بہار شریعت

زکات واجب ہونے کی شرائط

زکات واجب ہونے کی شرائط

مسئلہ ۶: زکوۃ واجب ہونے کے لئے چند شرطیں ہیں :۔

(۱)مسلمان ہونا

متعلقہ مضامین

کافر پر زکوۃ واجب نہیں یعنی اگر کوئی کافر مسلمان ہو تو اسے حکم نہیں دیا جائے گا کہ زمانۂ کفر کی زکوۃ ادا کرے۔ معاذ اللہ کوئی مرتد ہو گیا تو زمانۂ اسلام میں جو زکوۃ دی تھی ساقط ہو گئی۔ (عامہ کتب، عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱)

مسئلہ ۷: کافر دارالحرب میں مسلمان ہوا اور وہیں چند برس تک اقامت کی پھر دارالاسلام میں آیا اگر اس کو معلوم تھا کہ مالدار مسلمان پر زکوۃ واجب ہے تو اس زمانہ کی زکوۃ واجب ہے ورنہ نہیں اور اگر دارالاسلام میں مسلمان ہوا اور چند سال کی زکوۃ نہیں دی تو ان کی زکوۃ واجب ہے اگرچہ کہتا ہے کہ مجھے فرضیت زکوۃ کا کوئی علم نہیں کہ دارالاسلام میں جہل عذر نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱،۱۷۲)

(۲) بلوغ

(۳) عقل نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں اور جنون اگر پورے سال کو گھیرلے تو زکوۃ واجب نہیں اور اگر سال کے اول آخر میں افاقہ ہوتا ہے اگرچہ باقی زمانہ جنون میں گرزتا ہے توواجب ہے، اور جنون اگر اصلی ہو یعنی اگر جنون ہی کی حالت میں بلوغ ہو تو اس کا سال ہوش آنے سے شروع ہو گا یونہی اگر عارضی ہے مگر پورے سال کو گھیر لیا تو جب افاقہ ہو گا اس وقت سے سال کی ابتدا ء ہو گی۔ (جوہرہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۲، ردالمحتار ج۲ ص ۴)

مسئلہ ۸: بوہرے پر زکوۃ واجب نہیں جب اسی حالت میں سال گزرے اور اگر کبھی کبھی اسے افاقہ بھی ہوتا ہے تو واجب ہے جس پر غشی طاری ہوئی اس پر زکوۃ واجب ہے اگرچہ غشی کا مل سال بھر تک ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۲، ردالمحتار ج ۲ ص ۴)

(۴) آزادہونا۔

غلام پر زکوۃ واجب نہیں اگرچہ ماذون ہو (یعنی اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دی ہو) یا مکاتب یا ام ولد یا مستسعی (یعنی غلام مشترک جس کو ایک شریک نے آزاد کر دیا اور چونکہ وہ مالدار نہیں اس وجہ سے باقی شریکوں کے حصے کما کر پورے کرنے کا اسے حکم دیا گیا۔ (عالمگیری ج ۱ص ۱۷۱ وغیرہ)

مسئلہ ۹: ماذون غلام نے جو کچھ کمایا ہے اس کی زکوۃ نہ اس پر ہے نہ اس کے مالک پر ہاں جب مالک کو دے دیا تو اب ان برسوں کی بھی زکوۃ اداکرے جب کہ غلام ماذون دین میں مستغرق نہ ہو ورنہ اس کی کمائی پر مطلقاً زکوۃ واجب نہیں نہ مالک کے قبضہ کرنے کے پہلے نہ بعد۔ (ردالمحتار ج۲ ص ۹)

مسئلہ ۱۰: مکاتب نے جو کچھ کمایا اس کی زکوۃ واجب نہیں نہ اس پر نہ اس کے مالک پر جب مالک کو دے دے اور سال گذر جائے اب بشرائط زکوۃ مالک پر واجب ہو گی اور گذشتہ برسوں کی واجب نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۹،۸)

(۵) مال بقدر نصاب اس کی ملک میں ہونا اگر نصاب سے کم ہے تو زکوۃ واجب نہ ہوئی۔ (تنویر ج۲ ص ۵، عالمگیری ج۱ ص ۱۷۲)

(۶) پورے طور پر اس کا مالک ہو یعنی اس پر قابض بھی ہو۔ (عالمگیری ج ۱ص ۱۷۲)

مسئلہ ۱۱: جو مال گم گیا یا دریا میں گر گیا یا کسی نے غصب کر لیا اور اس کے پاس غصب کے گواہ نہ ہوں یا جنگل میں دفن کر دیا تھا اوریہ یاد نہ رہا کہ کہ کہاں دفن کیا تھا یا انجان کے پاس امانت رکھی تھی اور یہ یاد نہ رہا کہ وہ کون ہے یا مدیون نے دین سے انکار کر دیا اور اس کے پاس گواہ نہیں پھر یہ اموال مل گئے تو جب تک نہ ملے تھے اس زمانے کی زکوۃ واجب نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتارج ۲ ص ۱۱،۱۲)

مسئلہ ۱۲: اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے یا نادار ہے یا قاضی کے یہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہو چکا یا وہ منکر ہے مگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں تو جب مال ملے گا سالہائے گذشتہ کی بھی زکوۃ واجب ہے۔ (تنویر ج ۲ ص ۱۲)

مسئلہ ۱۳: چرائی کا جانور اگر کسی نے غصب کیا اگرچہ وہ اقرار کرتا ہو تو ملنے کے بعد بھی اس زمانہ کی زکوۃ واجب نہیں ۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۴: غصب کئے ہوئے کی زکوۃ غاصب پر واجب نہیں کہ اس کا مال ہی نہیں بلکہ غاصب پر یہ واجب ہے کہ جس کا مال ہے اسے واپس دے اگر غاصب نے اس مال کو اپنے مال میں خلط کر دیا کہ تمیز نا ممکن ہو اور س کا اپنا مال بقدر نصاب ہے تو مجموع پر زکوۃ واجب ہے۔ (ردالمحتار ج۲ ص ۳۴)

مسئلہ ۱۵: ایک نے دوسرے کے مثلاً ہزار روپے غصب کر لئے پھر وہی روپے اس سے کسی اور نے غصب کر کے خرچ کر ڈالے اور ان دونوں غاصبوں کے پاس ہزارہزار اپنی ملک کے ہیں تو غاصب اول پر زکوۃ واجب ہے دوسرے پر نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۳)

