ARTICLESشرعی سوالات

سعی کے چکروں میں تفریق کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں اور میری بیوی عمرہ ادا کر رہے تھے ہم نے طواف کر لیا سعی شروع کی سخت بھیڑ کی وجہ سے ہم نے صرف تین چکر بمشکل کئے اور اسے پورا کرنا ہمارے بس میں نہ رہا لہٰذا ہم دونوں باہر نکل گئے دوسرے دن آ کر ہم نے باقی کے چار چکر سعی کی اور حلق و تقصیر کروایا۔ تو اس صورت میں ہم پر کوئی دَم وغیرہ تو لازم نہیں ہوا؟

(السائل : ایک حاجی از لبیک ٹوئرز، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : سعی کے چکروں کا تسلسل قائم رکھنا مسنون ہے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی سعی کی سنّتوں کے بیان میں لکھتے ہیں :

و الموالاۃ بین أشواطہ (168)

یعنی، سعی کے چکروں کے مابین موالات مسنون ہے ۔ جب کہ انہی کی دوسری کتاب میں ہے کہ مستحب ہے جیسا کہ مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ ذکر کرتے ہیں :

ہذا مخالف بظاہر لما قالہ فی ’’الکبیر‘‘ (169) : و الموالات لیست بشرط بل ہی مستحبۃ، فلو فرق السعی تفریقاً کثیراً کأن سعی کل یوم شوطاً أو أقل لم یبطل سعیہ، و یستحب أن یستأنف یعنی إن فعلہ بغیر عذر، ثم الظاہر أن الموالاۃ بین أجزاء شوط السعی أیضاً مستحبۃ (170)

یعنی، یہ بظاہر اس کے مخالف ہے جو (مصنّفِ لُباب علامہ رحمت اللہ سندھی نے ) ’’کبیر‘‘ میں فرمایا (علامہ رحمت اللہ سندھی نے مناسک میں تین کتابیں تحریر فرمائیں ان میں سے ایک ’’منسک صغیر‘‘ ہے دوسری وہ جس کی شرح مُلّا علی قاری اور دیگر علمائِ احناف نے فرمائی اور تیسری ’’کبیر‘‘ ہے جس کے قسطنطنیہ (1289ھ) اور افغانستان میں چھپے ہوئے دو نسخے ہماری لائبریری میں موجود ہیں چنانچہ کبیر میں فرمایا) سعی کے چکروں میں تسلسل شرط نہیں بلکہ مستحب ہے ، پس اگر سعی کے چکروں میں تفریق کثیر کی جیسے ہر روز ایک چکر سعی کی یا ہر روز ایک چکر سے کم سعی کی (اور اس طرح سعی کے سات چکر مکمل کئے تو) اس کی سعی باطل نہ ہو گی اور (ایسی صورت میں ) مستحب ہے کہ اگر بلا عذر ایسا کیا تو سعی از سر نَو کرے ، پھر ظاہر ہے کہ سعی کے ایک چکر کے اجزاء میں بھی تسلسل مستحب ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

دویم موالاۃ میان اشواطِ سعی و میان اجزاء اشواط آن، پس اگر تفریق کرد سعی را چنانکہ سعی کرد ہر روزے یک شوط یا کمتر ازان باطل نگردد سعی، و مستحب باشد استیناف سعی اگر بغیر عذر کردہ باشد (171)

یعنی، سعی کی دوسری سنّت سعی کے چکروں میں موالات اور اس کے چکروں میں سے ہر چکر کے اجزاء میں موالات (یعنی ان میں تسلسل) ہے پس اگر سعی میں تفریق کی جیسے ہر روز ایک چکر یا اس سے کم کیا تو سعی باطل نہ ہو گی اور مستحب ہے کہ اگر ایسا بغیر کسی عذر کیا ہو تو سعی از سر نَو کرے ۔ علامہ رحمت اللہ سندھی نے ’’کبیر‘‘ میں موالات بین السعی کو مستحب لکھا ہے اس کے بارے میں مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

و مع ہذا فی إعادۃ السّعی المؤدّی بترک الاستحباب محل نظر إذا السعی لیس عبادۃ مستقلّۃ، و کذا لم یعد تکرارہ طاعۃ بخلاف الصّلاۃ و الطّواف و نحوہما (172)

یعنی، اس کے باوجود اس سعی کا اعادہ جو ترکِ استحباب کے ساتھ ادا کی گئی محلِ نظر ہے ، کیونکہ سعی عبادتِ مستقلّہ نہیں ہے اسی وجہ سے اس کا تکرار طاعت نہیں بر خلاف نماز و طواف و غیرہما کے ۔ لہٰذا صحیح یہی ہے کہ سعی کے چکروں اور ہر چکر کے اجزاء میں تسلسل سنّت ہے جیسا کہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی نے ’’لُباب المناسک‘‘ میں اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی نے ’’حیاۃ القلوب‘‘ میں لکھا ہے ۔ اور صورت مسؤلہ میں سعی درست ہو گئی اور کوئی جزاء بھی لازم نہیں ہے ہاں اگر سعی کے چکروں میں تفریق بلا عذر واقع ہوئی تھی تو مستحب تھا کہ اُس کا اعادہ کرتے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الخمیس،4 ذوالحجۃ 1428ھ، 13دیسمبر 2007 م (New 13-F)

حوالہ جات

168۔ لُباب المناسک، باب السعی بین الصفا و المروۃ، فصل فی سُنَنہ، ص128

169۔ مجامع المناسک، باب السعی بین الصفا و المروۃ، فصل فی شرائط صحۃ السعی، ص139۔ 140، فی الطبعۃ المحمودیۃ،و مطبوعۃ بافغانستان، ص208

170۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسط، باب السعی بین الصفا و المروۃ، فصل فی سُننہ، ص254

171۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب چہارم در بیان سعی بین الصفا و المروۃ، فصل اول دربیان شرائط صحۃ صحیح، اما سُنن السعی، ص159

172۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب السعی، فصل فی سُنَنہ، ص254

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button