شرعی سوالات

سوال:سجدے میں کتنی انگلیاں لگنا ضروری ہیں ،اگر کسی کے سجدے میں دونوں پاؤں اٹھے رہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

سوال:سجدے میں کتنی انگلیاں لگنا ضروری ہیں ،اگر کسی کے سجدے میں دونوں پاؤں اٹھے رہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب:سجدے میں پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط ہے،ہر پائوں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب،سجدہ میں دونوں پائوں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے،اسی طرح دسوں کا قبلہ رو ہونا سنت ہے۔

لہذا اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے، نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی، جب بھی نمازنہ ہوئی ،اور اگرہر پاؤں کی تین انگلیوں سے کم کا پیٹ لگا تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔

درمختار میں ہے:دونوں پاؤں میں سے ایک انگلی کا لگنا(سجدے)میں شرط ہے۔(درمختارمع ردالمحتار،قدیطلق الفرض علی مایقابل الرکن،ج1،ص447،دارالفکر،بیروت)

اعلی حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

حالت سجدہ میں قدم کی دس انگلیوں میں سے ایک کے باطن پراعتماد مذہب معتمد اور مفتی بہ میں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام یااکثر انگلیوں پراعتماد بعیدنہیں کہ واجب ہو اس بناپر جو حلیہ میں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغیرکسی انحراف کے سنت ہے۔(فتاوی رضویہ،ج7،ص376،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

پیشانی کا زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط ۔ تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے، نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی، جب بھی نہ ہوئی اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں۔

(بہار شریعت،حصہ3،ص513،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

مزید فرماتے ہیں:

سجدہ میں دونوں پائوں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پائوں کی تین تین انگلیون کے پیٹ زمین پر لگنا واجب اور دسوں کا قبلہ رو ہونا سنت ہے۔(بہار شریعت،حصہ3،ص530،مکتبۃ المدینہ،کراچی)سوال:کیا بدمذہب کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب: جس شخص کی گمراہی حد کفر تک نہ ہو اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی پڑھنا گناہ پڑھ لی تو اعادہ اور توبہ واجب اور جس کی حد کفر تک پہنچ گئی تو اس کی اقتدا میں بالکل نماز نہیں ہوگی۔

علامہ شمس الدین تمرتاشی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

بدمذہب کی بدمذہبی حد کفر تک نہ پہنچی ہوتو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے اوراگر اس کی بدمذہبی حد کفر پہنچ چکی ہو تو اس کی اقتداء میں نماز بالکل نہیں ہو گی ۔

(تنویر الابصار مع الدرالمختار وردالمحتار،باب الامامۃ،ج1،ص560تا562،دارالفکر،بیروت)

امام اہل سنت مجدددین وملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ان میں سے جس شخص کی بدعت حد کفر نہ ہو……..نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہے اور جو اس حد تک پہنچ گئی تو اقتداء اس کی اصلا صحیح نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج6،ص439،رضا فائونڈیشن،لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button