مسئلہ ۱۶: شے مرہون کی زکوۃ نہ مرتہن پر ہے نہ راہن پر مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد میں رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکوۃ واجب نہیں ۔ (درمختار ج۱ ص ۹)

مسئلہ ۱۷: جو مال تجارت کے لئے خریدا اور سال بھر تک اس پر قبضہ نہ کیا تو قبضہ کے قبل مشتری پر زکوۃ واجب نہیں اور قبضہ کے بعد اس سال کی بھی زکوۃ واجب ہے۔ (درمختار،ر دالمحتار ج ۱ ص ۹ وغیرہ)

(۷) نصاب کا دین سے فارغ ہونا۔

مسئلہ ۱۸: نصاب کا مالک ہے مگر اس پردین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکوۃ واجب نہیں خواہ وہ دین بندہ کا ہو جیسے قرض، زرثمن یا کسی چیز کا تاوان یا اللہ عزوجل کا دین ہو جیسے زکوۃ، خراج مثلاً کوئی شخص صرف ایک نصاب کا مالک ہے اور دو سال گذر گئے کہ زکوۃ نہیں دی تو صرف پہلے سال کی زکوۃ واجب ہے دوسرے کی نہیں کہ پہلے سال کی زکوۃ اس پر دین ہے اس کے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں رہتی لہذا دوسرے سال کی زکوۃ واجب نہیں یونہی اگر تین سال گذر گئے مگرتیسرے میں ایک دن باقی تھا کہ پانچ درہم اور حاصل ہوئے جب بھی پہلے ہی سال کی زکوۃ واجب ہے کہ دوسرے اور تیسرے سال میں زکوۃ نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں ہاں جس دن کہ وہ پانچ درہم حاصل ہوئے اس دن سے ایک سال تک اگر نصاب باقی رہ جائے تو اب اس سال کے پورے ہونے پر زکوۃ واجب ہو گی۔ یونہی اگر نصاب کا مالک تھا اور سال تمام پر زکوۃ دی پھر سارے مال کو ہلاک کر دیا پھر اور مال حاصل کیا کہ یہ بقدر نصاب ہے مگر سال اول کی زکوۃ جو اس کے اوپر دین ہے اس میں سے نکالیں تو نصاب باقی نہیں رہتی تو اس نئے سال کی زکوۃ واجب نہیں اور اگر اس پہلے مال کو اس نے قصداً ہلاک نہ کیا بلکہ بلا قصد ہلاک ہو گیا تو اس کی زکوۃ جاتی رہی لہذا اس کی زکوۃ دین نہیں تو اس صورت میں اس نئے سال کی زکوۃ واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۲،۱۷۴، ردالمحتار ج ۲ ص ۶)

مسئلہ ۱۹: اگر خود مدیون نہیں مگر مدیون کاکفیل ہے اور کفالت کے روپے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں رہتی زکوۃ واجب نہیں مثلاً زید کے پاس ہزار روپے ہیں اور عمرو نے کسی سے ہزار قرض لئے اور زید نے اس کی کفالت کی تو زید پر اس صورت میں زکوۃ واجب نہیں کہ زید کے پاس اگرچہ روپے ہیں مگر عمرو کے قرض میں مستغرق ہیں کہ قرض خواہ کواختیار ہے زید سے مطالبہ کرے اورروپے نہ ملنے پر یہ اختیار ہے کہ زید کوقید کرا دے تویہ روپے دین میں مستغرق ہیں لہذا زکوۃ واجب نہیں اور اگرعمرو کی دس شخصوں نے کفالت کی اور سب کے پاس ہزار ہزار روپے ہیں جب بھی ان میں کسی پر زکوۃ واجب نہیں کہ قرض خواہ ہر ایک سے مطالبہ کر سکتا ہے اور بصورت نہ ملنے کے جس کوچاہے قید کرا دے۔ (ردالمحتار ج۲ ص ۷،۶)

مسئلہ ۲۰: جو دین میعادی ہو وہ مذہب صحیح میں وجوب زکوۃ کا مانع نہیں ۔ (ردالمحتار ج۲ ص ۷)

چونکہ عادۃً دین مہر کا مطالبہ نہیں ہوتا لہذا اگرچہ شوہر کے ذمہ کتنا دین مہر ہو جب وہ مالک نصاب ہے زکوۃ واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۳) خصوصاً مہر مؤخر جو عام طور پر یہاں رائج ہے جس کی ادا کی کوئی میعاد معین نہیں ہوتی تو اس کے مطالبہ کا تو عورت کو اختیار ہی نہیں جب تک موت یا طلاق واقع نہ ہو۔

مسئلہ ۲۱: عورت کا نفقہ شوہر پر دین نہیں کہ قرار دیا جائے گا جب تک قاضی نے حکم نہ دیا ہو یا دونوں نے باہم کسی مقدار پر تصفیہ نہ کر لیا اور اگریہ دونوں نہ ہوں تو ساقط ہوجائے گا شوہر پر اس کا دینا واجب نہ ہو گا لہذا مانع زکوۃ نہیں ۔ عورت کے علاوہ کسی رشتہ دار کانفقہ اس وقت دین ہے جب ایک مہینہ سے کم زمانہ گزرا ہو، یا اس رشتہ دار نے قاضی کے حکم سے قرض لیا اور اگر یہ دونوں باتیں نہیں تو ساقط ہے اورمانع زکوۃ نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۳، ردالمحتار ج ۲ ص ۷)

مسئلہ ۲۲: دین اس وقت مانع زکوۃ ہے جب زکوۃ واجب ہونے سے پہلے کا ہو اور اگر نصاب پرسال گزرنے کے بعد ہو تو زکوۃ پر اس دین کا کچھ اثر نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۶ وغیرہ)

مسئلہ۲۳: جس دین کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا اس جگہ اعتبار نہیں یعنی وہ مانع زکوۃنہیں مثلاً نذر وکفارہ و صدقۂ فطر و حج و قربانی کہ اگر ان کے مصارف نصاب سے نکالیں تو اگرچہ نصاب باقی نہ رہے زکوۃ واجب ہے عشر و خراج واجب ہونے کے لئے دین مانع نہیں اگرچہ مدیون ہو یہ چیزیں اس پر واجب ہو جائیں گی۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ص وغیرہما)

