بہار شریعت

زکوۃ کے متعلق مسائل

زکوۃ کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:

ومما رزقنھم ینفقون ہ

متعلقہ مضامین

(اور متقی وہ ہیں کہ ہم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں )

اورفرماتا ہے:۔

خذ من اموالھم صدقۃً تطھرھم وتزکیھم بھا

( ان کے مالوں میں سے صدقہ لو اس کی وجہ سے انہیں پاک اور ستھرا بنا دو)

اور فرماتاہے:۔

والذین ھم للزکاۃ فاعلون ہ

(اور فلاح پاتے ہیں جو زکوۃ ادا کرتے ہیں )

اور فرماتا ہے

وما انفقتم من شییٍٔ فھو یخلفہ‘ وھو خیرا الرازقین

(اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالی اس کی جگہ اور دے گا اور وہ بہتر روزی دینے والا ہے)

مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃٍ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃٍ مائۃ حبۃٍ ط واللہ یضعف لمن یشآئ واللہ واسعٌ علیمٌ ہ الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ ثم لا یتبعون مآ انفقوا منا ولا اذیً لا لھم اجرھم عند ربھم ولا خوفٌ علیھم ولاھم یحزنون ہ قولٌ معروفٌ و مغفرۃٌ خیرٌ من صدقۃٍ یتبعھا اذیً ہ واللہ غنی حلیمٌ ہ

(جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی کہاوت اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں ۔ ہر بال میں سو دانے اور اللہ جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا اور بڑا علم والا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے نہ اذیت دیتے ہیں ان کے لئے ان کاثواب ان کے رب کے حضور ہے اور نہ ان پر کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اچھی بات اور مغفرت اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت دینا ہو اور اللہ بے پرواہ اورحلم والا ہے)

اور فرماتا ہے:۔

لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ہ وما تنفقوا من شییٍٔ فان اللہ بہٖ علیمٌ ہ

(ہرگز نیکی حاصل نہ کرو گے جب تک اس میں سے نہ خرچ کرو جسے محبوب رکھتے ہو اور جو کچھ خرچ کروگے اللہ اسے جانتا ہے)

اور فرماتا ہے:۔

لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البرمن امن باللہ والیوم الاخر والملئکۃ والکتب والنبیین ج واتی المال علی حبہٖ ذوی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل لا والسآئلین وفی الرقاب ہ واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ والموفون بعھدھم اذا عاھدوا والصبرین فی الباسآئ والضرآئ وحین الباس ہ اولئک الذین صدقوا ط واولئک ھم المتقون ہ

(نیکی اس کا نام نہیں کہ مشرق و مغرب کی طرف منہ کر دو نیکی تو اس کی ہے جو اللہ اور پچھلے دن اور ملائکہ و کتاب و انبیاء پر ایمان لایا اور مال کو اس کی محبت پر رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور سائلین کو اور گردن چھٹانے میں دیا اور نماز قائم کی اور زکوۃ دی اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی معاہدہ کریں تو اپنے عہد کو پورا کریں اور تکلیف و مصیبت اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے وہ لوگ سچے ہیں اور وہی لوگ متقی ہیں )

اور فرماتا ہے:۔

ولا یحسبن الذین یبخلون بمآ اتھم اللہ من فضلہٖ ھو خیرًا لھم بل ھو شر لھم سیطوقون ما بخلوا بہٖ یوم القیمۃ ط

(جو لوگ بخل کرتے ہیں اس کے ساتھ جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ ان کے لئے بہتر ہے بلکہ یہ ان کے لئے برا ہے۔ اس چیز کا قیامت کے دن ان کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا جس کے ساتھ بخل کیا)

اور فرماتا ہے۔

والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ لا فبشرھم بعذابٍ الیمٍ ہ یوم یحمی علیھا فی نار جھنم فتکوی بھا جباھھم وجنوبھم وظھورھم ط ھذا ما کنزتم لانفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون ہ

(جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو جس دن آتش جہنم میں تپائے جائیں گے اور ان سے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہاجائے گا) یہ وہ ہے جو تم نے اپنے نفس کے لئے جمع کیا تھا تو اب چکھو جو جمع کرتے تھے)

