شرعی سوالات

ساری رقم ایک نے دی یا دونوں نے برابر رقم ڈالی یا ایک نے زیادہ دوسرے نے کم ، تو ان صورتوں میں نفع و نقصان کا حکم

سوال:

زید و بکر کسی کاروبار میں شرکت کرنا چاہتے ہیں  لیکن ان کی چند صورتیں ہیں ۔ان میں سے کون سی صورت جائز ہے اور کون سی ناجائز؟

  • زید و بکر دونوں رقم آدھی آدھی ادا کرتے ہیں اور محنت کے ہر کام میں دونوں برابر شریک ہیں اور منافع کی رقم برابر رکھتے ہیں۔
  • زید نے بکر سے کہا میں لاگت کی پوری رقم دیتا ہوں لیکن کام صرف تمہیں کرنا پڑے گا۔ منافع برابر تقسیم کر لیں گے۔
  • زید پوری رقم بھی دے گا اور ہر کام میں شریک بھی ہو گا اور منافع کی رقم برابر تقسیم ہو گی۔
  • زید نے آدھے سے زیادہ دی اور بکر نے آدھے سے کم دیا ہو کام میں دونوں برابر شریک رہیں گے اور منافع آدھا تقسیم ہو گا۔

ان چاروں صورتوں میں کسی ایک نے اپنی بے توجہی  یا ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے منافع کی بجائے گھاٹا کھایا تو اس کے حصے کے رقم میں سے کٹوتی ہو گی؟اور اس کٹوتی کی وجہ سے اس کا ساتھی گناہ گار تو نہ ہو گا؟

جواب:

  • پہلی صورت میں شرکت جائز ہے۔ منافع تو اتنا ہی ملے گا جتنا طے ہوا نقصان ہونے کی صورت میں نصف نصف تاوان لازم ہو گا۔
  • دوسری صورت مضاربت کی ہے۔ اس میں منافع تو قرارداد کے مطابق برابر تقسیم ہو گا اور مصارف اور نقصان مالک کے اوپر ڈالا جائے گا۔
  • اس کا حکم دوسری صورت کے موافق ہے۔
  • اس صورت میں منافع حسب قرارداد ، تاوان مال شرکت کے حساب سے یعنی جس کا زیادہ ہے وہ اسی حساب سے اور جس کا کم ہے وہ اس حساب سے۔

(فتاوی بحر العلوم، جلد4، صفحہ104، شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button