مسئلہ۲۴: جو دین اثنائے سال میں عارض ہوا یعنی شروع سال میں مدیون نہ تھا پھر مدیون ہو گیا پھر سال تمام پر علاوہ دین کے نصاب کا مالک ہو گیا تو زکوۃ واجب ہوگئی اس کی صورت یہ ہے کہ فرض کرو قرض خواہ نے قرض معاف کر دیا تو اب چونکہ اس کے ذمہ دین نہ رہا اور سال بھی پورا ہو چکا ہے لہذا واجب ہے کہ ابھی زکوۃ دے یہ نہیں کہ اب سے ایک سال گزرنے پر زکوۃ واجب ہو گی اور اگر شروع سال مدیون تھا اور سال تمام پر معاف کیا تو ابھی زکوۃ واجب نہ ہو گی بلکہ اب سے سال گزرنے پر۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۹،۱۰)

مسئلہ۲۵: ایک شخص مدیون ہے اور چند نصاب کا مالک کہ ہر ایک سے دین ادا ہو جاتا ہے مثلاً اس کے پاس روپے اشرفیاں بھی ہیں تجارت کے اسباب بھی چرائی کے جانور بھی تو روپے اشرفیاں دین کے مقابل سمجھے اور اور چیزوں کی زکوۃ دے اور اگر روپے اشرفیاں نہ ہوں اور چرائی کے جانوروں کی چند نصابیں مثلاً چالیس بکریاں ہیں اور تیس گائیں اور پانچ اونٹ تو جس کی زکوۃ میں اسے آسانی ہو اس کی زکوۃ دے اور دوسرے کو دین میں سمجھے تو اس صورت مذکورہ میں اگر بکریوں یا اونٹوں کی زکوۃ دے گا تو ایک بکری دینی ہو گی اور گائے کی زکوۃ میں سال بھرکا بچھڑا۔ اور ظاہر ہے کہ ایک بکری دینا ایک بچھڑا دینے سے آسان ہے لہذا بکری دے سکتا ہے اور اگر برابر ہوں تو اسے اختیار ہے۔ مثلاً پانچ اونٹ ہیں اورچالیس بکریاں دونوں کی زکوۃ ایک بکری ہے اسے اختیار ہے جسے چاہے دین کے لئے سمجھے اور جس کی چاہے زکوۃ دے اور یہ سب تفصیل اس وقت ہے کہ بادشاہ کی طرف سے کوئی زکوۃ وصو ل کرنے والا آئے ورنہ اگر بطور خود دینا چاہتا ہے تو ہر صورت میں اختیار ہے۔ (درمختار، ردالمحتار ج۲ ص ۱۰)

مسئلہ۲۶: اس پر ہزار روپے قرض ہیں اور اس کے پاس ہزار روپے ہیں ایک مکان اور خدمت کے لئے ایک غلام تو زکوۃ واجب نہیں اگرچہ مکان و غلام ہزار روپے کی قیمت کے ہوں کہ یہ چیزیں حاجت اصلیہ سے ہیں اور جب روپے موجود ہیں تو قرض کے لئے روپے قرار دیئے جائیں گے نہ کہ غلام و مکان۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۳)

(۸) نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۲)

مسئلہ۲۷: حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکوۃ واجب نہیں جیسے رہنے کا مکان جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے خانہ داری کے سامان۔ سواری کے جانور۔ خدمت کے لئے لونڈی غلام، آلات حرب ، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لئے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لئے غلہ۔ (ہدایہ،عالمگیری ج۱ ص ۱۷۲، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰،۱۱)

مسئلہ۲۸: ایسی چیز خریدی جس سے کوئی کام کرے گا اور کام میں اس کا اثر باقی رہے گا جیسے چمڑا پکانے کے لئے مازو اور تیل وغیرہ اگر اس پر سال گزر گیا تو زکوۃ واجب ہے یونہی رنگریز نے اجرت پر کپڑا رنگنے کے لئے کسم، زعفران خریدا تو اگر بقدر نصاب ہے اور سال گزر گیا تو زکوۃ واجب ہے۔ پڑیا وغیرہ رنگ کا بھی یہی حکم ہے اور اگر وہ ایسی چیز ہے جس کا اثر باقی نہیں رہے گا جیسے صابون تو اگرچہ بقدر نصاب ہوا اور سال گزر جائے زکوۃ واجب نہیں ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۲)

مسئلہ۲۹: عطر فروش نے عطر بیچنے کے لئے شیشیاں خریدیں ان پر زکوۃ واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۲ ص ۱۱)

مسئلہ۳۰: خرچ کے لئے روپے کے پیسے لئے تو یہ بھی حاجت اصلیہ میں ہیں ۔ حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے تو سال میں جو کچھ خرچ کیا کیا اور جو باقی رہے اگر بقدر نصاب ہیں تو ان کی زکوۃ واجب ہے اگرچہ اسی نیت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجت اصلیہ میں صرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکوۃ واجب نہیں ۔ (ردالمحتار ج۲ ص ۸)

مسئلہ۳۱: اہل علم کے لئے کتابیں حاجت اصلیہ سے ہیں اور غیر اہل علم کے پاس ہو جب بھی کتابوں کی زکوۃ واجب نہیں جب کہ تجارت کے لئے نہ ہوں فرق اتنا ہے کہ اہل علم کے پاس ان کتابوں کے علاوہ اگر مال بقدر نصاب نہ ہو تو زکوۃ لینا جائز ہے اور غیر اہل علم کے لئے ناجائز جب کہ دو سو درہم کی قیمت کی ہوں اہل وہ ہے جسے پڑھنے پڑھانے یا تصحیح کے لئے ان کتابوں کی ضرورت ہو۔ کتاب سے مراد مذہبی کتاب فقہ و تفسیر وحدیث ہے اگر ایک کتاب کے چند نسخے ہوں تو ایک سے زائد جتنے نسخے ہوں اگر دو سو درہم کی قیمت کے ہوں تو اس اہل کو بھی زکوۃ لینا ناجائز ہے۔ خواہ ایک ہی کتاب کے زائد نسخے اس قیمت کے ہوں یا متعدد کتابوں کے زائد نسخے مل کر اس قیمت کے ہوں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج۲ ص ۱۱)

