بہار شریعت

سجدہ تلاوت کے متعلق مسائل

سجدہ تلاوت کے متعلق مسائل

صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جب ابن آدم آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے شیطان ہٹ جاتا ہے اور رو کر کہتا ہے ہائے بربادی میری، ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا اس نے سجدہ کیا اس کیلئے جنت ہے اور مجھے حکم ہوا میں نے انکار کیا میرے لئے دوزخ ہے۔

مسئلہ ۱: سجدہ کی چودہ آیتیں ہیں ۔ (ج ۱ ص ۷۱۶) وہ یہ ہیں :۔

(۱) سورۂ اعراف کی آخری آیت

ان الذین عند ربک لا یستکبرون عن عبادتہٖ و یسبحونہ‘ ولہ‘ یسجدون

(۲) سورۂ رعد میں یہ آیت

وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعًا و کرھًا و ظللھم بالغدو والاصال

(۳) سورۂ نحل میں یہ آیت

وللہ یسجد ما فی السموت والارض طوعًا و کرھًا و ظللھم بالغدو والاصال

(۴) سورۂ بنی اسرائیل میں یہ آیت

ان الذین اوتوا العلم من قبلہٖ اذا یتلی علیھم یخرون للاذقان سجدًا لا سبحن ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولا ط و یخرون للاذقان یبکون و یزیدھم خشوعًا

(۵) سورۂ مریم میں یہ آیت

اذا تتلی علیھم ایت الرحمن خروا سجدًا و بکیاہ

(۶) سورۂ حج میں پہلی جگہ جہاں سجدہ کا ذکر ہے یعنی یہ آیت

الم تر ان اللہ یسجد لہ‘ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجروا والدواب وکثیرٌ من الناس ط وکثیرٌ حق علیہ العذاب ومن یھن اللہ فما لہ‘ من مکرمٍ ط ان اللہ یفعل ما یشآء ہ

(۷)سورۂ فرقان میں یہ آیت

واذا قیل لھم اسجدوا للرحمن قالوا وما الرحمن ق انسجد لما تامرنا و زادھم نفورًا ہ

(۸) سورۂ نمل میں یہ آیت

الا یسجدوا للہ الذی یخرج الخبئً فی السموت والارض ویعلم ما تخفون وما تعلنون ہ اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم ہ

(۹) سورۂ الٓمٓ تنزیل میں یہ آیت

انما یؤمن بایتنا الذین اذا ذکروا بھا خروا سجدً و سبحوا بحمد ربھم وھم یستکبرون ہ

(۱۰) سورۂ صٓ میں یہ آیت

فاستغفر ربہ‘ وخرر اکعًا و اناب ہ فغفرنا لہ‘ ذلک ط وانا لہ‘ عندنا لزلفی وحسن ماب ہ

(۱۱) سورۂ حمٓ السجدۃ میں یہ آیت

ومن ایتہ اللیل والنھار والشمس والقمر ط لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون ہ فان استکبروا فالذین عند ربک یسبحون لہ‘ بالیل والنھار وھم لا یسئامون ہ

(۱۲) سورۂ نجم

فاسجدوا للہ واعبدوا

(۱۳) سورۂ انشقاق میں یہ آیت

فما لھم لا یؤمنون واذا قریٔ علیھم القران لا یسجدون ہ

(۱۴) سورۂ اقراء میں یہ آیت

واسجد وا قترب ہ

(عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۲)

مسئلہ ۲: آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز میں ہو کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سن سکے، سننے والے کے لئے یہ ضرور نہیں کہ بالقصد سنی ہو بلا قصد سننے سے بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ (ہدایہ عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۲، درمختار ج ۱ ص ۷۱۵،۷۱۷ وغیرہما)

مسئلہ ۳: سجدہ واجب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔ ( ردالمحتار ج۱ ص ۷۱۵)

مسئلہ ۴: اگر اتنی آواز سے آیت پڑھی کہ سن سکتا تھا مگر شور و غل یا بہرے ہونے کی وجہ سے نہ سنی تو سجدہ واجب ہو گیا اور اگر محض ہونٹ ہلے آواز پیدا نہ ہوئی تو واجب نہ ہوا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۲)