نیز زکوۃ کے بیان میں بکثرت آیات وارد ہوئیں جن سے اس کا مہتم بالشان ہونا ظاہر۔

احادیث اس کے بیان میں بہت ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں :۔

حدیث۱،۲: صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کو اللہ تعالی مال دے اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیاں ہوں گی ۔ وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں ۔ میں تیرا خزانہ ہوں ۔ اس کے بعد حضور نے اس آیت کی تلاوت کی ولا یحسبن الذین یبخلون الآیہ۔ اسی کے مثل ترمذی و نسائی و ابن ماجہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔

حدیث۳: امام احمد کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یوں ہے جس مال کی زکوۃ نہیں دی گئی قیامت کے وہ گنجا سانپ ہو گا مالک کو دوڑائے گا وہ بھاگے گا یہاں تک کہ اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالے گا۔

حدیث۴،۵: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی فرماتے ہیں ﷺ جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اس کا حق ادا نہ کرے تو جب قیامت کا دن ہو گا اس کے لئے آگ کے پتر بنائے جائیں گے اور ان پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور ان سے اس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی جب ٹھنڈے ہونے پر آئیں گے پھر ویسے ہی کر دیئے جائیں گے ۔ یہ معاملہ اس دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے اب وہ اپنی راہ دیکھے گا خواہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف اور اونٹ کے بارے میں فرمایا جو اس کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ اونٹ سب کے سب نہایت فربہ ہو کر آئیں گے پائوں سے اسے روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے جب ان کی پچھلی جماعت گزر جائے گی پہلی لوٹے گی اور گائے اور بکریوں کے بارے میں فرمایا کہ اس شخص کو ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ سب کی سب آئیں گی نہ ان میں مڑے ہوئے سینگ کی کوئی ہو گی نہ بے سینگ کی، نہ ٹوٹے ہوئے سینگ کی اورسینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی اور اسی کے مثل صحیحین میں اونٹ اور گائے اور بکریوں کی زکوۃ نہ دینے میں ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی۔

حدیث۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے اس وقت اعراب میں کچھ لوگ کافر ہو گئے (کہ زکوۃ کی فرضیت سے انکار کر بیٹھے) صدیق اکبر نے ان پر جہاد کا حکم دیا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ان سے آپ کیونکر قتال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تویہ فرمایا ہے مجھے حکم ہے کہ لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ لآ الہ الا اللہ کہیں اور جس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا اس نے اپنی جان اور مال بچا لیا مگر حق اسلام میں اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے (یعنی یہ لوگ لا الہ الا اللہ تو کہنے والے ہیں ان پر کیسے جہاد کیا جائے گا) صدیق اکبر نے فرمایا خدا کی قسم میں اس سے جہاد کروں گا جو نماز و زکوۃ میں تفریق کرے (کہ نماز کو فرض مانے اور زکوہ کی فرضیت سے انکار کرے) زکوۃ حق مال کا ہے خدا کی قسم بکری کا بچہ جو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر کیا کرتے تھے اگر مجھے دینے سے انکار کریں گے تو ان پر ان سے جہاد کروں گا فاروق اعظم فرماتے ہیں واللہ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے صدیق کا سینہ کھول دیا ہے۔ اس وقت میں نے پہچان لیا کہ وہی حق ہے۔

حدیث۷: ابودائود نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ جب یہ آیہ کریمہ والذین یکنزون الذھب والفضۃ نازل ہوئی مسلمانوں پر شاق ہوئی (سمجھے کہ چاندی سونا جمع کرنا حرام ہے تو بہت دقت کا سامنا ہو گا) فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا۔ میں تم سے مصیبت دور کروں گا۔ حاضر خدمت اقدس ہوئے ۔ عرض کی یا رسول اللہ یہ آیت حضور کے اصحاب پر گراں معلوم ہوئی فرمایا کہ اللہ تعالی نے زکوۃ اس لئے فرض کی کہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے اور مواریث اس لئے فرض کئے کہ تمہارے بعد والوں کے لئے ہو (یعنی مطلقاً مال جمع کرنا حرام ہوتا تو زکوۃ سے مال کی طہارت نہ ہوتی بلکہ زکوۃ کس چیز پر واجب ہوتی اور میراث کا ہے میں جاری ہوتی بلکہ جمع کرنا حرام وہ ہے کہ زکوۃ نہ دے) اس پر فاروق اعظم نے تکبیر کہی۔

