بہار شریعت

سجدۂ سہو کے متعلق مسائل

سجدۂ سہو کے متعلق مسائل

حدیث ۱: حدیث میں ہے ایک بار حضور ﷺ دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہو گئے بیٹھے نہیں پھر سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا اس حدیث کو ترمذی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

مسئلہ ۱: واجبات نماز میں کوئی واجب بھولے سے رہ جائے ت اس کی تلافی لے لئے سجدۂ سہو واجب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر دو (۲)سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر ے۔ (عامہ کتب، درمختار ج ۱ ص ۶۹۱،۶۹۲)

مسئلہ ۲: اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر لئے کافی ہیں مگر ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۵، درمختار ج ۱ ص ۶۹۱)

مسئلہ ۳: قصداً واجب ترک کیا تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے یونہی اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۳،۴۶۵ وغیرہ)

مسئلہ ۴: کوئی ایسا واجب ترک ہوا جو واجبات نماز سے نہیں بلکہ اس کا وجوب امر سے خارج ہو تو سجدہ سہو واجب نہیں مثلاً خلاف ترتیب قرآن پڑھنا ترک واجب ہے مگر موافق ترتیب پڑھنا واجبات تلاوت سے ہے واجبات نماز سے نہیں لہذا سجدۂ سہو نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۳)

مسئلہ ۵: فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی لہذا پھر پڑھے اور سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ، آمین، تکبیرات انتقالات، تسبیحات کے ترک سے بھی سجدہ سہو نہیں بلکہ نماز ہو گئی۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۳ غنیہ) مگر اعادہ مستحب ہے سہواً ترک کیا ہو یا قصداً۔

مسئلہ ۶: سجدۂ سہو اس وقت واجب ہے کہ وقت میں گنجائش ہو اور اگر نہ ہو مثلاً نماز فجر میں سہو واقع ہوا اور پہلا سلام پھیرا اور سجدہ ابھی نہ کیا کہ آفتاب طلوع کر آیا تو سجدۂ سہو ساقط ہو گیا۔ یونہی اگر پڑھتا تھا اور سجدہ سے پہلے قرص آفتاب زرد ہو گیا سجدہ ساقط ہو گیا۔ جمعہ یا عید کاوقت جاتا رہے گا جب بھی یہی حکم ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۵، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۲)

مسئلہ ۷: جو چیز مانع بنا ہے، مثلاً کلام وغیرہ منافی نماز، اگرسلام کے بعد پائی گئی تو اب سجدہ سہو نہیں ہو سکتا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۵، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۲)

مسئلہ ۸: سجدۂ سہو کا ساقط ہونا اگر اس کے فعل سے ہے تو اعادہ واجب ہے ورنہ نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۲)

مسئلہ ۹: فرض و نفل دونوں کا ایک ہی حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدۂ سہو واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۶)

مسئلہ۱۰: نفل کی دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں سہو ہوا پھر اسی پر بنا کر کے اور پڑھیں تو سجدۂ سہو کرے اور فرض میں سہو ہوا تھا اور اس پر قصداً نفل کی بنا کی تو سجدۂ سہو نہیں بلکہ فرض کا اعادہ کرے اور اگر اس فرض کے ساتھ سہواً نفل ملایا ہو ا مثلاً چار رکعت پر قعدہ کر کے کھڑا ہو گیا اور پانچویں کا سجدہ کر لیا تو ایک رکعت اور ملائے کہ یہ دو نفل ہو جائیں اور ان میں سجدۂ سہو کرے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۲،۶۹۳)

مسئلہ ۱۱: سجدۂ سہو کے بعد بھی التحیات پڑھنا واجب ہے التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں قعدوں میں درود شریف بھی پڑھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۵) اور یہ بھی اختیار ہے کہ پہلے قعدہ میں التحیات و درود پڑھے اور دوسرے میں صرف التحیات۔

مسئلہ ۱۲: سہو سے وہ پہلا قعدہ باطل نہ ہوا مگر پھر قعدہ کرنا واجب ہے اور اگر نماز کا کوئی سجدہ باقی رہ گیا تھا قعدہ کے بعد اس کو کیا یا سجدۂ تلاوت کیا تو وہ قعدہ جاتا رہا۔ اب پھر قعدہ فرض ہے کہ بغیر قعدہ نماز ختم کر دی تو نہ ہوئی اور پہلی صورت میں ہو جائے گی مگر واجب الاعادہ ہو گی۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۲ وغیرہ)