مسئلہ۳۲: حافظ کے لئے قرآن مجید حاجت اصلیہ سے نہیں اور غیر حافظ کے لئے ایک سے زیادہ حاجت اصلیہ کے علاوہ ہے یعنی اگر مصحف شریف دو سو درہم قیمت کا ہو تو زکوۃ لینا جائزنہیں ۔ (جوہرہ، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱)

مسئلہ۳۳: طبیب کے لئے طب کی کتابیں حاجت اصلیہ میں ہیں جب کہ مطالعہ میں رکھتا ہو اسے دیکھنے کی ضرورت پڑے نحو و صرف و نجوم اوردیوان اور قصے کہانی کی کتابیں حاجت اصلیہ میں نہیں ۔ اصول فقہ و علم کلام و اخلاق کی کتابیں جیسے احیاء العلوم و کیمیائے سعادت وغیرہما حاجت اصلیہ سے ہیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱)

مسئلہ۳۴: کفار اور بد مذہبوں کے رد اورر اہل سنت کی تائید میں جو کتابیں ہیں وہ حاجت اصلیہ سے ہیں یونہی عالم اگر بدمذہب وغیرہ کی کتابیں اس لئے رکھے کہ ان کا رد کرے تو یہ بھی حاجت اصلیہ میں ہیں اور غیرعالم کو تو ان کا دیکھنا ہی جائز نہیں ۔

(۹) مال نامی ہونا یعنی بڑھنے والا خواہ حقیقۃً بڑھے یا حکماً یعنی اگر بڑھانا چاہے تو بڑھائے یعنی اس کے یا اس کے نائب کے قبضہ میں ہو۔ ہر ایک کی دو صورتیں ہیں وہ اسی لئے پیدا ہی کیا گیا ہو اسے خلقی کہتے ہیں جیسے سونا چاندی یہ کہ اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ ان سے چیزیں خریدی جائیں یا اس لئے مخلوق تو نہیں مگر اس سے یہ بھی حاصل ہوتا ہے اسے فعلی کہتے ہیں ۔ سونے چاندی کے علاوہ سب چیزیں فعلی ہیں کہ تجارت سے سب میں نمو ہو گا۔ سونے چاندی میں مطلقاً زکوۃ واجب ہے جب کہ بقدر نصاب ہوں اگرچہ دفن کر کے رکھے ہوں تجارت کرے یا نہ کرے اور ان کے علاوہ باقی چیزوں پر زکوۃ اس وقت واجب ہے کہ تجارت کی نیت ہو یا چرائی پر چھوٹے جانور وبس، خلاصہ یہ کہ زکوۃ تین قسم کے مال پر ہے۔ (۱)ثمن یعنی سونا چاندی، (۲)مال تجارت (۳) سائمہ یعنی چرائی پر چھوٹے جانور۔ (عامہ کتب، شامی ج ۲ ص ۱۳،عالمگیری ج۱ ص ۱۷۴)

مسئلہ۳۵: نیت تجارت کبھی صراحۃً ہوتی ہے کبھی دلالۃً صراحۃً یہ کہ عقد کے وقت ہی نیت تجارت کر لی خواہ عقد خریداری ہو یا اجارہ۔ ثمن روپیہ اشرفی ہو یا اسباب میں سے کوئی شے دلالۃً کی صورت یہ ہے کہ مال تجارت کے سلسلے میں کوئی چیز خریدی یا مکان جو تجارت کے لئے ہے اس کو کسی اسباب کے بدلے کرایہ پر دیا تو یہ اسباب اور وہ خریدی ہوئی چیز تجارت کے لئے ہیں اگرچہ صراحۃً تجارت کی نیت نہ کی یونہی اگر کسی سے کوئی چیز تجارت کے لئے قرض لی تو یہ بھی تجارت کے لئے ہے مثلاً دو سو درہم کامالک ہے اورمن بھر گیہوں قرض لئے تو اگر تجارت کے لئے نہیں لئے تو زکوۃ واجب نہیں کہ گیہوں کے دام انہیں دو سو سے مجرا کئے جائیں گے تو نصاب باقی نہ رہی اور اگر تجارت کے لئے تو زکوۃ واجب ہو گی کہ ان گیہوں کی قیمت دو سو پر اضافہ کریں اور مجموعہ سے قرض مجرا کریں تو دو سو سالم رہے لہذا زکوۃ واجب ہوئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۴، درمختار،ردالمحتار ج۲ ص ۱۳)

مسئلہ۳۶: جس عقد میں تبادلہ ہی نہ ہو جیسے ہبہ، منت، صدقہ یا تبادلہ ہو مگر مال سے تبادلہ نہ ہو جیسے مہر، بدل خلع، بدل عتق ان دونوں قسم کے عقد کے ذریعہ سے اگر کسی چیز کا مالک ہو تو اس میں نیت تجارت صحیح نہیں یعنی اگرچہ تجارت کی نیت کرے زکوۃ واجب نہیں یونہی اگر ایسی چیز میراث ملی تو اس میں بھی نیت تجارت صحیح نہیں ۔ (عالمگیری ج۱ ص ۱۷۴)

مسئلہ۳۷: مورث کے پاس تجارت کامال تھا اس کے مرنے کے بعد وارثوں نے تجارت کی نیت کی تو زکوۃ واجب ہے یونہی چرائی کے جانور وراثت میں ملے زکوۃ واجب ہے چرائی پر رکھنا چاہتے ہوں یا نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۴، درمختار ج ۱ ص ۱۸)

مسئلہ۳۸: نیت تجارت کے لئے یہ شرط ہے کہ وقت عقد نیت ہو اگرچہ دلالۃً تو عقد کے بعد نیت کی زکوۃ واجب نہ ہوئی یونہی اگررکھنے کے لئے کوئی چیز لی اور یہ نیت کی نفع ملے گا تو بیچ ڈالوں گا توزکوۃ واجب نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۸،۱۹)

مسئلہ۳۹: تجارت کے لئے غلام خریداتھا پھر خدمت لینے کی نیت کر لی پھر تجارت کے نیت کی تو تجارت کا نہ ہو گا جب تک ایسی چیز کے بدلے نہ بیچیجس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۴، درمختار ج ۲ ص ۱۷)