حدیث۸: بخاری اپنی تاریخ میں اور امام شافعی و بزاز و بیہقی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زکوۃ کسی مال میں نہ ملے گی مگر اسے ہلاک کر دے گی بعض ائمہ نے اس حدیث کے یہ معنی بیان کئے کہ زکوۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اس حلال کو ہلاک کر دے گا اور امام احمد نے یہ فرمایا کہ معنے یہ ہیں کہ مالدار شخص مال زکوۃ لے تویہ مال زکوۃاس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکوۃ تو فقیروں کے لئے ہے اور دونوں معنے صحیح ہیں ۔

حدیث۹: طبرانی نے اوسط میں بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی حضور فرماتے ہیں جو قوم زکوۃ نہ دے گی اللہ تعالی اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔

حدیث۱۰: طبرانی نے اوسط میں فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضور فرماتے ہیں خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوۃ نہ دینے سے تلف ہوتا ہے۔

حدیث۱۱: صحیحین میں احنف بن قیس سے مروی سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ان کے سر پستان پر جہنم کا گرم پتھر رکھیں گے کہ سینہ توڑ کرشانہ سے نکل جائے اور شانہ کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینہ سے نکلے گا اور صحیح مسلم شریف میں یہ بھی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا کہ پیٹھ توڑ کر کروٹ سے نکلے گا اور گدی توڑ کر پیشانی سے۔

حدیث۱۲: طبرانی امیر المومنین علی کرم اللہ وجہ الکریم سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر مال داروں کے ہاتھوں سن لو ایسے تونگروں سے اللہ تعالی سخت حساب لے گا اور انہیں دردناک عذاب دے گا۔

حدیث۱۳: نیز طبرانی انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ قیامت کے دن تونگروں کے لئے محتاجوں کے ہاتھوں سے خرابی ہے۔ محتاج عرض کریں گے ہمارے حقوق جو تو نے ان پر فرض کئے تھے انہوں نے ظلماً نہ دیئے اور اللہ عزوجل فرمائے گا مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی کہ تمہیں اپنا قرب عطا کروں گا اور انہیں دور رکھوں گا۔

حدیث۱۴: ابن خزیمہ و ابن حبان اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے۔ ا ن میں ایک وہ تونگر ہے کہ اپنے مال میں اللہ عزوجل کا حق ادا نہیں کرتا۔

حدیث۱۵: امام احمد مسند میں عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے اسلام میں چار چیزیں فرض کی ہیں جو ان میں سے تین ادا کرے وہ اسے کچھ کام نہ دیں گے جب تک پوری چاروں بجا نہ لائے۔ نماز، زکوۃ ، روزہ ٔرمضان، حج بیت اللہ ۔

حدیث۱۶: طبرانی کبیر میں بسند صحیح راوی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ہمیں حکم دیا گیا کہ نماز پڑھیں اور زکوۃ دیں اور جو زکوۃ نہ دیں اس کی نماز قبول نہیں ۔

حدیث۱۷: صحیحین و مسند احمد و سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی فرماتے ہیں ﷺ جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں جو نمازی ہے دروازۂ نماز سے بلایا جائے گا جو اہل جہاد ہے دروازۂ جہاد سے بلایا جائے اور جو اہل صدقہ ہے دروازۂ صدقہ سے بلایا جائے گا جو روزہ دار ہے باب الریان سے بلایا جائے گا۔ صدیق اکبر نے عرض کی اس کی تو کچھ ضرورت نہیں کہ ہر دروازے سے بلایا جائے (یعنی مقصود دخول جنت ہے وہ ایک دروازے سے حاصل ہے)مگر کوئی ہے ایسا جو سب دروازے سے بلایا جائے۔ فرمایا۔ ہاں اور میں امید کرتا ہوں کہ تم ان میں سے ہو۔

حدیث۱۸: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کھجور برابر حلال کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ نہیں قبول فرماتا مگر حلال کو تو اسے اللہ تعالی دست راست سے قبول فرماتا ہے پھر اسے اس کے مالک کے لئے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے بچھڑے کی تربیت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔

