شرعی سوالات

سوال:امام نے (ظہر یا عصر میں)سری قرا ء ت کرنا تھی ،بھول کر بلند آواز سے شروع کردی ،کب تک لقمہ دے سکتے ہیں؟

سوال:امام نے (ظہر یا عصر میں)سری قرا ء ت کرنا تھی ،بھول کر بلند آواز سے شروع کردی ،کب تک لقمہ دے سکتے ہیں؟

جواب:اس سوال کے جواب کو سمجھنے سے پہلے چند باتیں ذہن نشین کرلیں:

(۱)ماتجوز بہ الصلوۃ(یعنی اتنی مقدار جس سے نماز کا فرض ادا ہوجاتا ہے)سری کرنی تھی بھول کر جہری کرلی یا جہری کرنی تھی بھول کر سری کرلی تو سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے۔ (فتاوی ہندیہ،کتاب الصلوۃ،ج1،ص128،مکتبہ رشیدیہ،کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا’’آیت مایجوز بہ الصلوۃ کتنی مقدار ہے؟توجوابا ارشادفرمایا’’وہ آیت کہ چھ حرف سے کم نہ ہو اور بہت نے اس کے ساتھ یہ بھی شرط لگائی کہ صرف ایک کلمہ کی نہ ہو۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج6،ص344،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’چھوٹی آیت جس میں دو یا دو سے زائد کلمات ہوں پڑھ لینے سے فرض ادا ہوجائے گا۔‘‘(بہار شریعت،حصہ3،ص512،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

(۲) جہری نماز میں سری یا سری نماز میں جہری پڑھنا شروع کی ،سورۂ فاتحہ نصف سے کم پڑھی تھی کہ اصلاح کرلی اور شروع سے اس کا اعادہ کرلیا تو سجدۂ سہو جو واجب ہوا تھاوہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن "جد الممتار” میں فرماتے ہیں :’’ لو خافت ببعض الفاتحۃ یعیدہ جھرا لان تکرار البعض لایوجب السھو ولا الاعادۃ و الاخفاء بالبعض یوجبہ فبالاعادۃ جھرا یزول الثانی و لایلزم الاول‘‘ترجمہ: اگر بعض فاتحہ آہسۃ قرأت کی تو وہ جہراً اس کا اعادہ کرے کیونکہ بعض کا تکرار سجدہ سہو اور نماز کے اعادہ کو واجب نہیں کرتا اور بعض کو آہسۃ پڑھنا اس کو واجب کرتاہے تو جہراً اعادہ کرنے سے دوسرا(نماز کے اعادہ کا وجوب ) زائل ہوجاتا اور پہلا( سجدہ سہوکا وجوب )لازم نہیں ہوتا ۔ (جد الممتار ،کتاب الصلوۃ ،فصل فی القراء ۃ، ج3،ص237،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

اس جزئیہ میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے صراحتافرمایاہے کہ جہری نمازمیں اگربعض سورہ فاتحہ کوآہستہ پڑھاتھاتوجہراشروع سے سورہ فاتحہ پڑھے تاکہ اعادہ یاسجدہ سہوکاحکم مرتفع ہوجائے ۔

(۳)اگر فاتحہ نصف سے زیادہ پڑھ چکا تھا تو شروع سے اعادہ نہیں کرسکتا کہ نصف فاتحہ کا تکرار خود ترکِ واجب ہے ۔صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہارشریعت میں فرماتے ہیں :’’ اور اگر پہلی رکعتوں میں الحمد کا زیادہ حصہ پڑھ لیا تھا ۔پھر اعادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہے ۔‘‘ (بہارشریعت ، جلد1،صفحہ711، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حضرت علامہ محمدشریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی(المتوفی 1421ھ) فتاوی امجدیہ کے حاشیہ میں فر ماتے ہیں ـ:’’آہسۃ آہسۃ سورہ فاتحہ پڑھتا رہا ،پھر بلند آواز سے پڑھنا شروع کیا ،تو اگر سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ پڑھ لیا تھا پھر شروع سے پڑھنا شروع کیا تو بھی سجدہ سہو وواجب کہ یہ اکثرسورہ فاتحہ کی تکرار ہوئی اور یہ موجب سجدہ سہو ہے اگر دونوں دفعہ بلاقصد سہوا ہوا ہو تو اور اگر بالقصد تکرار کی تو اعادہ واجب ،اور اگر سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ نہیں پڑھا تھا تو نہ سجدہ سہو ہے نہ اعادہ۔‘‘ (فتاوی امجدیہ، کتاب الصلوۃ ، باب سجود السہو، ج1،ص282، مکتبہ رضویہ، کراچی)