مسئلہ ۱۳: ایک نماز میں چند واجب ترک ہوئے تو وہی دو سجدے سب کے لئے کافی ہیں ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۳ وغیرہ)

واجبات نماز کا مفصل بیان پیشتر ہو چکا ہے مگر تفصیل ا حکام کے لئے اعادہ بہتر ہے واجب کی تاخیر رکن کی تقدیم یا تاخیر یا اس کو مکرر کرنا واجب میں تغیر یہ سب بھی ترک واجب ہیں ۔

مسئلہ ۱۴: فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی کسی رکعت میں سورۂ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت سے پیشتر دو بار الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کر رکوع کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۴۶۵،۴۶۹، عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۶)

مسئلہ ۱۵: الحمد کے بعد سورت پڑھی اس کے بعد پھر الحمد پڑھی تو سجدہ سہو واجب نہیں ، یونہی فرض کی پچھلی رکعتوں میں فاتحہ کی تکرار سے مطلقاً سجدہ سہو واجب نہیں اور اگر پہلی رکعتوں میں الحمد کا زیادہ حصہ پڑھ لیا تھا۔ پھر اعادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۶)

مسئلہ ۱۶: الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ واجب ہے یونہی اگر سورت کے پڑھنے کے بعد یا رکوع میں یا رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد یاد آیا تو پھر الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور رکوع کا اعادہ کرے اور سجدۂ سہو کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۶)

مسئلہ ۱۷: فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی اور قصداً ملائی جب بھی حرج نہیں مگر امام کو نہ چاہیے یونہی اگر پچھلی میں الحمد نہ پڑھی جب بھی سجدۂ سہو نہیں اور رکوع و سجدہ و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۶)

مسئلہ ۱۸: آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو سجدہ تلاوت ادا کرے اور سجدہ سہو کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۷،۱۲۶)

مسئلہ ۱۹: جو فعل نماز میں مکرر ہیں ان میں ترتیب واجب ہے لہذا خلاف ترتیب فعل واقع ہو تو سجدہ سہو کرے مثلاً قرأت سے پہلے رکوع کر دیا اور رکوع کے بعد قرأ ت نہ کی تو نماز فاسد ہو گئی کہ فرض ترک ہو گیا اور اگر رکوع کے بعد قرأت کی مگر پھر رکوع نہ کیا تو فاسد ہو گئی کہ قرأت کی وجہ سے رکوع جاتا رہا اور اگر بقدر فرض قرأت کر کے رکوع کیا مگر واجب قرأت ادا نہ ہوا مثلاً الحمد نہ پڑھی یا سورت نہ ملائی تو حکم یہی ہے کہ لوٹے اور الحمد و سورت پڑھ کر رکوع کرے اور سجدہ سہو کرے اور اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو نماز جاتی رہی کہ پہلا رکوع جاتا رہاتھا۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۳۴۰،۴۲۹)

مسئلہ ۲۰: کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا آخر میں یاد آیا تو سجدہ کر لے پھر التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے اور سجدہ کے پہلے جو افعال نماز ادا کئے باطل نہ ہوں گے ہاں اگر قعدہ کے بعد نماز والا سجدہ کیا تو صرف وہ قعدہ جاتا رہا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۷، درمختار ج ۱ ص ۴۳۲)

مسئلہ ۲۱: تعدیل ارکان بھول گیا سجدہ سہو واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۲۲: فرض میں قعدۂ اولی بھول گیا توجب تک سیدھا کھڑا نہ ہو، لوٹ آئے اور سجدۂ سہو نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹے تو فوراً کھڑا ہو اجائے۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۷،۶۹۶، غنیہ)

مسئلہ ۲۳: اگر مقتدی بھول کر کھڑا ہو گیا تو ضروری ہے لوٹ کے آوے تاکہ امام کی مخالفت نہ ہو۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۸)

