شرعی سوالات

سوال:سدل یعنی کپڑا لٹکانے کی کچھ صورتیں بیان کردیں؟

سوال:سدل یعنی کپڑا لٹکانے کی کچھ صورتیں بیان کردیں؟

جواب:صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سدل کی مختلف صورتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

کپڑا لٹکانا، مثلاً سر یا مونڈھے پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں کنارے لٹکتے ہوں، یہ سب مکروہ تحریمی ہیں۔ ۔۔۔اگر کُرتے وغیرہ کی آستین میں ہاتھ نہ ڈالے، بلکہ پیٹھ کی طرف پھینک دی، جب بھی یہی حکم ہے……..رومال یا شال یا رضائی یا چادر کے کنارے دونوں مونڈھوں سے لٹکتے ہوں، یہ ممنوع و مکروہ تحریمی ہے اور ایک کنارہ دوسرے مونڈھے پر ڈال دیا اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حرج نہیں اور اگر ایک ہی مونڈھے پر ڈالا اس طرح کہ ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پر، جیسے عموماً اس زمانہ میں مونڈھوں پر رومال رکھنے کا طریقہ ہے، تو یہ بھی مکروہ (تحریمی)ہے۔ (بہار شریعت،حصہ3،ص634،مکتبۃ المدینہ،کراچی)”آمین "آہستہ کہنا سنت ہے:

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button