ARTICLESشرعی سوالات

سفر میں سنن کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سفر میں نمازوں کو قصر کرنے کا حکم ہے یعنی چار رکعت فرائض کو دو پڑھنے کا حکم ہے اور سُنن کا کیا حکم ہے ، پڑھے یا چھوڑے ؟

(السائل : محمد عارف)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : قصر صرف فرائض میں ہے وتر و سُنَن میں قصر نہیں ہے ، سُنَن کا حکم یہ ہے کہ حالتِ امن و قرار میں ہو تو پڑھے اور چلنے کی حالت میں ہو تو چھوڑ دے ۔چنانچہ علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی 970ھ لکھتے ہیں :

قید بالفرائض، لا قصر فی الوتر و السُّنَن، واختلفوا فی ترک السُّنَن فی السفر فقیل : الأفضل ہو الترک ترخیصاً، و قیل : الفعل تقرّباً ، وقال الہند وانی : الفعل حال النزول والترک حال السیر، وفی ’’التجنیس‘‘ : و المختار أنہ إن کان حال أمن و قرارٍ یأتی بہا، لأنہا شُرعَت مکملات، و المسافر إلیہ محتاج (67)

یعنی، مصنّف نے قصر کو فرض کے ساتھ مقید کیا ، کیونکہ وتر اور سُنن میں قصر نہیں ہے ، فقہاء کرام نے سفر میں ترکِ سُنن میں اختلاف کیا ، پس کہا گیا کہ حصولِ رخصت کے لئے ترک افضل ہے اور کہا گیا کہ حصولِ تقرّب کے لئے پڑھنا افضل ہے ، اور ہندوانی نے فرمایاکہ حالتِ نزول میں پڑھنا اور چلنے کی حالت میں ترک ہے اور (امام ابو الحسن علی بن ابی بکر کی) ’’تجنیس‘‘ میں ہے کہ مختار یہ ہے اگر حالتِ امن و قرار میں ہو تو سُنن کو ادا کرے کیونکہ وہ مُکملات للفرائض مشروع کی گئی ہیں اور مسافر اس کی طرف محتاج ہے ۔ اس کے تحت علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں :

قولہ : و قال الہندانی الخ قال الرملی : قال فی ’’شرح منیۃ المصلی‘‘ والأعدل ما قالہ الہندوانی (68)

یعنی، علامہ رملی نے فرمایا کہ ’’شرح منیۃ المصلی‘‘ میں فرمایا : اعدل وہ ہے جو ہندوانی نے فرمایا۔ اور علامہ حسن بن عمار الشرنبلالی متوفی 1069ھ لکھتے ہیں :

(فیقصر) المسافر (الفرض) العملی (الرباعیّ) فلاقصر للثنائی، و الثلاثی، و لا للوتر فإنہ إن کان فی حال نزولٍ، و قرارٍ، و أمنٍ یأتی بالسُّنَن، و إن کان سائرًا، أو خائفاً فلا یأتی بہا، و ہو المختار (69)

یعنی، مسافر فرض اعتقادی رُباعی کو قصر کرے ، ثنائی اور ثلاثی فرائض میں قصر نہیں اور نہ وتر میں کیونکہ وہ فرض عملی ہے اور نہ سنن میں قصر ہے ، پس اگر حالتِ نزول و قرار و امن میں ہو تو سُنن کو ادا کرے اور اگر چلنے کی حالت میں ہو یا حالتِ خوف میں ہو تو نہ ادا کرے اور یہی مختار ہے ۔ اسی طرح علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ لکھتے ہیں :

و بعضہم جوّزوا للمسافر ترک السُّنَن، و المختار أنہ لا یأتی بہا فی حال الخوف، و یأتی بہا فی حال القرار و الأمن ہٰکذا فی الوجیز للکردری (70)

یعنی، بعض فقہاء نے مسافر کے لئے سنّتوں کا چھوڑنا جائز رکھا ہے اور مختار یہ ہے کہ خوف کی حالت میں سنّت نہ پڑھے اور امن و سکون کی حالت میں سنّتیں پڑھے ، اسی طرح ’’وجیز کردری‘‘ میں ہے ۔ اور صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : سُنّتوں میں قصر نہیں بلکہ پوری پڑھی جائیں گی، البتہ خوف اور رواروی کی حالت میں معاف ہیں ، البتہ امن کی حالت میں پڑھی جائیں گی، بحوالہ عالمگیری (71)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الاربعہ، 2ذی القعدۃ1427ھ، 23نوفمبر 2006 م (237-F)

حوالہ جات

67۔ البحر الرائق، کتا ب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، تحت قولہ : من جاوز إلخ، 2/229۔230

68۔ منحۃ الخالق علی البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، 2/229

69۔ نور الایضاح وشرحہ مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ص163

70۔ الفتاوی الہندیۃ، کتاب الصلاۃ، باب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر، 1/139

71۔ بہار شریعت، حصہ چہارم، نماز مسافر کا بیان، 1/744

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button