مسئلہ ۵: قاری نے آیت پڑھی مگر دوسرے نے نہ سنی تو اگرچہ اسی مجلس میں ہو اس پر سجدہ واجب نہ ہوا۔ البتہ نماز میں امام نے آیت پڑھی تو مقتدیوں پر واجب ہو گیا ۔ اگرچہ نہ سنی ہو بلکہ اگرچہ آیت پڑھتے وقت وہ موجود بھی نہ تھا، بعد پڑھنے کے سجدہ سے پیشتر شامل ہوا، اگر امام سے آیت سنی مگر امام کے سجدہ کرنے کے بعد اسی رکعت میں شامل ہوا تو امام کا سجدہ اس کے لئے بھی ہے اور دوسری رکعت میں شامل ہوا تو نماز کے بعد سجدہ کرے یونہی اگر شامل ہی نہ ہوا جب بھی سجدہ کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۶: سورۂ حج کی آخر آیت جس میں سجدہ کا ذکر ہے اس کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب نہیں کہ اس میں سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے البتہ اگر شافعی المذہب امام کی اقتدا کی اور اس نے اس موقع پر سجدہ کیا تو اس کی متابعت میں مقتدی پر بھی واجب ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۱۶، ۷۱۷)

مسئلہ ۷: امام نے آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہ کیا تو مقتدی بھی اس کی متابعت میں سجدہ نہ کرے گا اگرچہ آیت سنی ہو۔ (غنیہ)

مسئلہ ۸: مقتدی نے آیت سجدہ پڑھی تو نہ خود اس پر سجدہ واجب ہے نہ امام پر نہ اور مقتدیوں پر نہ نماز میں نہ بعد میں البتہ اگر دوسرے نمازی نے کہ اس کے ساتھ نماز میں شریک نہ تھا آیت سنی خواہ وہ منفرد ہو یا دوسرے امام کا مقتدی یا دوسرا امام ان پر بعد نماز سجدہ واجب ہے یونہی اس پر واجب ہے جو نماز میں نہ ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳، درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۱۷)

مسئلہ ۹: جو شخص نماز میں نہیں اور آیت سجدہ پڑھی اور نمازی نے سنی تو بعد نماز سجدہ کرے نماز میں نہ کرے اور نماز ہی میں کر لیا تو کافی نہ ہو گا، بعد نماز پھر کرنا ہو گا مگر نماز فاسد نہ ہو گی ہاں اگر تلاوت کرنے والے کے ساتھ سجدہ کیا اور اتباع کا قصد بھی کیا تو نماز جاتی رہی۔ (غنیہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۱۰: جو شخص نماز میں نہ تھا، آیت سجدہ مقتدی سے سن کر نما زمیں شامل ہو گیا تو سجدہ ساقط ہو گیا۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۱۸)

مسئلہ ۱۱: رکوع یا سجود میں آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ واجب ہو گیا اور اسی رکوع یا سجود سے بھی ادا ہو گیا اور تشہد میں پڑھی تو سجدہ واجب ہو گیا لہذا سجدہ کرے۔ (ردالمحتار ج۱ ص ۷۱۸)

مسئلہ ۱۲: آیت سجدہ پڑھنے والے پر اس وقت سجدہ واجب ہوتا ہے ک وہ وجوب نماز کا اہل ہو یعنی ادا یا قضا کا اسے حکم ہو لہذا اگر کافر یا مجنوں یا نابالغ یا حیض و نفاس والی عورت نے آیت پڑھی تو ان پر سجدہ واجب نہیں اور مسلمان عاقل بالغ اہل نماز نے ان سے سنی تو اس پر واجب ہو گیا اور جنون اگر ایک دن رات سے زیادہ نہ ہو تو مجنوں پر پڑھنے یا سننے سے واجب ہے، بے وضو یا جنب نے آیت پڑھی یا سنی تو سجدہ واجب ہے نشہ والے نے آیت پڑھی یا سنی تو سجدہ واجب ہے یونہی سوتے میں آیت پڑھی بعد بیداری اسے کسی نے خبر دی تو سجدہ کرے نشہ والے یا سونے والے نے آیت پڑھی تو سننے والے پر سجدہ واجب ہو گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۲، درمختار ج ۱ ص ۷۲۱، ۷۱۹)