مسئلہ ۲۴: قعدۂ اخیرہ بھول گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھا تھا ، مگر بقدر تشہد نہ ہوا تھا کہ کھڑا ہو گیا تو لوٹ آئے اور جو پہلے کچھ دیر تک بیٹھا تھا محسوب ہو گا یعنی لوٹنے کے بعد جتنی دیر تک بیٹھا یہ اور پہلے کا قعدہ دونوں مل کر اگر بقدر تشہد ہو گئے فرض ادا ہو گیا مگر سجدۂ سہو اس صورت میں بھی واجب ہے اور اگر اس رکعت کا سجدہ کر لیا تو سجدہ سے سر اٹھاتے ہی وہ فرض نفل ہو گیا لہذا اگر چاہے تو علاوہ مغرب کے اور نمازوں میں ایک رکعت اور ملائے کہ شفع پورا ہو جائے اور طاق رکعت نہ رہے اگرچہ وہ نماز فجر یا عصر ہو مغرب میں نہ ملائے کہ چار پوری ہو گئیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۸،۶۹۹)

مسئلہ ۲۵: نفل کا ہر قعدہ قعدۂ اخیرہ یعنی فرض ہے اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کر لے لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرے اور واجب نماز مثلاً وتر فرض کے حکم میں ہے۔ لہذا وتر کا قعدۂ اولی بھول جائے تو وہی حکم ہے جو فرض کے قعدۂ اولی بھول جانے کا ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۶)

مسئلہ ۲۶: اگر بقدر تشہد قعدۂ اخیرہ کر چکا ہے اور کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دے اور اگر قیام ہی کی حالت میں سلام پھیر دیا تو بھی نماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوئی اور اس صورت میں اگر امام کھڑا ہو گیا تو مقتدی اس کا ساتھ نہ دیں بلکہ بیٹھے ہوئے انتظار کریں اگر لوٹ آیا ساتھ ہولیں اور نہ لوٹا اور سجدہ کر لیا تو مقتدی سلام پھیر دیں اور امام ایک رکعت اور ملائے کہ یہ دو نفل ہو جائیں اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیرے اور یہ دو رکعتیں سنت ظہر یا عشاء کے قائم مقام نہ ہوں گی اور اگر ان دو رکعتوں میں کسی نے امام کی اقتداء کی یعنی اب شامل ہوا تو یہ مقتدی بھی چھ(۶) پڑھے اور اگر اس نے توڑ دی تو دو(۲) رکعت کی قضا پڑھے اور اگر امام چوتھی پر نہ بیٹھا تھا تو یہ مقتدی چھ رکعت کی قضا پڑھے۔ اور اگر امام نے ان رکعتوں کو فاسدکر دیا تو اس پر مطلقاً قضا نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۰،۷۰۱)

مسئلہ ۲۷: چوتھی پر قعدہ کر کے کھڑا ہو گیا اور کسی فرض پڑھنے والے نے اس کی اقتداء کی تو صحیح نہیں اگرچہ لوٹ آیا اور قعدہ نہ کیا تھا تو جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا اقتداء کر سکتا ہے کہ ابھی تک فرض ہی میں ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۱)

مسئلہ ۲۸: دو رکعت کی نیت تھی اور ان میں سہو ہوا اور دوسری کے قعدہ میں سجدۂ سہو کر لیا تو اس پر نفل کی بنا مکروہ تحریمی ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۰۱)

مسئلہ ۲۹: مسافر نے سجدۂ سہو کے بعد اقامت کی نیت کی توچار پڑھنا فرض ہے اور آخر میں سجدۂ سہو کا اعادہ کرے ۔(درمختار ج ۱ ص ۷۰۲)

مسئلہ ۳۰: قعدۂ اولی میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اللھم صل علی محمدٍ تو سجدۂ سہو واجب ہے اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا جب بھی سجدۂ سہو واجب ہے جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب ہے۔ حالانکہ وہ کلام الہی ہے۔ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، درود پڑھنے والے پر تم نے کیوں سجدہ واجب بتایا، عرض کی اس لئے کہ اس نے بھول کر پڑھا۔ حضور ﷺ نے تحسین فرمائی۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۴ وغیرہما)