حدیث۱۹: بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی فرماتے ہیں ﷺ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور بندہ کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ تعالی اس کی عزت ہی بڑھائے گا اور جو اللہ کے لئے تواضع کرے اللہ اسے بلندفرمائے گا۔

حدیث۲۰۔۲۱:نسائی و ابن ماجہ اپنی سنن میں و ابن خزیمہ و ابن حبان اپنی صحیح میں اور حاکم نے بافادۂ تصحیح ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ و ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ٔ پڑھا اور یہ فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کو تین بار فرمایا پھر سر جھکا لیا تو ہم سب نے سر جھکا لیے اوررونے لگے یہ نہیں معلوم کہ کس چیز پرقسم کھائی۔ پھر حضور نے سر مبارک اٹھالیا اور چہرۂ اقدس میں خوشی نمایاں تھی تو ہمیں یہ بات سرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری تھی اور فرمایا جو بندہ پانچوں نمازیں پڑھتا ہے اور رمضان کا روزہ رکھتا ہے اور زکوۃ دیتا ہے اور ساتوں کبیرہ گناہوں سے بچتاہے اس کے لئے جنت کے د روازے کھول دیئے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہو۔

حدیث۲۲: امام احمد نے بروایت ثقات انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں اپنے مال کی زکوۃ نکال کہ وہ پاک کرنے والی ہے تجھے پاک کر دے گی اور رشتہ داروں سے سلوک کر اور مسکین اور پڑوسی اور سائل کا حق پہچان۔

حدیث۲۳: طبرانی نے اوسط و کبیر ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا زکوۃ اسلام کا پل ہے۔

حدیث۲۴: طبرانی نے اوسط میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا جو میرے لئے چھ چیزوں کی کفالت کرے میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں میں نے عرض کی وہ کیا ہیں یارسول اللہ ﷺ ، فرمایا نمازو زکوۃ و امانت و شرمگاہ و شکم و زبان۔

حدیث۲۵: بزار نے علقمہ سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو۔

حدیث۲۶: طبرانی نے کبیر میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا جو اللہ ورسول پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے اور جو اللہ و رسول پر ایمان لاتا ہے وہ حق بولے یا سکوت کرے یعنی بری بات زبان سے نہ نکالے اورجو اللہ و رسول پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔

حدیث۲۷: ابودائود نے حسن بصری سے مرسلاًاور طبرانی و بیہقی نے ایک جماعت صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کی کہ حضور فرماتے ہیں کہ زکوۃ دے کر اپنے مالوں کو مظبوط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو اور بلا نازل ہونے پر دعا و تضرع سے استعانت کرو۔

حدیث۲۸: ابن خزیمہ اپنی صحیح اور طبرانی اوسط اور حاکم مستدرک میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دی بیشک اللہ تعالی نے اس سے شردور فرما دیا۔

زکوۃ کے متعلق مسائل فقہیہ

مسئلہ ۱: زکوۃ شریعت میں اللہ کے لئے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہو نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اس سے بالکل جدا کر لے۔ (درمختار ج ۲ ص ۴ تا۶)

مسئلہ ۲: زکوۃ فرض ہے اس کا منکر کافر اورنہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۰)

مسئلہ ۳: مباح کر دینے سے زکوۃ ادا نہ ہو گی مثلاً فقیر کو بہ نیت زکوۃ کھانا کھلا دیا زکوۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یالے جائے تو ادا ہو گئی یونہی بہ نیت زکوۃ مکان رہنے کو دیا زکوۃ ادا نہ ہوئی۔ (درمختار ج۲ ص ۳)

مسئلہ ۴: فقیر کو بہ نیت زکوۃ مکان رہنے کو دیا زکوۃ ادا نہ ہوئی کہ مال کا کوئی حصہ اسے نہ دیا بلکہ بلکہ منفعت کا مالک کیا۔ (درمختار ج۲ ص ۳)

مسئلہ ۵: مالک کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو یعنی ایسا نہ ہو کہ پھینک دے یا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہو گی مثلاً نہایت چھوٹے بچہ یا پاگل کو دینا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اس کی طرف سے اس کا باپ جو فقیر ہو یا وصی یا جس کی نگرانی میں ہے قبضہ کریں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۳)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button