مسئلہ ۱۳: عورت نے نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہ کیا یہاں تک کہ حیض آگیا تو سجدہ ساقط ہو گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۲)

مسئلہ ۱۴: نفل پڑھنے والے نے آیت پڑھی اور سجدہ بھی کر لیا پھر نماز فاسد ہو گئی تو اس کی قضا میں سجدہ کا اعادہ نہیں اور نہ کیا تھا تو بیرون نماز کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۲، درمختار ج ۱ ص ۷۲۳)

مسئلہ ۱۵: فارسی یا کسی اور زبان میں آیت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہو گیا، سننے والے نے یہ سمجھا ہو یا نہیں کہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے معلوم ہو تو بتا دیا گیا ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ تھا اور آیت پڑھی گئی ہو تو اس کی ضرورت نہیں کہ سننے والے کو آیت سجدہ ہونا بتایا گیا ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۱۶: چند شخصوں نے ایک ایک حرف پڑھا کہ سب کا مجموعہ آیت سجدہ ہو گیاتو کسی پر سجدہ واجب نہ ہوا، یونہی آیت کے ہجے کرنے یا ہجے سننے سے بھی واجب نہ ہو گا ، یونہی پرند سے آیت سجدہ سنی یا جنگل اور پہاڑ وغیرہ میں آواز گونجی اور بجنسہٖ آیت کی آواز کان میں آئی تو سجدہ واجب نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۲، ۱۳۳)

مسئلہ ۱۷: آیت سجدہ پڑھنے کے بعد معاذاللہ مرتد ہو گیا پھر مسلمان ہوا تو وہ سجدہ واجب نہ رھا۔ (عالمگیری ج۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۱۸: آیت سجدہ لکھنے یا اس کی طرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ۔(عالمگیری ج۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۱۹: سجدۂ تلاوت کے لئے تحریمہ کے سوا تمام وہ شرائط ہیں جو نماز کے لئے ہیں مثلاً طہارت ،ا ستقبال قبلہ، نیت، وقت اس معنی پر کہ آگے آتا ہے، ستر عورت ، لہذا اگر پانی پر قادر ہے، تیمم کر کے سجدہ کرنا جائز نہیں ۔ (درمختار ج۱ ص ۷۱۸ وغیرہ)

مسئلہ ۲۰: اس کی نیت میں یہ شرط نہیں کہ فلاں آیت کا سجدہ ہے بلکہ سجدۂ تلاوت کی نیت کافی ہے۔ (درمختار، ردالمحتار ج۱ ص ۷۱۸)

مسئلہ ۲۱: جو چیزیں نماز کو فاسدس کرتی ہیں ان سے سجدہ بھی فاسد ہو جاتا ہے مثلاً حدث عمد وکلام، قہقہہ۔ (درمختارج۱ ص ۷۱۸وغیرہ)

مسئلہ ۲۲: سجدہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اللہ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سبحان ربی الاعلی کہے پھر اللہ اکبر کہتا ہوا کھڑا ہو جائے، پہلے پیچھے دونوں بار اللہ اکبرکہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب۔ (عالمگیری ج۱ ص ۱۳۵، درمختار ج۱ ص ۷۱۹ وغیرہ)

مسئلہ ۲۳: مستحب یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا آگے اور سننے والا اس کے پیچھے صف باندھ کر سجدہ کریں اور یہ بھی مستحب ہے کہ سامعین اس سے پہلے سر نہ اٹھائیں اور اگر اس کے خلاف کیا مثلاً اپنی اپنی جگہ پر سجدہ کیا اگرچہ تلاوت کرنے والے کے آگے یا اس سے پہلے سجدہ کیا یا سر اٹھالیا یا تلاوت کرنے والے نے اس وقت سجدہ نہ کیا اور سامعین نے کر لیا تو حرج نہیں اور تلاوت کرنے والے کا سجدہ فاسد ہو جائے تو ان کے سجدوں پر اس کا کچھ اثر نہیں کہ یہ حقیقۃً اقتدا نہیں لہذا عورت نے اگر تلاوت کی تو مردوں کی امام یعنی سجدہ میں آگے ہو سکتی ہے اور عورت مرد کے محاذی ہو جائے تو فاسد نہ ہو گا۔ (غنیہ، عالمگیری ج۱ ص ۱۳۴)