مسئلہ ۳۱: کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدۂ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۲: پہلی دو رکعتوں کے قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا سجدۂ سہو واجب ہے اور الحمد سے پہلے پڑھا تو نہیں ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۳: پچھلی رکعتوں کے قیام میں تشہد پڑھا تو سجدہ واجب نہ ہوا اور اگر قعدۂ اولی میں چند بار تشہد پڑھا سجدہ واجب ہو گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۴: رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع یا کسی ایسے رکن کو دوبارہ کیا جو نماز میں مکرر مشروع نہ تھا یا کسی رکن کو مقدم یا مؤخر کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۵: قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قرأت کے بعد قنوت کے لئے تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا سجدۂ سہو کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۳۶: عیدین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا زائد کہیں یا غیرمحل میں کہیں ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۳۷: امام تکبیرات عیدین بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو لوٹ آئے اور مسبوق رکوع میں شامل ہوا تو رکوع ہی میں تکبیریں کہہ لے ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸) عیدین میں دوسری رکعت کی تکبیر رکوع بھول گیا تو سجدۂ سہو واجب ہے اور پہلی رکعت کی تکبیر رکوع بھولا تو نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۳۸: جمعہ و عیدین میں سہو واقع ہوا اور جماعت کثیر ہو تو بہتر یہ ہے سہو نہ کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۳۹: امام نے جہری نماز میں بقدر جواز نماز یعنی ایک آیت آہستہ پڑھی یا سری میں جہر سے تو سجدۂ سہو واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ سے یا جہر سے پڑھا تو معاف ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۴،۶۹۶، غنیہ)

مسئلہ ۴۰: منفرد نے سری نماز میں جہر سے پڑھا تو سجدہ واجب ہے اور جہری میں آہستہ تو نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۶)

مسئلہ ۴۱: ثناء و دعا و تشہد بلند آواز سے پڑھا تو خلاف سنت ہوا مگر سجدۂ سہو واجب نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۵)

مسئلہ ۴۲: قرأت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین سبحان اللہ کہنے کا وقفہ ہوا سجدۂ سہو واجب ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۶)

مسئلہ ۴۳: امام سے سہو ہوا اور سجدۂ سہو کیا تو مقتدی پر بھی سجدہ واجب ہے اگرچہ مقتدی سہو واقع ہونے کے بعد جماعت میں شامل ہوا اور اگر امام سے سجدہ ساقط ہو گیا تو مقتدی سے بھی ساقط ہوا پھر اگر امام سے ساقط ہونا اس کے فعل کے سبب ہو تو مقتدی پر بھی نماز کا اعادہ واجب ہے جیسے امام پر ورنہ معاف۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۵)

مسئلہ ۴۴: اگر مقتدی سے بحالت اقتداء سہو واقع ہوا تو سجدہ واجب نہیں ۔ (عامہ کتب، شامی ج ۱ ص ۶۹۵)

مسئلہ ۴۵: مسبوق امام کے ساتھ سجدۂ سہو کرے اگرچہ اس کے شریک ہونے سے پہلے سہو ہوا ہو اور اگر امام کے ساتھ سجدہ نہ کیا اور مابقی پڑھنے کھڑا ہو گیا تو آخر میں سجدۂ سہو کرے اور اگر اس مسبوق سے اپنی نماز میں بھی سہو ہوا تو آخر کے یہی سجدے اس سہو امام کے لئے بھی کافی ہیں ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸، ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۶)

مسئلہ ۴۶: مسبوق نے اپنی نماز بچانے کیلئے امام کے ساتھ سجدۂ سہو نہ کیا یعنی جانتا ہے کہ اگر سجدہ کرے گا تو نماز جاتی رہے گی مثلاً نماز فجر میں آفتاب طلوع ہو جائے گا یا جمعہ کے وقت عصر آجائے گا یا معذور ہے اور وقت ختم ہو جائے گا یا موزہ پر مسح کی مدت گذر جائے گی تو ان صورتوں میں امام کے ساتھ سجدہ نہ کرنے میں کراہت نہیں ۔ بلکہ بقدر تشہد بیٹھنے کے بعد کھڑا ہو جائے۔ (غنیہ)

مسئلہ ۴۷: مسبوق نے امام کے سہو میں امام کے ساتھ سجدۂ سہو کیا پھر جب اپنی پڑھنے کھڑا ہوا اور اس میں بھی سہو ہوا تو اس میں سجدۂ سہو دوبارہ کرے۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۶ وغیرہ)