مسئلہ۴۰: موتی اورجواہر پر زکوۃ واجب نہیں اگرچہ ہزاروں کے ہوں ہاں اگر تجارت کے نیت سے لئے تو واجب ہو گئی۔ (درمختار ج ۱ ص ۱۸)

مسئلہ۴۱: زمین سے جو پیداوار ہوئی اس میں نیت تجارت سے زکوۃ واجب نہیں زمین عشری ہو یاخراجی اس کی ملک ہو یا رعایت یا کرایہ پر لی ہو ہاں اگر زمین خراجی ہے اور عاریت پر یا کرایہ پر لی اور بیج وہ ڈالے جو تجارت کے لئے تھے تو پیداوار میں تجارت کی نیت صحیح ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳،۱۴)

مسئلہ۴۲: مضارب مال مضاربت سے جو کچھ خریدے اگرچہ تجارت کی نیت نہ ہو اگرچہ اپنے خرچ کرنے کے لئے خریدے۔ اس پر زکوۃ واجب ہے یہاں تک کہ اگر مال مضاربت سے غلام خریدے۔ پھرا ن کے پہننے کو کپڑا اور کھانے کے لئے غلہ وغیرہ خریدا تویہ سب کچھ تجارت ہی کے لئے ہیں اور سب کی زکوہ واجب۔ (درمختارم، ردالمحتار ج ۱ ص ۱۳)

(۱۰) سال گزرنا سال سے مراد قمری سال ہے یعنی چاند کے مہینوں سے بارہ (۱۲) مہینے۔ شروع سال اور آخر سال میں نصاب کامل ہے مگر درمیان میں نصاب کی کمی ہو گئی تو یہ کمی کچھ اثر نہیں رکھتی یعنی زکوۃ واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵)

مسئلہ۴۳: مال تجارت یا سونے چاندی کو درمیان سال میں اپنی اپنی جنس یا غیر جنس سے بدل لیا تو اس کی وجہ سے سال گزرنے میں نقصان نہ آیا اور اگر چرائی کے جانور بدلے تو سال کٹ گیا اب اس دن سے شمار کریں گے جس دن بدلا ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵)

مسئلہ۴۴: جو شخص مالک نصاب ہے اگر درمیان سال میں کچھ اور مال اسی جنس کا حاصل کیا تو اس نئے مال کا جدا سال نہیں بلکہ پہلے مال کا ختم سال اس کے لئے بھی سال تمام ہے اگرچہ سال تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو خواہ وہ مال اس کے پہلے مال سے حاصل ہوا یا میراث وہبہ یا اور کسی جائز ذریعہ سے ملا ہو اور اگر دوسری جنس کا ہے مثلاً پہلے اس کے پاس اونٹ تھے اور اب بکریاں ملیں تو اس کے لئے جدید سال شمار ہو گا۔ (جوہرہ)

مسئلہ۴۵: مالک نصاب کو درمیان سال میں کچھ مال حاصل ہوا اور اس کے پاس دو (۲) نصابیں ہیں اور دونوں کا جدا جدا سال ہے تو جو مال درمیان سال میں حاصل ہوا اسے اس کے ساتھ ملائے جس کی زکوۃ پہلے واجب ہو مثلاً اس کے پاس ایک ہزار روپے ہیں اور سائمہ کی قیمت جس کی زکوۃ دے چکا تھا کہ دونوں ملائے نہیں جائیں گے اب درمیان سال میں ایک ہزار روپے اور حاصل کئے تو ان کا سال تمام اس وقت ہے جب ان دونوں میں پہلے کا ہو۔ (درمختار ج ۲ ص ۳۱،۳۲)

مسئلہ۴۶: اس کے پاس چرائی کے جانور تھے اور سال تمام پر ان کی زکوۃ دی پھر انہیں روپوں سے بیچ ڈالا اور اس کے پاس پہلے سے بھی بقدر نصاب روپے ہیں جن پر نصف سال گزرا ہے تو یہ روپے ان روپوں کے ساتھ نہیں ملائے جائیں گے بلکہ ان کے لئے اس وقت سے نیا سال شروع ہو گا یہ اس وقت ہے کہ یہ ثمن کے روپے بقدر نصاب ہوں ورنہ بالاجماع انہیں کے ساتھ ملائیں یعنی ان کی زکوۃ انہیں روپوں کے ساتھ دی جائے۔ (جوہرہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵)

مسئلہ۴۷: سال تمام سے پیشتر اگر سائمہ کو روپے کے بدلے بیچا تو اب ان روپوں کو ان روپوں کے ساتھ ملالیں گے جو پیشتر سے اس کے پاس بقدر نصاب موجود ہیں یعنی ان کے سال تمام پر ان پر بھی زکوۃ دی جائے یونہی اگر جانور کے بدلے بیچا تو اس جانور کو اس جانور کے ساتھ ملائے جو پیشتر سے اس کے پاس ہے اگر سائمہ کی زکوۃ دے دی پھر اسے سائمہ نہ رکھا پھر بیچ ڈالا تو ثمن کو اگلے مال کے ساتھ ملا دیں گے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵)

مسئلہ۴۸: اونٹ، گائے، بکری میں ایک کو دوسرے کے بدلے سال تمام سے پہلے بیچا تو اب سے ان کے لئے نیا سال شروع ہو گا یونہی اگر اور چیز کے بدلے بہ نیت تجارت بیچا تو اب سے ایک سال گزرنے پر زکوۃ واجب ہو گی اور اگر اپنی جنس کے بدلے بیچا یعنی اونٹ کو اونٹ اور گائے کو گائے کے بدلے جب بھی یہی حکم ہے اور اگر بعد سال تمام بیچا تو زکوۃ واجب ہو چکی اور وہ اس کے ذمہ ہے۔ (جوہرہ)

مسئلہ۴۹: درمیان سال میں سائمہ کو بیچاتھا اورسال تمام سے پہلے عیب کی وجہ سے خریدار نے واپس کر دیا تو اگر قاضی کے حکم سے واپسی ہوئی تو نیا سال شروع نہ ہو گا ورنہ اب سے سال شروع کیا جائے اوراگر ہبہ کر دیا جائے پھر سال تمام سے پہلے واپس کر لیا تو نیا سال لیا جائے گا قاضی کے فیصلہ سے واپسی ہو یا بطور خود(جوہرہ)