مسئلہ ۲۴: اگر سجدہ سے پہلے یا بعد میں کھڑا نہ ہوا یا اللہ اکبرنہ کہا یا سبحان نہ پڑھا تو ہو جائے گا مگر تکبیر چھوڑنا نہ چاہیئے کہ سلف کے خلا ف ہے۔ (عالمگیری ج۱ ص ۱۳۵، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۱۹)

مسئلہ ۲۵: اگر تنہا سجدہ کرے تو سنت یہ ہے کہ اتنی آواز سے تکبیر کہے کہ خود سن لے اور دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ ہوں تو مستحب یہ ہے کہ اتنی آواز سے کہے کہ دوسرے بھی سنیں ۔ (ردالمحتار)

مسئلہ ۲۶: یہ جو کہا گیا ہے کہ سجدہ تلاوت میں سبحان ربی الاعلی پڑھے یہ فرض نماز میں ہے اور نفل نماز میں سجدہ کیا تو چاہے یہ پڑھے یا اور دعائیں جو احادیث میں وارد ہیں وہ پڑھے مثلاً

سجد وجھی للذی خلقہ‘ وصورہ‘ وشق سمعہ‘ وبصرہ‘ بحولہٖ وقوتہٖ فتبارک اللہ احسن الخالقین

(میرے چہرے نے سجدہ کیا اس کے لئے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اپنی طاقت وقوت سے کان اور آنکھ کی جگہ پھاڑی برکت والا ہے اللہ جوا چھا پیدا کرنے والا ہے) یا

اللھم اکتب لی عندک بھا اجرًا و رفع عنی بھا وزرًا واجعلھا لی عندک زخرًا و تقبلھا منی کما تقبلتھا من عبدک داو‘د

(اے اللہ اس سجدہ کی وجہ سے تو میرے لئے اپنے نزدیک ثواب لکھ اور اس کی وجہ سے مجھ سے گناہ کو دور کر اور اسے تو میرے لئے اپنے پاس ذخیرہ بنا اور اس کو مجھ سے قبول کر جیسا تو نے اپنے بندے دائود علیہ السلام سے قبول کیا) یا

سبحان ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولًا ط

(پاک ہے ہمارا رب بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ ہو کر رہے گا)

اور اگر بیرون نماز ہو تو چاہے یہ پڑھے یا صحابہ و تابعین سے جو آثار مروی ہیں وہ پڑھے مثلاً ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے وہ کہتے تھے:۔

اللھم لک سجد سوادی ربک امن فوادی اللھم ارزقنی علمًا ینفعنی وعملًا یرفعنی

(اے اللہ میرے جسم نے تجھے سجدہ کیا اور میرا دل تجھ پر ایمان لایا۔ اے اللہ تو مجھ کو علم نافع اور عمل روزی کر )

(غنیہ، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۱۹)

مسئلہ ۲۷: سجدۂ تلاوت کے لئے اللہ اکبرکہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانا نہ اس میں تشہد ہے نہ سلام۔(تنویر الابصار ج ۱ ص ۷۱۹)

مسئلہ ۲۸: آیت سجدہ بیرون نماز پڑھی تو فوراً سجدہ کر لینا واجب نہیں ہاں بہتر ہے کہ فوراً کر لے اور وضو ہو تو تاخیر مکروہ تنزیہی۔ (درمختار ج۱ ص ۷۲۱)

مسئلہ ۲۹: اس وقت اگر کسی وجہ سے سجدہ نہ کر سکے تو تلاوت کرنے والے سامع کو یہ کہہ لینا مستحب ہے۔

سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر

(ہم نے سنا اور حکم مانا تیری مغفرت کا سوال کرتے ہیں اے پروردگارتیری ہی طرف پھیرنا ہے)

(ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۱)

مسئلہ ۳۰: سجدۂ تلاوت نماز میں کرنا واجب ہے تاخیر کرے گا گناہگار ہو گا اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک حرمت نماز میں ہے کر لے اگرچہ سلام پھیر چکا ہو اور سجدہ سہو کرے۔ (درمختار، ردالمحتار ج۱ ص ۷۲۲) تاخیر سے مراد تین آیت سے زیادہ پڑھ لینا ہے کم میں تاخیر نہیں مگر آخر سورت میں اگر سجدہ واقع ہے مثلاً اتت تو سورت پوری کر کے سجدہ کرے گا جب بھی حرج نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۳)