(۴)جس مقام پرترک واجب ہوگیاہواورلقمہ دینے میں سجدہ سہوکے لزوم کاارتفاع ہوسکے تووہاں لقمہ دینادرست ہوتاہے ۔اعلی حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’ ترکِ واجب ولزوم سجدۂ سہو وہ ہوچکا اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہوسکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیا جائے کہ غایت درجہ وہ بھول کر سلام پھیر دے گاپھر اس سے نماز تو نہیں جاتی وہی سہو کا سہو ہی رہے گا ،ہاں جس وقت سلام شروع کرتا اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کو بتانا چاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل وفساد ِ نماز کا اندیشہ ہے کہ یہ تو اپنے گمان میں نماز تمام کرچکا،عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی قاطع نماز اس سے واقع ہوجائے،اس سے پہلے نہ خلل واقع کا ازالہ تھا نہ خلل آئندہ کا اندیشہ تو سوا فضول و بے فائدہ کے کیا باقی رہا لہذا مقتضائے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فسادِ نمازہے۔ ‘‘

(فتاوی رضویہ،ج7،ص264، رضا فائونڈیشن،لاہور)

اس جزئیہ کی ابتدائی وانتہائی عبارت سے پتاچلاکہ اگرلقمہ دینے سے ترک واجب ولزوم سجدہ سہوکاارتفاع ہوسکے تولقمہ دینابرمحل ہے۔

اس کی نظیروہ صورت ہے جس میں امام قراء ت میں کوئی ایسی غلطی کرے جومفسدنمازہے اب بعدغلطی اس کولقمہ دیناضروری ہے تاکہ دفع فسادہو۔ چنانچہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں :’’ہاں اگروہ غلطی کرکے رواں ہوجائے تواب نظرکریں اگرغلطی مفسدمعنی ہے جس سے نمازفاسدہوتو بتانالازم ہے اگرسامع کے خیال میں نہ آئی ہرمسلمان کاحق ہے کہ بتائے کہ اس کے باقی رہنے میں نمازکافسادہے اوردفع فسادلازم۔‘‘(فتاوی رضویہ،ج7،ص286، رضا فائونڈیشن،لاہور)

ان مقدمات کی روشنی میں سوال کا جواب واضح ہوگیا کہ اگرظہر وعصر میں امام نے سورۂ فاتحہ جہر سے پڑھنا شروع کی تو جب تک نصف سورۂ فاتحہ تک نہ پہنچا اسے لقمہ دے سکتے ہیںکہ اگرچہ سجدۂ سہو واجب ہوچکا ہے مگر نصف سورۂ فاتحہ سے پہلے دوبارہ آہستہ شروع سے پڑھنے سے اس سجدۂ سہو کا ازالہ ممکن ہے لہذا یہ لقمہ کا محل ہے ۔ہاں اگر نصف تک سورۂ فاتحہ جہری(بلند) آواز میں پڑھ چکا تو اسے لقمہ نہیں دے سکتے کہ سجدۂ سہو کا ازالہ ممکن نہیں ،لہذا اگر اس صورت میں لقمہ دیں گے تو دینے والے کی نماز ٹوٹ جائے گی اور امام لے گاتو امام کی نماز بھی فاسد ہوجائے گی اور اس کے پیچھے مقدیوں کی بھی فاسد ہوجائے گی۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button