مسئلہ۵۰: اس کے پاس خراجی زمین تھی خراج ادا کرنے کے بعدبیچ ڈالی تو ثمن کو اصل نصاب کے ساتھ ملا دیں گے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵)

مسئلہ۵۱: اس کے پاس روپے ہیں جن کی زکوۃ دے چکا ہے پھر ان سے چرائی کے جانور خریدے اور اس کے یہاں اس جنس کے جانور پہلے سے موجود ہیں تو ان کو ان کے ساتھ نہ ملائیں گے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵)

مسئلہ۵۲: کسی نے اسے ہزار روپے بطور ہبہ دیئے اور سال پورا ہونے سے پہلے ہزار روپے اورحاصل کئے پھر ہبہ کرنے والے نے اپنے دیئے ہوئے روپے حکم قاضی سے واپس لے لئے تو ان جدید روپوں کی بھی زکوۃ واجب نہیں جب تک ان پر سال نہ گزرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵، ۱۷۶)

مسئلہ۵۳: کسی کے پاس تجارت کی بکریاں ہیں جن کی قیمت دو سو (۲۰۰) درہم ہے اور سال تمام سے پہلے ایک بکری مر گئی سال پورا ہونے سے پہلے اس نے اس کی کھال نکال کرپکالی تو زکوۃ واجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۵،۱۷۶) یعنی جب کہ وہ کھال نصاب کو پورا کرے۔

مسئلہ۵۴: زکوۃ دیتے وقت یا زکوۃ کے لئے مال علیحدہ کرتے وقت نیت زکوۃ شرط ہے نیت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامل بتا سکے کہ زکوۃ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۰)

مسئلہ۵۵: سال بھر تک خیرات کرتا رہا اب نیت کی کہ جو کچھ دیا ہے زکوۃ ہے تو ادا نہ ہوئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۰)

مسئلہ۵۶: ایک شخص کو وکیل بنایا اسے دیتے وقت تو نیت زکوۃ نہ کی مگر جب وکیل نے فقیر کو دیا اس وقت مؤکل نے نیت کر لی ہو گئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص۱۷۱)

مسئلہ۵۷: دیتے وقت نیت نہیں کی تھی بعد کو کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اسکی ملک میں ہے تو یہ نیت کافی ہے ورنہ نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۴)

مسئلہ۵۸: زکوۃ دینے کے لئے وکیل بنایا اوروکیل کو بہ نیت زکوۃ مال دیا مگر وکیل نے فقیر کو دیتے وقت نیت نہیں کی ادا ہو گئی یونہی زکوۃ کا مال ذمی کو دیا کہ وہ فقیر کو دے دے اور ذمی کو دیتے وقت نیت کر لی تھی تو یہ نیت کافی ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۴)

مسئلہ۵۹: وکیل کو دیتے وقت کہا نفل صدقہ یا کفارہ ہے مگر قبل اس کے کہ وکیل فقیروں کو دے، اس نے زکوۃ کی نیت کر لی تو زکوۃ ہی ہے اگرچہ وکیل نے نفل یا کفارہ کی نیت سے فقیر کو دیا ہو۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۴)

مسئلہ۶۰: ایک شخص چند زکوۃ دینے والوں کو وکیل ہے اور سب کی زکوۃ ملا دی ہو تو اسے تاوان دینا پڑے گا اور جو کچھ فقیروں کو دے چکا ہے وہ تبرع ہے یعنی مالکوں سے اسکا معاوضہ پائیگا نہ فقیروں سے البتہ اگر فقیروں کو دینے سے پہلے مالکوں نے ملانے کی اجازت دے دی تو تاوان اس کے ذمے نہیں ۔ یونہی اگر فقیروں نے بھی اسے زکوۃ لینے کا وکیل کیا اور اس نے ملا دیا تو تاوان اس پر نہیں مگراس وقت یہ ضرور ہے کہ اگر ایک فقیر کا وکیل ہے اور چند جگہ سے اسے اتنی زکوۃ ملی کہ مجموعہ بقدر نصاب ہے تو اب جو جان کر زکوۃ دے اس کی زکوۃ ادا نہ ہو گی یا چند فقیروں کا وکیل ہے اور زکوۃ اتنی ملی کو ہر ایک کا حصہ نصاب کی قدر ہے تو اب اس وکیل کو زکوۃ دینا جائز نہیں مثلاً تین فقیروں کا وکیل ہے اورچھ سو (۶۰۰) درہم ملے کہ ہر ایک کا حصہ دو سو (۲۰۰) ہوا جو نصاب ہے اور چھ سو (۶۰۰)سے کم ملا تو کسی کو نصاب کی قدر نہ ملا اوراگر ہر ایک فقیر نے اسے علیحدہ علیحدہ وکیل بنایا تو مجموعہ نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ہر ایک کو جو ملا ہے وہ دیکھا جائے گا اور اس صورت میں بغیر فقیروں کی اجازت کے ملانا جائز نہیں اور ملا دے گا جب بھی زکوۃ ادا ہو جائیگی اور فقیروں کو تاوان دے گا اور اگر فقیروں کا وکیل نہ ہو تو اسے دے سکتے ہیں اگرچہ کتنی ہی نصابیں اس کے پاس جمع ہو گئیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۴،۱۵)

مسئلہ۶۱: چند اوقاف کے متولی کو ایک کی آمدنی دوسری میں ملانا جائز نہیں یونہی دلال کو زر ثمن یا بیع کا خلط جائز نہیں یونہی اگرچندفقیروں کے لئے سوال کیا تو جو ملا بے ان کی اجازت کے خلط کرنا جائز نہیں یونہی آٹا پیسنے والے کو یہ جائز نہیں کہ لوگوں کے گیہوں ملا دے مگر جہاں ملا دینے پر عرف جاری ہو تو ملا دینا جائز ہے اور ان سب صورتوں میں تاوان دے گا ۔ (خانیہ)