مسئلہ ۳۱: نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے بیرون نماز نہیں ہو سکتا۔ اور قصداً نہ کیا تو گناہگار ہوا تو بہ لازم ہے بشرطیکہ آیت سجدہ کے بعد فوراً رکوع و سجود نہ کیا ہو، نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہ کیا پھر وہ نماز فاسد ہو گئی یا قصداً فاسد کی تو بیرون نماز سجدہ کر لے اور سجدہ کر لیا تھا تو حاجت نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۲۳، ۷۲۲)

مسئلہ ۳۲: اگر آیت پڑھنے کے بعد فوراً نماز کا سجدہ کر لیا یعنی آیت سجدہ کے بعد تین آیت سے زیادہ نہ پڑھا اور رکوع کر کے سجدہ کیا تو اگرچہ سجدۂ تلاوت کی نیت نہ ہو ادا ہو جائے گا۔ (عالمگیری ج ۱ص ۱۳۴، ۱۳۳، درمختار ج ۱ ص ۷۲۴)

مسئلہ ۳۳: نماز کا سجدۂ تلاوت سجدہ سے بھی ادا ہو جاتا ہے اور رکوع سے بھی۔ مگر رکوع سے جب ادا ہو گا کہ فوراً کرے، فوراً نہ کیا تو سجدہ کرنا ضروری ہے اور جس رکوع سے سجدۂ تلاوت ادا کیا خواہ وہ رکوع رکوع نماز ہو یا اس کے علاوہ۔ اگر رکوع نماز ہے تو اس میں ادائے سجدہ کی نیت کر لے اور اگر خاص سجدہ ہی کے لئے یہ رکوع کیا تو اس رکوع کے اٹھنے کے بعد مستحب یہ ہے کہ دو تین آیتیں یا زیادہ پڑھ کر رکوع نماز کرے فوراً نہ کرے۔ اور اگر آیت سجدہ سورت ختم ہے اور سجدہ کے لئے رکوع کیا تو دوسری سورت کی آیتیں پڑھ کر رکوع نماز کرے۔ (غنیہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳، درمختار، ردالمحتار ج۱ ص ۷۲۳، ۷۲۴)

مسئلہ ۳۴: آیت سجدہ بیچ سورت میں ہے تو افضل یہ ہے کہ اسے پڑھ کر سجدہ کرے پھر کچھ اور آیتیں پڑھ کر رکوع کرے اور اگر سجدہ نہ کیا اور رکوع کر لیا اور اس رکوع میں ادائے سجدہ کی بھی نیت کر لی تو کافی ہے اور اگر سجدہ نہ کیا نہ رکوع کیا بلکہ سورت ختم کر کے رکوع کیا توا گرچہ نیت کرے ناکافی ہے اور جب تک نماز میں ہے سجدہ کی قضا کر سکتا ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۳۵: سجدہ پر سورت ختم ہے اور آیت سجدہ پڑھکر سجدہ کیا تو سجدہ سے اٹھنے کے بعد دوسری سورت کی کچھ آیتیں پڑھ کر رکوع کرے اور بغیر پڑھے رکوع کر دیا تو بھی جائز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۳۶: اگر آیت سجدہ کے بعد ختم سورت میں دو تین آیتیں باقی ہیں تو چاہے فوراً رکوع کر دے یا سورت ختم کرنے کے بعد یا فوراً سجدہ کر لے یا باقی آیتیں پڑھ کر رکوع میں جائے تو سورت ختم کر کے سجدہ میں جائے سب طرح اختیار ہے مگر اس سورت اخیرہ میں سجدہ سے اٹھ کر کچھ آیتیں دوسری سورت کی پڑھ کر رکوع کرے۔ (غنیہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۳۷: رکوع جاتے وقت سجدہ کی نیت نہیں کی بلکہ رکوع میں یا اٹھنے کے بعد کی تو یہ نیت کافی نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۳۸: تلاوت کے بعد امام رکوع میں گیا اور نیت سجدہ کر لی مگر مقتدی نے نہ کی تو ان کا سجدہ ادا نہ ہوا لہذا امام جب سلام پھیرے تو مقتدی سجدہ کر کے قعدہ کر یں اور سلام پھیریں اور اس قعدہ میں تشہد واجب ہے اگر قعدہ نہ کیا تو نماز فاسد ہو گئی کہ قعدہ جاتا رہا۔ یہ حکم جہری نماز کا ہے سری میں چونکہ مقتدی کو علم نہیں لہذا معذور ہے اور اگر امام نے رکوع سے سجدہ تلاوت کی نیت نہ کی تو اسی سجدۂ نماز سے مقتدیوں کا بھی سجدۂ تلاوت ادا ہو گیا۔ اگرچہ نیت نہ ہو لہذا امام کو چاہیے کہ رکوع میں سجدہ کی نیت نہ کرے کہ مقتدیوں نے اگر نیت نہ کی تو ان کا سجدہ ادا نہ ہو گا اور رکوع کے بعد جب امام سجدہ کرے گا تو اس سے سجدہ تلاوت بہرحال ادا ہو جائے گا نیت کرے یا نہ کرے پھر نیت کی کیا حاجت۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۴، ۱۳۳، درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۴)

