو فاسد کرنے والی ہو تو لقمہ دے کر اس کی اصلاح کرناہرمقتدی پرفرض کفایہ ہے۔امام اہلسنت مجدددین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’امام جب ایسی غلطی کرے جوموجبِ فسادنماز ہو تو اس کا بتانا اور اصلاح کرانا ہرمقتدی پرفرض کفایہ ہے ان میں سے جوبتادے گا سب پر سے فرض اُترجائے گا اور کوئی نہ بتائے گا توجتنے جاننے والے تھے سب مرتکبِ حرام ہوں گے اور نماز سب کی باطل ہوجائے گی’’وذٰلک لان الغلط لما کان مفسدا کان السکوت عن اصلاحہ ابطالا للصلاۃ وھو حرام بقولہ تعالٰی {ولاتبطلوا اعمالکم}‘‘ وجہ یہ کہ غلطی جب مفسد ہو تو اس کی اصلاح کرنے پرخاموشی، نماز کے بطلان کا سبب ہے اور اﷲتعالیٰ کے اس ارشاد مبارک کی وجہ سے حرام ہے کہ ’’تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔

اور ایک کابتانا سب پر سے فرض اس وقت ساقط کرے گا کہ امام مان لے اور کام چل جائے ورنہ اوروں پربھی بتانا فرض ہوگا یہاں تک کہ حاجت پوری ہو اور امام کو وثوق حاصل ہو، بعض دفعہ ایسا ہوتاہے کہ ایک کے بتائے سے امام کا اپنی غلط یاد پراعتماد نہیں جاتااور وہ اس کی تصحیح کو نہیں مانتا اور اس کامحتاج ہوتا ہے کہ متعدد شہادتیں اس کی غلطی پر گزریں تو یہاں فرض ہوگا کہ دوسرا بھی بتائے اور اب بھی امام رجوع نہ کرے تو تیسرا بھی تائید کرے یہاں تک کہ امام صحیح کی طرف واپس آئے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،جلد7،صفحہ280،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

واجب:ا گرامام ایسی غلطی کرے کہ جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہرمقتدی پر واجب کفایہ ہے۔امام اہلسنت مجدددین وملت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں’’ا گر غلطی ایسی ہے جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہرمقتدی پر واجب کفایہ ہے اگر ایک بتادے اور اس کے بتانے سے کاروائی ہوجائے سب پر سے واجب اترجائے ورنہ سب گنہگار رہیں گے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،جلد7،صفحہ280،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

جائز:قرا ء ت میں ایسی غلطی ہو جس سے فسادِ نماز یا ترک واجب لازم نہ آرہا ہوتو لقمہ دینا جائز ہے۔امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں’’اگر(قراء ت کی) غلطی میں نہ فسادِ نماز ہے نہ ترکِ واجب ،جب بھی ہر مقتدی کو مطلقاً بتانے کی اجازت ہے۔ ‘‘(فتاوٰی رضویہ،جلد7،صفحہ281،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

مذکورہ صورت صرف جائز ہے(یعنی واجب نہیں ہے)مگر دو صورتوں میں مذکورہ صورت الحال میں بھی لقمہ دیناواجب ہوجاتاہے:

(1)یہ خطرہ ہو کہ امام تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار چپ ہوجائے گاتو لقمہ دینا واجب ہے کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار سکوت کرنے سے نماز مکروہ تحریمی ہوجاتی ہے۔

(2)امام کی عادت معلوم ہے کہ جب بھولتا ہے تو اس کے منہ سے اُوں آں جیسے الفاظ نکلنے لگ جاتے ہیں تو اس صورت میں بھی لقمہ دینا واجب ہے کہ اس طرح کے الفاظ نکالنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ اوپر والی عبارت سے متصل آگے فرماتے ہیں’’مگر یہاں وجوب کسی پر نہیں لعدم الموجب(واجب کرنے والی چیز کے نہ ہونے کی وجہ سے)، اقول(میں کہتا ہوں) مگر دو صورتوں میں ایک یہ کہ امام غلطی کرکے خود متنبہ ہوا اور یاد نہیں آتا ،یاد کرنے کے لئے رکا اگر تین بار سبحان اللہ کہنے کی قدر رکے گا نماز میں کراہتِ تحریم آئے گی اور سجدۂ سہو واجب ہوگا۔۔تو اس صورت میں جب اسے رکا دیکھیں مقتدیوں پر بتانا واجب ہوگا کہ سکوت قدرِ ناجائز تک نہ پہنچے ۔دوسرے یہ کہ بعض ناواقفوں کی عادت ہوتی ہے جب غلطی کرتے ہیں اور یاد نہیں آتا تو اضطراراً ان سے بعض کلمات بے معنی صادر ہوتے ہیں ،کوئی اُوں اُوں کہتا ہے کوئی کچھ اور ،اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے ،تو جس کی یہ عادت معلوم ہووہ جب رکنے پر آئے مقتدیوں پر واجب ہے کہ فوراً بتائیں قبل اس کے کہ وہ اپنی عادت کے حروف نکال کر نماز تباہ کرے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،جلد7،صفحہ281،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

مکروہ:امام اگر قرا ء ت میں رکے تو اسے فوراً بتانا مکروہ(تنزیہی) ہے۔شامی میں ہے’’یکرہ ان یفتح من ساعتہ‘‘ترجمہ:فوراً لقمہ دینا مکروہ ہے۔(ردالمحتار،ج1،ص623،ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی)

امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں’’امام کو فوراًبتانا مکروہ ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج7،ص286،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

حرام:بے محل لقمہ دیناحرام ہے اور اس سے لقمہ دینے والے کی نماز ٹوٹ جاتی ہے اور امام لقمہ لے تو اس کی نماز بھی فاسد جاتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button