شرعی سوالات

زمیندار کے پاس اسی کی زمین بطور رہن رکھی تو یہ رہن صحیح نہیں

سوال:

زمیندار خود اس کو رہن رکھے اگرچہ وہ رہن باطل ہے مگر اس سے نفع حاصل کرنا زمیندار کو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

اگرچہ سوال میں تصریح نہیں ہے کہ زمیندار راہن  ہے یا مرتہن مگر بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرتہن ہے اور چونکہ زمیندار خود مالک زمین ہے لہذا یہ رہن صحیح نہیں ہے اتنا ہوا کہ زمیندار کو زمین پر قبضہ کی قانونی ممانعت تھی اس راہن کے ذریعے سے قابض ہو سکے گا اور شرعا چونکہ زمیندار مالک تھا اور بلا اذن شرعی کاشتکار اس پر قابض تھا یہ قبضہ زمیندار کو رہن کے ذریعے سے حاصل ہوا س میں نام  اگرچہ رہن کا ہے مگر شرعا اس کی ملک اس کے قبضے میں آ گئی ،یہ قبضہ مالکانہ قبضہ قرار پائے گا اور اسی زمین سے وہ ہر طرح کے منافع حاصل کرنے کا مجاز ہے خود بھی کاشت کر سکتا ہے، اجارہ پر بھی دے سکتا ہے۔

(فتاوی امجدیہ،کتاب الرہن،جلد3،صفحہ 343،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button