مسئلہ ۳۹: جہری نماز میں امام نے آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ کرنا اولی ہے اور سری میں رکوع کرنا کہ مقتدیوں کو دھوکا نہ لگے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۴)

مسئلہ ۴۰: امام نے سجدۂ تلاوت کیا مقتدیوں کو رکوع کا گمان ہو اور رکوع میں گئے تو رکوع توڑ کر سجدہ کریں اور جس نے رکوع اور ایک سجدہ کیا جب بھی ہو گیا اور رکوع کر کے دو سجدے کر لئے تو اس کی نماز فاسد ہو گئی۔ (درمختار ج۱ ص ۷۲۴)

مسئلہ ۴۱: مصلی سجدہ تلاوت بھول گیا۔ رکوع یا سجدہ یا قعدہ میں یاد آیا تو اسی وقت سجدہ کرلے پھر جس رکن میں تھا اس کی طرف عود کرے یعنی رکوع میں تھا تو سجدہ کر کے رکوع میں واپس ہو۔ وعلی ہذا لقیاس۔ اور اگر اس رکن کا اعادہ نہ کیا جب بھی نماز ہو گئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۴) مگر قعدۂ اخیرہ کا اعادہ فرض ہے کہ سجدہ سے قعدہ باطل ہو جاتا ہے۔

مسئلہ ۴۲: ایک مجلس میں سجدہ کی ایک آیت کو بار بار پڑھا یا سنا تو ایک ہی سجدہ واجب ہو گا، اگرچہ چند شخصوں نے سنا یونہی اگر آیت پڑھی اور وہی آیت دوسرے سے سنی جب بھی ایک ہی سجدہ واجب ہو گا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۶)

مسئلہ ۴۳: پڑھنے والے نے کئی مجلسوں میں ایک آیت بار بار پڑھی اور سننے والے کی مجلس نہ بدلی تو پڑھنے والا جنتی مجلسوں میں پڑھ گا اس پر اتنے ہی سجدے واجب ہوں گے اور سننے والے پر ایک، اور اگر اس کا عکس ہے یعنی پڑھنے والا ایک مجلس میں بار بار پڑھتا رہا اور سننے والے کی مجلس بدلتی رہی تو پڑھنے والے پر ایک سجدہ واجب ہو گا اور سننے والے پر اتنے جتنی مجلسوں میں سنا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۴)

مسئلہ ۴۴: مجلس میں آیت پڑھی یا سنی اور سجدہ کر لیا پھر اسی مجلس میں وہی آیت پڑھی یا سنی تو وہ پہلا سجدہ کافی ہے۔ (درمختار،ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۶)

مسئلہ ۴۵: ایک مجلس میں چند بار آیت پڑھی یا سنی اور آخر میں اتنی ہی بار سجدہ کرنا چاہے تو یہ بھی خلاف مستحب ہے بلکہ ایک ہی بار کرے بخلاف درود شریف کے نام اقدس لیا یا سنا تو ایک بار درود شریف واجب اور ہر بار مستحب۔

