شرعی سوالات

سوال:حضورصَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نور تھے تو کھاتے پیتے کیوں تھے؟

سوال:حضورصَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نور تھے تو کھاتے پیتے کیوں تھے؟

جواب:اصول ہے کہ جو چیز جس لباس میں ہوتی ہے اس کے لوازم بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں،یہ اصول بھی قرآن مجید سے ماخوذ ہے ، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے سانپوں کے سامنے اپنا عصا پھینکا ،وہ اژدھے کی شکل اختیار کرگیا اور سانپوں کو کھا گیا،پھر جب پکڑا تو دوبارہ عصا بن گیا۔قرآن مجید میں ہے{وَأَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی أَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُونَ} ترجمہ:اور ہم نے موسی کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا ۔

(سورۃ الاعراف،آیت117)

دیکھیں عصا(لاٹھی) کا کام کھانا پینا نہیں ،مگرجب وہ اژدھے کے لباس میں ہے تو سانپوں کو کھاتا ہے۔معلوم ہوا کہ جو چیز جس لباس میں ہوتی اس کے لوازم بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔

کھانا پینا بشریت کے لوازم میں سے ہے ،نور کھاتا پیتا نہیں،مگر جب نور لباسِ بشریت میں آتا ہے تو بشریت کے لوازم بھی ساتھ ہوتے ہیں،بھوک بھی لگتی ہے، پیاس بھی لگتی ہے ۔ہاں جب نورانیت کا غلبہ ہوتا ہے تو یوم وصال کے روزے رکھتے ہیںیعنی بغیر افطار کے لگاتار روزے رکھتے ہیں،صحابہ کرام اجازت مانگتے ہیں تو ان کو ارشاد ہوتا ہے: ((أَیُّکُمْ مِثْلِی))ترجمہ:تم میں سے میری مثل کون ہے۔(صحیح بخاری،باب التنکیل لمن اکثر الوصال،ج3،ص37،مطبوعہ دارطوق النجاۃ) نداکرنا

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button