مسئلہ ۴۸: مسبوق کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا جائز نہیں اگر قصداً پھیرے گا نماز جاتی رہے گی اور اگر سہواً پھیرا تو سلام امام کے ساتھ معاً بلا وقفہ تھا تو سجدۂ سہو اس پر نہیں اور اگر سلام امام کے کچھ بھی بعد پھیرا تو کھڑا ہو جائے اپنی نماز پوری کر کے سجدۂ سہو کرے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۶ وغیرہ)

مسئلہ ۴۹: امام کے ایک سجدہ کرنے کے بعد شریک ہوا تو دوسرا سجدہ امام کے ساتھ نہ کرے اور پہلے کی قضا کرے اور اگر دونوں سجدوں کے بعد شریک ہوا تو امام کے سہو کا اس کے ذمہ کوئی سجدہ نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۶)

مسئلہ ۵۰: امام نے سلام پھیر دیا اور مسبوق اپنی نماز پوری کرنے کھڑا ہوا اب امام نے سجدۂ سہو کیا تو جب تک مسبوق نے اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور امام کے ساتھ سجدہ کرے جب امام سلام پھیرے تو اب اپنی پڑھے اور پہلے جو قیام و قرأت و رکوع کر چکا ہے اس کا شمار نہ ہو گا بلکہ اب پھر سے وہ افعال کرے اور نہ لوٹا اور اپنی پڑھ لی تو آخر میں سجدۂ سہو کرے اور اگر اس رکعت کا سجدہ کر چکا ہے تو نہ لوٹے، لوٹیگاتو نماز فاسد ہو جائیگی ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۵۱: امام کے سہو سے لاحق پر بھی سجدۂ سہو واجب ہے مگر لاحق اپنی آخر نماز میں سجدۂ سہو کرے گا اور امام کے ساتھ اگر سجدہ کیا تو آخر میں اعادہ کرے۔ (درمختار ج ۱ ص ۶۹۶)

مسئلہ ۵۲: اگر تین رکعت میں مسبوق ہوا اور ایک رکعت میں لاحق تو ایک رکعت بلا قرأت پڑھ کر بیٹھے اور تشہد پڑھ کر سجدہ ٔ سہو کرے پھر ایک رکعت بھری پڑھ کر بیٹھے کہ یہ اس کی دوسری رکعت ہے پھر ایک بھری اور ایک خالی پڑھ کر سلام پھیر دے اور اگر ایک میں مسبوق ہے اور تین میں لاحق تو تین پڑھ کر سجدۂ سہو کرے پھر ایک ہی بھری پڑھ کر سلام پھیر دے ۔(ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۶)

مسئلہ ۵۳: مقیم نے مسافر کی اقتدا کی اور امام سے سہو ہوا تو امام کے ساتھ سجدۂ سہو کرے پھر اپنی دو (۲) پڑھے اور ان میں بھی سہو ہوا تو آخر میں پھر سجدہ کرے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۶۹۶)

مسئلہ ۵۴: امام سے صلوۃ الخوف میں (جس کے متعلق مسائل اور طریقہ انشااللہ تعالی مذکور ہو گا) سہو ہوا تو امام کے ساتھ دوسرا گروہ سجدۂ سہو نہ کرے اور پہلا گروہ اسوقت کرے جب اپنی نماز ختم کر چکے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۵۵: امام کو حدث ہوا اور پیشتر سہو بھی واقع ہو چکا ہے اور اس نے خلیفہ بنایا اور اگرخلیفہ کو بھی حالت خلافت میں سہو ہوا تو وہی سجدے کافی ہیں اور اگر امام سے تو سہو نہ ہوا مگر خلیفہ سے اس حالت میں سہو واجب ہوا تو امام پر بھی سجدۂ سہو واجب ہے اور خلیفہ کا سہو خلافت سے پہلے ہو تو سجدہ واجب نہیں نہ اس پر نہ امام پر۔ (عالمگیری ج ۱ص ۱۳۰)