مسئلہ ۴۶: دو ایک لقمہ کھانے دو ایک گھونٹ پینے کھڑے ہو جانے، دوایک قدم چلنے، سلام کا جواب دینے، دو ایک بات کرنے مکان کے ایک گوشہ سے دوسرے کی طرف چلے جانے سے مجلس نہ بدلے گی ہاں اگر مکان بڑا ہے جیسے شاہی محل تو ایسے مکان میں ایک گوشہ سے دوسرے میں جانے سے مجلس بدل جائے گی۔ کشتی میں ہے اور کشتی چل رہی ہے مجلس نہ بدلے گی ریل کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے، جانور پر سوار ہے اور وہ چل رہا ہے تو مجلس بدل رہی ہے ہاں اگر سواری پر نماز پڑھ رہا ہے تو نہ بدلے گی، تین لقمے کھانے، تین گھونٹ پینے، تین کلمے بولنے، تین قدم میدان میں چلنے، نکاح یا خرید و فروخت کرنے، لیٹ کر سو جانے سے مجلس بدل جائے گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۴، غنیہ، درمختار ج ۱ ص ۷۲۷ وغیرہا)

مسئلہ ۴۷: سواری پر نما زپڑھتا ہے اور کوئی شخص ساتھ چل رہا ہے یا وہ بھی سوا ر ہے مگر نماز میں نہیں ۔ ایسی حالت میں اگر آیت بار بار پڑھی تو اس پر ایک سجدہ واجب ہے اور ساتھ والے پر اتنے جتنی بار سنا۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۲۹، ۷۲۸ وغیرہما)

مسئلہ ۴۸: تانا تننا، نہر یا حوض میں تیرنا، درخت کی ایک شاخ سے دوسری پر جانا، ہل جوتنا، دائیں چلانا، چکی کے بیل کے پیچھے پھرنا، عورت کا بچہ کودودھ پلانا، ان سب صورتوں میں مجلس بدل جاتی ہے جتنی بار پڑھے گا یا سنے گا اتنے سجدے واجب ہوں گے۔ (غنیہ، درمختار ج ۱ ص ۷۲۸، ۷۲۷ وغیرہما) یہی حکم کولھو کے بیل کے پیچھے چلنے کا ہونا چاہیے۔

مسئلہ ۴۹: ایک جگہ بیٹھے بیٹھے تانا تن رہا ہے تو مجلس بدل رہی ہے اگرچہ فتح القدیر میں اس کے خلاف لکھا۔ اس لئے کہ یہ عمل کثیر ہے ۔(ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۸)

مسئلہ ۵۰: کسی مجلس میں دیر تک بیٹھنا قرأت، تسبیح، تہلیل، درس وعظ میں مشغول ہونا مجلس کو نہیں بدلے گا اور اگر دونوں بار پڑھنے کے درمیان کوئی دنیا کا کام کیا مثلاً کپڑا سینا وغیرہ تو مجلس بدل گئی۔(ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۸)

مسئلہ ۵۱: آیت سجدہ بیرون نماز تلاوت کی اور سجدہ کر کے پھر نماز شروع کی اور نماز میں پھر وہی آیت پڑھی تو اس کے لئے دو بارہ سجدہ کرے اور اگر پہلے نہ کیا تو یہی اس کے بھی قائم مقام ہو گیا بشرطیکہ آیت پڑھنے اور نماز کے درمیان کوئی اجنبی فعل فاصل نہ ہوا اور اگر نہ پہلے سجدہ کیا نہ نماز میں تو دونوں ساقط ہو گئے اور گناہگار ہوا، توبہ کرے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۵)

مسئلہ ۵۲: ایک رکعت میں بار بار وہی آیت پڑھی تو ایک ہی سجدہ کافی ہے۔ خواہ چند بار پڑھ کر سجدہ کیا یا ایک بار پڑھکر سجدہ کیا پھر دوبارہ سہ بارہ آیت پڑھی۔ یونہی اگر ایک نماز کی سب رکعتوں میں یا دو تین میں وہی آیت پڑھی تو سب کے لئے ایک سجدہ کافی ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۵)

