ARTICLES

سفید رطوبت انے کی صورت میں طواف کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت کو سفید پانی ایا جو رطوبت کی صورت میں تھا جس میں ذرا برابر سرخی وغیرہ نہ تھی اور اس نے اسی حال میں نماز پڑھی اور طواف کر لیا تو اس صورت میں اس کی نماز اور اس کے طواف کا شرعا کیا حکم ہو گا؟

(السائل : دانش، الفتانی حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس کی نماز اور طواف دونوں درست ہو گئے جب کہ اس رطوبت کے ساتھ مذی ملی ہوئی نہ ہو اور اس پر کچھ لازم نہ ایا کیونکہ ’’عورت کے اگے سے جو خالص رطوبت بے امیزش خون نکلتی ہے ناقص وضو نہیں ، اگر کپڑے پر لگ جائے تو کپڑا پاک ہے ۔ (38) علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

رطوبۃ الفرج طاہرۃ (39)

یعنی، شرمگاہ کی رطوبت پاک ہے ۔ علامہ ابو جعفر احمد بن محمد طحطاوی متوفی 1321ھ ’’درمختار‘‘ کی عبارت ’’رطوبۃ الفرج طاہرۃ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں :

کسائر رطوبات البدن غیر الناقضۃ کالدمع و المخاط، و البزاق، و العرق، و وسخ الاذن (40)

یعنی، شرمگاہ کی رطوبت پاک ہے تمام رطوبات بدن کی طرح غیر ناقضہ ہے جیسے انسو، ناک کا پانی، تھوک، پسینہ، اور کان کا میل۔ علامہ حصکفی دوسری جگہ لکھتے ہیں :

ان رطوبۃ الفرج طاہرۃ عندہ (41)

یعنی، بے شک امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک شرمگاہ کی رطوبت پاک ہے ۔ اسی طرح علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ ’’فتاویٰ تاتارخانیہ‘‘ (42) سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

فلا یتنجس بہا الثوب، و لا المائ اذا وقعت فیہ (نقلا عن ’’الملتقط‘‘ (43) کما فی ’’التاترخانیۃ‘‘) لکن یکرہ التوضی بہ للاختلاف (نقلا عن ’’الحجۃ‘‘ کما فی ’’التاترخانیۃ‘‘) … قلت : و ہذا اذا لم یکن معہ دم، و لم یخالط رطوبۃ الفرج مذی او منی من الرجل او المراۃ (44)

یعنی، پس اس سے کپڑا ناپاک نہ ہو گا اور نہ پانی جب اس میں گر جائے ، لیکن اس میں اختلاف کی وجہ سے اس پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے ، …میں کہتا ہوں یہ حکم اس وقت ہے جب اس کے ساتھ خون نہ ہو اور شرمگاہ کی رطوبت کے ساتھ مرد یا عورت کی مذی یا منی نہ ملی ہو۔ اور دوسرے مقام پر علامہ طحطاوی (45) اور علامہ شامی (46) حلبی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں :

و اما رطوبۃ الفرج الخارج طاہرۃ اتفاقا

یعنی، مگر خارجی شرمگاہ کی رطوبت تو وہ بالاتفاق پاک ہے ۔ اور امام اہلسنت امام احمد رضا حنفی متوفی 1340ھ لکھتے ہیں :

و بہ یظہر حکم ما اذا خرجت من فرج المراۃ الخارج، او الیہ رطوبۃ فرجھا الداخل، فانھا طاہرۃ عند الامام رضی اللہ عنہ فلا ینقض وضوئھا و ان سالت (47)

یعنی، اس سے عورت کی ظاہر شرمگاہ سے نکلنے والی رطوبت (کے پاک ہونے ) کا حکم ظاہر ہوا اور اسی طرف ہے اندرونی شرمگاہ کی رطوبت کا حکم ،بے شک وہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک پاک ہے ، پس اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اگرچہ بہہ جائے ۔ اور اگر سفید رطوبت کے ساتھ مذی بھی تھی تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اس طرح نماز اور طواف دونوں بے وضو قرار پائیں گے اور نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی اور طواف کا اعادہ کرنا ہو گا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاربعاء، 18 ذوالحجۃ 1431ھ، 24 نوفمبر 2010 م 694-F

حوالہ جات

38۔ بہار شریعت، وضو کا بیان، وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان، 1/354، مکبتۃ المدینہ، کراتشی

39۔ الدر المختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، فصل : الاستنجاء، تحت قول التنویر : او یغتسل فیہ، ص50

40۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، فصل : الاستنجاء، فروع، تحت قول التنویر : او تغتسل فیہ، 1/168

41۔ الدر المختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، تحت قولہ : وط ء بھیمۃ الخ، ص28

42۔ الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الطہارۃ، الفصل السابع : فی معرفۃ النجاسات و احکامھا، 1/443 بتصرفٍ

43۔ کتاب الطہارات، ص8

44۔ رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، فصل : الاستنجاء، مطلب : فی الفرق بین الاستبراء و الاستنقاء الخ، تحت قولہ : رطوبۃ الفرج، طاہرۃ، 1/621

45۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، تحت قول التنویر : ان طہر راس حشفۃٍ، و تحت قول الدر : برطوبۃ الفرج، 1/158

46۔ رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، تحت قول التنویر : ان طہر راس حشفۃٍ و تحت قول الدر، برطوبۃ الفرج، 1/566 و قال : و فی ’’منھاج الامام النووی‘‘ رطوبۃ الفرج لیست بنجسۃ فی الاصح

47۔ جد الممتار علی رد المحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب : نواقض الوضوء، 1/189

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button