مسئلہ۶۲: اگر مؤکلوں نے صراحتاً ملانے کی اجازت نہ دی مگر عرف ایسا جاری ہو گیا کہ وکیل ملا دیا کرتے ہیں تو یہ بھی اجازت سمجھی جائے گی جب کہ مؤکل اس عرف سے واقف ہو مگر دلال کو خلط کی اجازت نہیں کہ اس میں عرف نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۴)

مسئلہ۶۳: وکیل کو اختیار ہے کہ مال زکوۃ اپنے لڑکے یا بی بی کو دیدے جب کہ یہ فقیر ہوں اورلڑکا اگر نابالغ ہے تو اسے دینے کے لئے خود اس وکیل کا فقیر ہونا بھی ضروری ہے مگر اپنی اولاد یا بی بی کو اس وقت دے سکتا ہے جب مؤکل نے ان کے سوا کسی خاص شخص کو دینے کے لئے نہ کہہ دیا ہوورنہ انہیں نہیں دے سکتا۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۴،۱۵)

مسئلہ۶۴: وکیل کو یہ اختیار نہیں کو خود لے لے ہاں اگر زکوۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ پر چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۵)

مسئلہ۶۵: اگر زکوۃ دینے والے نے اسے حکم نہیں دیا خود ہی اس کی طرف سے زکوۃ دے دی تو نہ ہوئی اگرچہ اب اس نے جائز کر دیا ہو۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۴)

مسئلہ۶۶: زکوۃ دینے والے نے وکیل کو زکوۃ کا روپیہ دیا وکیل نے اسے رکھ لیا اور اپنا روپیہ زکوۃ میں دے دیا توجائز ہے اگر یہ نیت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کا روپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعد کو اپنا روپیہ زکوۃ میں دیا تو زکوۃ ادا نہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور مؤکل کو تاوان دے گا۔ (درمختار ، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۵)

مسئلہ۶۷: زکوۃ کے وکیل کو یہ اختیار ہے کہ بغیر اجازت مالک دوسرے کو وکیل بنا دے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۵)

مسئلہ۶۸: کسی نے یہ کہا کہ اگر میں اس گھر میں جائوں تو مجھ پر اللہ کے لئے ان سو روپوں کا خیرات کر دینا ہے پھرگیا اور جاتے وقت یہ نیت کی کہ زکوۃ میں دے دوں گا تو زکوۃ میں نہیں دے سکتا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱)

مسئلہ۶۹: زکوۃ کا مال ہاتھ پر رکھا تھا فقراء لوٹ لے گئے ادا ہو گئی اور اگر ہاتھ سے گر گیا اور فقراء نے اٹھا لیا اگر یہ اسے پہچانتا ہے اور راضی ہو گیا اور مال ضائع نہیں ہوا تو ہو گئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۳)

مسئلہ۷۰: امین کے پاس سے امانت ضائع ہو گئی اس نے مالک کو دفع خصومت کے لئے کچھ روپے دے دیئے اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت کر لی اورمالک فقیر بھی ہے زکوۃ ادا نہ ہوئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱)

مسئلہ۷۱: مال کو بہ نیت زکوۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذمہ نہ ہو گا جب تک فقیروں کو نہ دیدے یہاں تک کہ اگر وہ جاتا رہا تو زکوۃ ساقط نہ ہوئی اوراگر مر گیا تو اس میں وراثت جاری ہو گی۔ (درمختار،ردالمحتار ج ۲ ص ۱۵)

مسئلہ۷۲: سال پورا ہونے پر کل نصاب خیرات کر دی اگرچہ زکوۃ کی نیت نہ کی بلکہ نفل کی نیت کی یا کچھ نیت نہ کی زکوۃ ادا ہو گئی اور اگر کل فقیر کو دے دیا اور منت یاکسی اور واجب کی نیت کی تو دینا صحیح ہے مگر زکوۃ اس کے ذمہ ہے ساقط نہ ہوئی اور اگر مال کا کوئی حصہ خیرات کیا تو اس حصہ کی بھی زکوۃ ساقط نہ ہوئی بلکہ اس کے ذمہ ہے اور اگر کل مال ہلاک ہو گیا تو کل کی زکوۃ ساقط ہو گئی اور کچھ ہلاک ہوا تو جتنا ہلاک ہوا اس کی ساقط اور جو باقی ہے اس کی واجب اگرچہ وہ بقدر نصاب نہ ہو ہلاک کے یہ معنی ہیں کہ بغیر اس کے فعل کے ضائع ہو گیا مثلاً چوری ہو گئی یا کسی کو قرض و عاریت دی اس نے انکار کر دیا اور گواہ نہیں یا وہ مر گیا اور کچھ ترکہ میں نہ چھوڑا اور اگر اپنے فعل سے ہلاک کیا مثلاً صرف کر ڈالا یا پھینک دیا یا غنی کو ہبہ کر دیا تو زکوۃ بدستور واجب الادا ہے ایک پیسہ بھی ساقط نہ ہو گا اگرچہ بالکل نادار ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱، درمختار ج ۲ ص ۱۵)

مسئلہ۷۳: فقیر پر اس کا قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکوۃ ساقط ہو گئی اور جز معاف کیا تو اس جز کی ساقط ہو گئی اور اگر اس صورت میں یہ نیت کی کہ پورا زکوۃ ہو جائے تو نہ ہوئی اور اگر مالدار پر قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکوۃ ساقط نہ ہوئی بلکہ اس کے ذمہ ہے۔ فقیر پر قرض تھا اور کل معاف کر دیا اور یہ نیت کی کہ فلاں پر جو دین ہے یہ اس کی زکوۃ ہے ادا نہ ہوئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱، درمختار ج ۲ ص ۱۵،۱۶)

مسئلہ۷۴: کسی پر اس کے روپے آتے ہیں فقیر سے کہہ دیا اس سے وصول کرلے اور نیت زکوۃ کی کی بعد قبضہ ادا ہو گئی۔ فقیر پر قرض ہے اس قرض کو اپنے مال کی زکوۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کر دے اور وہ میرے مال کی زکوۃ ہو جائے یہ نہیں ہو سکتا کہ اسے زکوۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے اگر وہ دینے سے انکار کرے تو پکڑ کرچھین سکتا ہے اور یوں بھی نہ ملے تو قاضی کے پاس مقدمہ پیش کرے کہ اس کے پاس ہے اور میرا نہیں دیتا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۶ وغیرہ)