مسئلہ ۵۳: نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کر لیا پھر سلام کے بعد اسی مجلس میں وہی آیت پڑھی تو اگر کلام نہ کیا تھا تو وہی نماز والا سجدہ اس کے قائم مقام بھی ہے اور کلام کر لیا تھا تو دوبارہ سجدہ کرے اور اگر نماز میں سجدہ نہ کیا تھا پھر سلام پھیرنے کے بعد وہی آیت پڑھی تو ایک سجدہ کرے، نماز والا ساقط ہو گیا۔ (مانیہ، غنیہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۵، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۶)

مسئلہ ۵۴: نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کیا پھر بے وضو ہوا اور وضو کر کے بنا کی پھر وہی آیت پڑھی تو دوسرا سجدہ واجب نہ ہوا اور اگر بنا کے بعد دوسرے سے وہی آیت سنی تو دوسرا واجب ہے اور یہ دوسرا سجدہ نماز کے بعد کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۵)

مسئلہ ۵۵: ایک مجلس میں سجدہ کی چند آیتیں پڑھیں تو اتنے ہی سجدے کرے ایک کافی نہیں ۔ (عامہ کتب)

مسئلہ ۵۶: پوری سورت پڑھنا اور آیت سجدہ چھوڑ دینا مکروہ تحریمی ہے اور صرف آیت سجدہ کے پڑھنے سے کراہت نہیں ، مگر بہتر یہ ہے کہ دو ایک آیت پہلے یا بعد کی ملالے۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۲۹)

مسئلہ ۵۷: سامعین نے سجدہ کا تہیہ کیا ہو اور سجدہ ان پر بار نہ ہو تو آیت بلند آواز سے پڑھنا اولی ہے ورنہ آہستہ اور سامعین کا حال معلوم نہ ہو کہ آمادہ ہیں یا نہیں جب بھی آہستہ پڑھنا بہتر ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۳۰)

مسئلہ ۵۸: آیت سجدہ پڑھی گئی مگر کام میں مشغولی کے سبب نہ سنی تو اصح یہ ہے کہ سجدہ واجب نہیں مگر بہت سے علماء کہتے ہیں کہ اگرچہ نہ سنی سجدہ واجب ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۳۰)

فائدۂ اھم: جس مقصد کے لئے ایک مجلس میں سجدہ کی سب آیتیں پڑھ کر سجدے کرے اللہ عزوجل اس کا مقصد پورا فرمائے گا۔ خواہ ایک ایک آیت پڑھ کر اس کا سجدہ کرتا جائے یہ سب کو پڑھ کر آخر میں چودہ سجدے کر لے۔ (غنیہ، درمختار ج ۱ ص ۷۳۰ وغیرہما)

مسئلہ ۵۹: زمین پر آیت سجدہ پڑھی تو یہ سجدہ سواری پر نہیں کر سکتا مگر خوف کی حالت میں ہو سکتا ہے اور سواری پر آیت پڑھی تو سفر کی حالت میں سواری پر سجدہ کر سکتا ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۵)

مسئلہ ۶۰: مرض کی حالت میں اشارہ سے بھی سجدہ ادا ہو جائے گا یونہی سفر میں سواری پر اشارہ سے ہو جائے گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۵، وغیرہ)

مسئلہ ۶۱: جمعہ و عیدین اور سری نمازوں میں اور جس نماز میں جماعت عظیم ہو آیت سجدہ امام کو پڑھنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر آیت کے بعد فوراً رکوع و سجود کر دے اور رکوع میں نیت نہ کرے تو کراہت نہیں ۔ (غنیہ، درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۲۱)

مسئلہ ۶۲: منبر پر آیت سجدہ پڑھی تو خود اس پر اور سننے والوں پر سجدہ واجب ہے اور جنہوں نے نہ سنی ان پر نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۳۲)

مسئلہ ۶۳: سجدۂ شکر مثلاً اولاد پیدا ہوئی یا مال پایا یا گمی ہوئی چیز مل گئی یا مریض نے شفا پائی یا مسافر واپس آیا غرض کسی نعمت پر سجدہ کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو سجدۂ تلاوت کا ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۶، ردالمحتار ج۱ ص ۷۳۱)

مسئلہ ۶۴: سجدہ بے سبب جیسا کہ اکثر عوام کرتے ہیں نہ ثواب ہے نہ مکروہ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۳۶)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button