شرعی سوالات

سوال:اللہ عزوجل کے بارے میں ہمارا کیا عقیدہ ہونا چاہیے؟

سوال:اللہ عزوجل کے بارے میں ہمارا کیا عقیدہ ہونا چاہیے؟

جواب:اللہ عزوجل کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ

(1)اﷲعزوجل ایک ہے ،اس کاکوئی شریک نہیں، نہ ذات میں، نہ صفات میں ۔

(پ30،سورہ اخلاص،آیت1٭پ8،سورۃ الأنعام،آیت163٭منح الروض الأزہرللقاری، ص14)

(2)وہی اس کا مستحق ہے کہ اُس کی عبادت و پرستش کی جائے،اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

(پ1، سورۃالبقرۃ،آیت21)

(3)وہ واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود ضروری اور عَدَم (نہ ہونا)مُحَال ہے۔(شرح الفقہ الأکبرللقاریء، ص15 )

(4)وہ قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے، اَزَلی کے بھی یہی معنی ہیں۔(المعتقد المنتقد، ص18)

(5)وہ باقی ہے یعنی ہمیشہ رہے گا اور اِسی کو اَبَدی بھی کہتے ہیں۔(پ20، سورۃالقصص،آیت88٭المسامرۃ بشرح المسایرۃ، الأصل الثانی والثالث، ص22,24)

(6)وہ بے پرواہ ہے بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اُس کا محتاج ہے۔

(پ30،سورۃ الإخلاص،آیت2٭منح الروض الأزہرفی شرح الفقہ الأکبر، ص14)

(7)جس طرح اُس کی ذات قدیم،اَزلی،اَبدی ہے، صفات بھی قدیم،اَزلی، اَبَدی ہیں۔ اُس کی ذات و صفات کے سِوا سب چیزیں حادث ہیں یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیں۔

(منح الروض الأزہرفی شرح الفقہ الأکبر، ص23٭شرح العقائد النسفیہ،ص24 )

(8)وہ نہ کسی کا باپ ہے، نہ بیٹااور نہ اُس کے لیے بیوی، جو اُسے باپ یا بیٹا بتائے یا اُس کے لیے بیوی ثابت کرے کافر ہے۔(پ30،سورۃ الإخلاص،آیت3٭الشفا، فصل فی بیان ما ہو من المقالات کفر، ج2، ص283٭مجمع الأنہر، کتاب السیر والجہاد، ج2، ص504)

(9)وہی ہر شے کا خالق ہے، ذوات ہوں خواہ افعال، سب اُسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ (پ13،سورۃ الرعد،آیت16٭پ23،سورۃ الصآفات،آیت96٭شرح العقائد النسفیۃ، ص76)

(10)حقیقۃً روزی پہنچانے والا وہی ہے ، ملائکہ وغیر ہم سب وسیلہ ہیں۔(پ27،سورۃ الذّٰریٰت،آیت58)(تفسیر البغوی، پ30،تحت الآیۃ(فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا)،ج4، ص411)

(11)اﷲتعالیٰ جسم، جہت ،مکا ن، شکل و صورت اور حرکت و سکون سب سے پاک ہے۔(شعب الإیمان، باب فی الإیمان باللہ عزوجل، فصل فی معرفۃ أسماء اللہ وصفاتہ، ج1، ص113٭شرح المواقف، المقصد الأول، ج8، ص22٭شرح المقاصد، ج2، ص270)

(12)وہ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے اور ہر اُ س چیز سے جس میں عیب و نقصان ہے پاک ہے، مثلاً جھوٹ، دغا، خیانت، ظلم، جہل، بے حیائی وغیرہا عیوب اُس پرقطعاً محال ہیں۔

(المسامرۃ بشرح المسایرۃ، ص393٭الفتاوی الرضویۃ، ج15، ص320)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button