شرعی سوالات

سوال:بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ آئیں ہم آپ کو جاگتی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دیدار کراتے ہیں۔

سوال:بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ آئیں ہم آپ کو جاگتی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دیدار کراتے ہیں۔

جواب:جو اپنے لیے یا کسی ولی کے لیے دنیا میں بیداری کی حالت میں اﷲعزوجل کے دیدار کا دعویٰ کرے، کافر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:((تَعَلَّمُوا أَنَّہُ لَنْ یَرَی أَحَدٌ مِنْکُمْ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّی یَمُوتَ))ترجمہ:جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی شخص موت سے پہلے ہرگزاپنے رب کا دیدار نہیں کرسکتا ۔

(صحیح مسلم،باب ذکر ابن صیاد،ج4،ص2245،داراحیاء التراث العربی،بیروت)

فتاوی حدیثیہ میں ہے’’لایجوز لاحد ان یدعی انہ رأی اللہ بعین رأسہ ،ومن زعم ذلک فھو کافر مراق الدم‘‘ترجمہ:کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا دعوی کرے،اور جس نے یہ گمان کیا تووہ کافر اورمباح الدم ہے۔

(فتاوی حدیثیہ،ص200،داراحیاء التراث العربی،بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

"دنیا میں بیداری میں اﷲعزوجل کے دیدار یا کلامِ حقیقی سے مشرف ہونا، اِس کا جو اپنے یا کسی ولی کے لیے دعویٰ کرے، کافر ہے۔”(بہارشریعت،حصہ1،ص271،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button