مسئلہ۷۵: زکوۃ کا روپیہ مردہ کی تجہیز و تکفین یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کر نا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہو گا بلکہ حدیث میں آیا اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لئے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ (رادلمحتار ج ۲ ص ۱۶)

مسئلہ۷۶: زکوۃ علانیہ اور ظاہر طور پر افضل ہے اور نفل صدقہ چھپا کر دینا افضل۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱) زکوۃ میں اعلان اس وجہ سے ہے کہ چھپا کر دینے میں لوگوں کو تہمت اور بدگمانی کا موقع ملے گا نیز اعلان اوروں کے لئے باعث ترغیب ہے کہ اس کو دیکھ کر اور لوگ بھی دیں گے مگر یہ ضرور ہے کہ ریا نہ آنے پائے کہ ثواب جاتا رہے گا بلکہ گناہ استحقاق عذاب ہے۔

مسئلہ۷۷: زکوۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکوۃ کہہ کر دے بلکہ صرف نیت زکوۃ کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہبہ یا قرض کہہ کر دے اور نیت زکوۃ کی ہو ادا ہو گئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۱) یونہی نذر یا ہدیہ یا پان کھانے یا بچوں کے مٹھائی کھانے یا عیدی کے نام سے دی ادا ہو گئی۔ بعض محتاج ضرورت مند زکوۃ کا روپیہ نہیں لینا چاہتے انہیں زکوۃ کہہ کر دیا جائے تو نہیں لیں گے لہذا زکوۃ کا نہ کہے۔

مسئلہ۷۸: زکوۃ ادا نہیں کی تھی اوراب بیمار ہے تو وارثوں سے چھپا کر دے اور اگر نہ دی تھی اور اب دینا چاہتا ہے مگر مال نہیں جس سے ادا کرے اور یہ چاہتا ہے کہ قرض لے کر ادا کرے تو اگر غالب گمان قرض ادا ہو جانے کا ہے تو بہتر یہ ہے ک قرض لے کر ادا کرے ورنہ نہیں کہ حق العبد حق اللہ سے سخت تر ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۷)

مسئلہ۷۹: مالک نصاب سال تمام سے پیشتر بھی ادا کر سکتا ہے بشرطیکہ سال تمام پر بھی اس نصاب کا مالک رہے اور ختم سال پر مالک نصاب نہ رہا یا اثنائے سال میں وہ مال نصاب بالکل ہلاک ہو گیا تو جو کچھ دیا نفل ہے اور جوشخص نصاب کا مالک نہ ہو وہ زکوۃ نہیں دے سکتا یعنی اگر آئندہ نصاب کا مالک ہو گیا تو جو کچھ پہلے دیا ہے وہ اس کی زکوۃ میں محسوب نہ ہو گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۶)

مسئلہ۸۰: مالک نصاب اگر پیشتر سے چند نصابوں کی زکوۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے یعنی شروع سال میں ایک نصاب کا مالک ہے اور دو یا تین نصابوں کی زکوۃ دے دی اورختم سال پر جتنی نصابوں کی زکوۃ دی ہے اتنی نصابوں کا مالک ہو گیا تو سب کی ادا ہو گئی اور سال تمام تک ایک ہی نصاب کا مالک رہا سال کے بعد اور حاصل کیا تو وہ زکوۃ اس میں محسوب نہ ہوگی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۶)

مسئلہ۸۱: مالک نصاب پیشتر سے چند سال کی بھی زکوۃ دے سکتا ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۶) لہذا مناسب یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا زکوۃ میں دیتا رہے ختم سال پر حساب کرے اگر زکوۃ پوری ہو گئی فبہا اور کچھ کمی ہو تو اب فوراً دے دے تاخیر جائزنہیں کہ نہ اس کی اجازت کہ اب تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرے بلکہ جو کچھ باقی ہے کل فوراً ادا کر دے اور زیادہ دے دیا ہے تو سال آئندہ میں مجرا کر دے۔

مسئلہ۸۲: ایک ہزار کا مالک ہے اور دو ہزار کی زکوۃ دی اورنیت یہ ہے کہ سال تمام تک اگر ایک ہزار اور ہو گئے تو یہ اس کی ہے ورنہ سال آئندہ میں محسوب ہو گی یہ جائز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۶)

مسئلہ۸۳: یہ گمان کرکے کہ پانسوروپے یا پانسو کی زکوۃ دی پھر معلوم ہوا کہ چار ہی سو تھے تو جو زیادہ دیا ہے سال آئندہ میں محسوب کر سکتا ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ۸۴: کسی کے پاس سونا چاندی دونوں ہیں اور سال تمام سے پہلے ایک کی زکوۃ دی تو وہ دونوں کی زکوۃ ہے یعنی درمیان سال میں ان میں سے ایک ہلاک ہو گیا اگرچہ وہی جس کی نیت سے زکوۃ دی ہے تو رہ گیا ہے اس کی زکوۃ یہ ہو گئی اور اگر اس کے پاس گائے بکری اونٹ سب بقدر نصاب ہیں اورپیشتر سے ان میں ایک کی زکوۃ دی تو جس کی زکوۃ دی اسی کی ہے دوسرے کی نہیں یعنی جس کی زکوۃ دی ہے اگر اثنائے سال میں اس کی نصاب جاتی رہی تو وہ باقیوں کی زکوۃ نہیں قرار دی جائے گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۶)

مسئلہ۸۵: اثنائے سال میں جس فقیر کو زکوۃ دی تھی ختم سال پر وہ مالدار ہو گیا یا مر گیا یا معاذاللہ مرتد ہو گیا تو زکوۃ پر اس کا کچھ اثر نہیں وہ ادا ہو گئی جس شخص پر زکوۃ واجب ہے اگر وہ مر گیا تو ساقط ہو گئی یعنی اس کے مال سے زکوۃ دینا ضروری نہیں ہاں اگر وصیت کر گیا تو تہائی مال تک وصیت نافذ ہے اور اگر عاقل بالغ ورثہ اجازت دے دیں تو کل مال سے زکوۃ ادا کی جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۶)

مسئلہ۸۶: اگر شک ہے کہ زکوۃ دی یا نہیں تو اب دے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۷)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button