شرعی سوالات

سوال:بدمذہب مسلمانوں میں رائج کئی معمولات کو بدعت کہتے ہیں،اس کا کیا جواب ہے؟

سوال:بدمذہب مسلمانوں میں رائج کئی معمولات کو بدعت کہتے ہیں،اس کا کیا جواب ہے؟

جواب:بدمذہب مسلمانوں کے ان معمولات کوجن کی اصل قرآن وحدیث سے ثابت ہے انہیں بدعت کہتے ہیں اور’’شرعاًممنوع ہونے پر دلیل دینے کے بجائے ‘‘یہ کہہ کر ردکر دیتے ہیں کہ اس خاص ہیئت کے ساتھ اس کا ثبوت قرونِ ثلٰثہ (دورِ نبوی،دورِ صحابہ،دورِ تابعین) میں نہیں تھا حالانکہ

اولاًتوقرون وزمانہ کو حاکم بنانا ( فلاں زمانے میں تھا تو جائز اور فلاں زمانے میں نہ تھا تو ناجائز)جہالت اور اپنی طرف سے شریعت گھڑنا ہے،ہمیں توصاحبِ شریعت سرورِ کائنات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے یہ اصول دیاکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال کی وہ حلال اور جو حرام فرمائی وہ حرام اور جس کے بارے میں سکوت کیا وہ بھی کر سکتے ہیں،ترمذی و ابن ماجہ و حاکم نے سیدنا سلمان فارسی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے ، حضوراقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:((الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ، فَہُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہ))ترجمہ: حلال وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جو خدانے اپنی کتاب میں حرام بتایا اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے یعنی اس پہ کچھ مواخذہ نہیں۔ ( جامع الترمذی ابواب اللباس ، باب ماجاء فی لبس الفراء ،ج3،ص272،دارالغرب الاسلامی، بیروت٭سنن ابن ماجہ،باب اکل الجبن والسمن، ج2، ص1117،داراحیاء الکتب العربیہ، بیروت٭المستدرک للحاکم،کتاب الاطعمہ،ج4، ص129 ، دار الکتب العلمیہ،بیروت)

ثانیاًہر نئے کام کو بدعتِ سیئہ(بری بدعت )کہنا بھی جہالت ہے،ہمیں تو صاحبِ شریعت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے یہ حکم دیا:((مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُہَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ))ترجمہ:ـ جس نے اچھاطریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کاثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کااجر بھی اسے ملے گا۔(صحیح مسلم،کتاب العلم،باب من سنّ سنۃ حسنۃالخ،ج2،ص341،قدیمی کتب خانہ، کراچی)

ثالثاً بدعت کو بدعتِ سیئہ میں منحصر کرنا بھی شریعت پر افتراء ہے،سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تراویح (کی جماعت)کے متعلق فرماتے ہیں:((نِعْمَ البِدْعَۃُ ہَذِہِ)) ترجمہ: یہ اچھی بدعت ہے۔

(صحیح بخاری،باب فضل من قام رمضان،ج3،ص45،مطبوعہ دارطوق النجاۃ)

ثابت ہوا کہ ہر نیا کام اگرموافق اصول شرعی کے ہے تو وہ بدعت حسنہ ہے اورحدیث پاک:((مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً))کے عموم میں داخل ہوکر محمودومقبول ہوگا اور اگرمخالف اصول شرعی ہوتو مذموم اور مردود ہوگا۔بدعت اچھی بھی ہوسکتی ہے:

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button