شرعی سوالات

سوال:قیامت کی علاماتِ صغری(چھوٹی نشانیاں)کیا ہیں؟

سوال:قیامت کی علاماتِ صغری(چھوٹی نشانیاں)کیا ہیں؟

جواب:علاماتِ صغری میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

(1)تین خسف ہوں گے یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے، ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا جزیرہ عرب میں۔(صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب فی الآیات التی إلخ، الحدیث2901،ص1551)

(2)عِلم اُٹھ جائے گا یعنی علما اُٹھالیے جائیں گے، یہ مطلب نہیں کہ علما تو باقی رہیں اور اُن کے دلوں سے علم محو کردیا جائے۔( صحیح البخاری، کتاب العلم، باب کیف یقبض العلم، الحدیث100، ج1، ص54)

(3)جہالت کی کثرت ہوگی۔(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب یقل الرجال ویکثر النساء ، الحدیث5231، ج3، ص472)

(4)زنا کی زیادتی ہوگی اور اِس بے حیائی کے ساتھ زنا ہوگا، جیسے گدھے جُفتی کھاتے ہیں، بڑے چھوٹے کسی کا لحاظ پاس نہ ہوگا۔(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب یقل الرجال ویکثر النساء ، الحدیث5231، ج3، ص472)

(5)مرد کم ہوں گے اور عورتیں زیادہ، یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچاس عورتیں ہوں گی۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، باب رفع العلم وظہور الجھل، الحدیث81، ج1، ص47)

(6)علاوہ اُس بڑے دجّال کے اور تیس دجّال ہوں گے، کہ وہ سب دعوی نبوت کریں گے، حالانکہ نبوت ختم ہوچکی۔ ( سنن أبی داود”، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلہا، الحدیث4252، ج4، ص133)

جن میں بعض گزرچکے، جیسے مسیلمہ کذّاب، طلیحہ بن خوَیلد، اسود عَنسی، سجاح عورت کہ بعد کو اسلام لے آئی ،غلام احمد قادیانی وغیرہم۔ اور جو باقی ہیں، ضرور ہوں گے۔

(7)مال کی کثرت ہوگی ، نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الترغیب فی الصدقۃ إلخ، الحدیث2894، ص1547)

(8)ملک ِعرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہوجائیں گی۔(المستدرک، کتاب الفتن، الحدیث8519، ج5، ص674)

(9)دین پر قائم رہنا اتنا دشوار ہوگا جیسے مُٹھی میں انگارا لینا ،یہاں تک کہ آدمی قبرستان میں جاکر تمنا کریگا، کہ کاش!میں اِس قبر میں ہوتا۔( سنن الترمذی، کتاب الفتن، الحدیث2267، ج4، ص115)

(10)وقت میں برکت نہ ہوگی، یہاں تک کہ سال مثل مہینے کے اور مہینہ مثل ہفتہ کے اور ہفتہ مثل دن کے اور دن ایسا ہوجائے گا جیسے کسی چیز کو آگ لگی اور جلد بھڑک کر ختم ہوگئی ، یعنی بہت جلد جلد وقت گزرے گا۔)سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء فی قصر الأمل، الحدیث2339، ج4، ص149)

(11)زکوٰۃ دینا لوگوں پر گراں ہوگا کہ اس کو تاوان سمجھیں گے۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(12)علمِ دین پڑھیں گے، مگر دین کے لیے نہیں۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(13)مرد اپنی عورت کا مُطِیع ہوگا۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(14)ماں باپ کی نافرمانی کرے گا۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(15)اپنے احباب سے میل جول رکھے گا اور باپ سے جدائی۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(16)مسجد میں لوگ چِلّائیں گے۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(17)گانے باجے کی کثرت ہوگی۔ (سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(18)اَگلوں پر لوگ لعنت کریں گے، ان کو بُرا کہیں گے۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ…إلخ، الحدیث2218، ج4، ص90)

(19)درندے، جانور، آدمی سے کلام کریں گے، کوڑے کی پُھنچی، جُوتے کا تَسْمہ کلام کرے گا، اُس کے بازار جانے کے بعد جو کچھ گھر میں ہوا بتائے گا، بلکہ خود انسان کی ران اُسے خبر دے گی۔ (سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی کلام السباع، الحدیث2188، ج4 ، ص76)

(20)ذَلیل لوگ جن کو تَن کا کپڑا، پاؤں کی جوتیاں نصیب نہ تھیں، بڑے بڑے محلوں میں فخر کریں گے۔

(صحیح مسلم، کتاب الإیمان، الحدیث8،ص21)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button