مسئلہ ۵۶: جس پر سجدۂ سہو واجب ہے اگر سہو ہونا یاد نہ تھا اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا تو ابھی نماز سے باہر نہ ہوا بشرطیکہ سجدہ کرلے لہذا جب تک کلام یا حدث عمد، یا مسجد سے خروج یا کوئی اور فعل منافی نماز نہ کیا ہو اسے حکم ہے کہ سجدہ کر لے اور اگر سلام کے بعد سجدۂ سہو نہ کیا تو سلام پھیرنے کے وقت سے نماز سے باہر ہو گیا۔ لہذا سلام پھیرنے کے بعد اگر کسی نے اقتداء کی اور امام نے سجدۂ سہو کر لیا توا قتداء صحیح ہے اور سجدہ نہ کیا تو صحیح نہیں اور اگر یاد تھا کہ سہو ہوا ہے اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا تو سلام پھیر تے ہی نماز سے باہر گیا اور سجدۂ سہو نہیں کر سکتا۔ اعادہ کرے اور اگر اس نے غلطی سے سجدہ کیا اور اس میں شریک ہو تو اقتداء صحیح نہیں ۔(درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۲،۷۰۴)

مسئلہ ۵۷: سجدہ تلاوت باقی تھا یا قعدۂ اخیرہ میں تشہد نہ پڑھا تھا مگر بقدر تشہد بیٹھ چکا تھا اور یہ یاد ہے کہ سجدۂ تلاوت یا تشہد باقی ے مگر قصداً سلام پھیر دیا تو سجدہ ساقط ہو گیا اور نماز سے باہر ہو گیا، نماز فاسد نہ ہوئی کہ تمام ارکان ادا کر چکا ہے مگر بوجہ ترک واجب مکروہ تحریمی ہوئی یونہی اگر اس کے ذمہ سجدۂ سہو و سجدۂ تلاوت ہیں اور دونوں یاد ہیں یا صرف سجدۂ تلاوت یاد ہے اور قصداً سلام پھیر دیا تو دونوں ساقط ہو گئے اگر سجدۂ نماز اور سجدۂ سہو دونوں باقی تھے یا صرف سجدۂ نماز رہ گیا تھا اور سجدۂ نماز یاد ہوتے ہوئے سلام پھیر دیا تو نماز فاسد ہو گئی اور اگر سجدہ ٔ نماز و سجدۂ تلاوت باقی تھے اور سلام پھیرتے وقت دونوں یاد تھے یا ایک، جب بھی نماز فاسد ہو گئی ۔(ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۴)

مسئلہ ۵۸: سجدۂ نماز یا سجدۂ تلاوت باقی تھا یا سجدۂ سہو کرنا تھا اور بھو کر سلام پھیرا تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہوا کر لے اور میدان میں ہو تو جب تک صفوں سے متجاوز نہ ہوا یاآگے کو سجدہ کی جگہ سے گزرا کر لے ۔(درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۴)

مسئلہ ۵۹: رکوع میں یاد آیا کہ نماز کا کوئی سجدہ رہ گیا ہے اور وہیں سے سجدہ کو چلا گیا یا سجدہ میں یاد آیا اور سر اٹھا کر وہ سجدہ کر لیا تو بہتر یہ ہے کہ اس رکوع و سجود کا اعادہ کرے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر اس قت نہ کیا بلکہ آخر نماز میں کیا تو اس رکوع و سجود کا اعادہ نہیں سجدۂ سہو کرنا ہو گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۶۰: ظہر کی نماز پڑھتا تھا اور یہ خیال کر کے کہ چار پوری ہو گئیں دو (۲) رکعت پر سلام پھیر دیا تو چار پوری کر لے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر یہ گمان کیا کہ مجھ پر دو (۲) ہی رکعتیں ہیں مثلاً اپنے کو مسافر تصور کیا یا یہ گمان ہوا کہ نماز جمعہ ہے یا نیا مسلمان ہے سمجھا کہ ظہر کے فرض دو ہی ہیں یا نماز عشا کو تراویح تصور کیا تو نماز جاتی رہی یونہی اگر کوئی رکن فوت ہو گیا اور یاد ہوتے ہوئے سلام پھیر دیا، تو نماز گئی ۔(درمختار ج ۱ ص ۷۰۴)

