شرعی سوالات

سرکاری اداروں میں ٹیلیفون کا ذاتی استعمال ناجائز اور کالز کا تاوان دینا ہوگا، پرائیویٹ میں اجازت کے ساتھ جائز

سوال:

ملازم کا چوری چھپے دفتر کے ٹیلیفون سے فون کرنا کیسا؟  اور افسر بالا کی اجازت سے کیسا؟ملخصا

جواب:

گورنمنٹ کے محکموں تو کسی افسر کو  یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے پرائیویٹ کاموں کیلئے فون کرے۔ صرف سرکاری کاموں کیلئے فون کر سکتا ہے، آفیسر کو اپنے لیے استعمال کا اختیار نہیں ہے، دوسروں کو اجازت کس طرح دے سکتا ہے؟ پرائیویٹ کمپنی میں مالک کو اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے ٹیلی فون کرنے کی اجازت دے دے ، اس کی اجازت کے بغیر مینجر اور دوسروں کو بھی ٹیلی فون استعمال کرنا اور دوسروں کو اجازت دینا بھی جائز نہیں ہے۔ جتنی بار ٹیلی فون استعمال کر چکے ہیں، حساب کر کے یا اندازہ کر کے کسی غریب آدمی کو جو زکوۃ لینے کا مستحق ہو، مالک بنا کر اتنے روپے دے دئے جائیں۔ یہ حکم ان کالز کا ہے ، جو لا علمی میں کر چکا ہے۔ آئندہ یہ بھی جائز نہیں کہ جان بوجھ کر کسی کا مال ضائع کرے اور اتنا مال فقیروں کو دے دے۔                                                                                                                            (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 335، بزم وقار الدین، کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button