مسئلہ ۶۱: جس کو شمار رکعت میں شک ہو مثلاً تین ہوئیں یا چار اور بلوغ کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے تو سلام پھیر کر یا کوئی عمل منافی نماز کر کے توڑ دے یا غالب گمان کہ بموجب پڑھ لے مگر بہر صورت اس نماز کو سرے سے پڑھے محض توڑنے کی نیت کافی نہیں اور اگر یہ شک پہلی بار نہیں بلکہ پیشتر بھی ہو چکا ہے تو اگر غالب گمان کسی طرف ہو تو اس پر عمل کرے ورنہ کم کی جانب کو اخیتار کرے یعنی تین اور چار میں شک ہو تو تین قرار دے دو اور تین میں شک ہو تو دو۔ علی ھذا القیاس۔ اور تیسری چوتھی دونوں میں قعدہ کرے کہ تیسری رکعت کا چوتھی ہونا متحمل ہے اور چوتھی میں قعدہ کے بعد سجدۂ سہو کر کے سلام پھیرے اور گمان غالب کی صورت میں سجدۂ سہو نہیں مگر جبکہ سوچنے میں بقدر ایک رکن کے وقفہ کیا ہو تو سجدہ واجب ہو گیا۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۰۷،۷۰۵، ہدایہ وغیرہ)

مسئلہ ۶۲: نماز پوری کرنے کے بعد شک ہو تو اس کا کچھ اعتبار نہیں اور اگر نماز کے بعد یقین ہے کہ کوئی فرض رہ گیا مگر اس میں شک ہے کہ وہ کیا ہے تو پھر سے پڑھنا فرض ہے۔ (فتح ، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۵)

مسئلہ ۶۳: ظہر پڑھنے کے بعد ایک عادل شخص نے خبر دی کہ تین رکعتیں پڑھیں تو اعادہ کرے اگرچہ اس کے خیال میں یہ خبر غلط ہو اور اگر کہنے والا عادل نہ ہو تو اس کی خبر کا اعتبار نہیں اور اگر مصلی کو شک ہو اور دو عادل نے خبر دی تو ان کی خبر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۱ وغیرہ)

مسئلہ ۶۴: اگر تعداد رکعات میں شک نہ ہو مگر خود اس نماز کی نسبت شک ہے مثلاً ظہر کی دوسری رکعت میں شک ہوا کہ یہ عصر کی نماز پڑھتا ہوں اور تیسری میں نفل کا شبہ ہو اور چوتھی میں ظہر کا تو ظہر ہی ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۰۵)

مسئلہ ۶۵: تشہد کے بعد یہ شک ہو اکہ تین ہوئیں یا چار اور ایک رکن کی قدر خاموش رہا اور سوچتا رہا۔ پھر یقین ہوا کہ چار ہو گئیں تو سجدۂ سہو واجب ہے اور اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد ایسا ہوا تو کچھ نہیں اور اگر اسے حدث ہوا اور وضو کر نے گیا تھا کہ شک واقع ہوا اور سوچنے میں وضو سے کچھ دیر تک رک رہا تو سجدۂ سہو واجب ہے ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۶۶: یہ شک واقع ہوا کہ اس وقت کی نماز پڑھی یا نہیں ۔ اگر وقت باقی ہے اعادہ کرے ورنہ نہیں ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۶۷: شک کہ سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے اور غلبہ ظن میں نہیں مگر جب کہ سوچنے میں ایک رکن کا وقفہ ہو گیا تو واجب ہو گیا۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۰۶،۷۰۷)

مسئلہ ۶۸: بے وضو ہونے یا مسح نہ کرنے کا یقین ہو اور اسی حالت میں ایک رکن ادا کر لیا تو نئے سرے سے نماز پڑھے اگرچہ پھر یقین ہوا کہ وضو تھا اور مسح کیا تھا۔ (عالمگیری ج ۱ص ۱۳۱)

مسئلہ ۶۹: نماز میں شک ہوا کہ مقیم ہے یا مسافر ہے تو چار پڑھے اور دوسری کے بعد قعدہ ضروری ہے۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۷۰: وتر میں شک ہوا کہ دوسری ہے یا تیسری تو اس میں قنوت پڑھ کر قعدہ کرلے ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں بھی قنوت پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۱)

مسئلہ۷۱: امام نماز پڑھ رہا ہے دوسری میں شک ہوا کہ پہلی ہے یا دوسری یا چوتھی اور تیسری میں شک ہوا اور مقتدیوں کی طرف نظر کی کہ وہ کھڑے ہوں تو کھڑا ہوجائوں بیٹھیں تو بیٹھ جائوں تو اس میں حرج نہیں اور سجدۂ سہو واجب نہ ہوا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۱)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button