ARTICLESشرعی سوالات

زخم پر پٹی باندھنے والے مُحرِم کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے ہاتھ کے انگوٹھے پر زخم تھا اس لئے اس پر دوائی لگا کر پٹی باندھنا ضروری تھی اور میں نے کراچی سے احرام باندھا ہے ، حالتِ احرام میں انگوٹھے پر پٹی باندھنے کی وجہ سے مجھ پر کوئی دَم تو لازم نہیں آئے گا؟

(السائل : محمد صابر، لبیک حج گروپ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں کچھ لازم نہیں ہو گا چنانچہ علامہ محمد سلیمان اشرف ’’مبسوط‘‘ (67) سے نقل کرتے ہیں :

إن عصب شیئاً من جسدہ من علّۃ أو غیر علّۃ فلا شیٔ علیہ و لکن یکرہ لہ أن یغطّی ذلک من غیر علّۃ (68)

یعنی، بے ضرورت بدن کا کوئی حصہ پٹی سے باندھنا مکروہ ہے اگرچہ کچھ کفّارہ لازم نہیں آتا اور ضرورت سے باندھنے کی اجازت ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

ازا نہاست کہ مُحرِم خرقہ ببندد بر عضوے از اعضائی تمام جسد خود ما سوائئی سرو رُوئے مگر آنکہ بعذر باشد چنانکہ آن عضو مجروح یا مکسور باشد آن گاہ بستن خرقہ مباح باشد الخ (69)

یعنی، مکروہاتِ احرام میں سے ایک یہ ہے کہ سر اور چہرے کے علاوہ مُحرِم اپنے جسم کے اعضاء میں سے کسی عضو پر پٹی باندھے مگر یہ کہ پٹی باندھنا کسی عذر کی وجہ سے ہو جیسا کہ وہ عضو زخمی ہو یا ٹوٹا ہوا ہو تو اس وقت پٹی باندھنا مباح ہو گا۔ مگر حالتِ احرام میں زخم کو ایسی دَوا لگانا کہ جس میں ایسی خوشبو ہو جسے دوائی میں ڈال کر پکایا نہ گیا ہو اور زخم پورے عضو کو گھیرے ہوئے نہ ہو تو صدقہ لازم ہو گا بشرطیکہ خوشبودار دوا متعدد بار استعمال نہ کی ہو چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی ’’لُباب‘‘ میں اور ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

و لونداوی بالطیب أی المحض الخالص أو بدواء فیہ طیب أی غالب و لم یکن مطبوخاً لما سبق فالتصق أی الدواء علی جراحتہ تصدّق أی إذا کا ن موضع الجراحۃ لم یستوعب عضواً أو أکثرہ (70)

یعنی، اگر محض خالص خوشبو سے دوا کی (یعنی بطورِ دوا استعمال کیا) یا ایسی دوا استعمال کی کہ جس میں خوشبو غالب ہے اور دوا میں ملا کر پکائی نہیں گئی، اور وہ دوا زخم پر مَل دی تو صدقہ دے یعنی جب زخم کی جگہ پورے یا اکثر عضو کو نہ گھیرے ۔ اس کے تحت علامہ حسین بن محمد سعید عبدالغنی مکی حنفی لکھتے ہیں :

أما إذا استوعب عضواً فیجب الدم (71)

یعنی، مگر جب پورے عضو کو گھیر لے تو دَم واجب ہے ۔ اور اگر پورے یا اکثر عضو سے کم زخم پر خوشبودار دوا لگائی مگر چند بار لگائی تو بھی دَم لازم ہو گا، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اور مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

إلاّ أن یفعل ذلک مراراً فیلزمہ دمٌ، لأن کثرۃ الفعل قامت مقام کثرۃ الطیب (72)

یعنی، مگر یہ کہ وہ اُسے بار بار کرے تو اُسے دَم لازم ہو گا کیونکہ کثرتِ فعل کثرتِ خوشبو کے قائم مقام ہے ۔ اور دوا اگر بے خوشبو ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس طرح اگر دوائی میں ملاکر پکائی گئی ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الخمیس،26ذی القعدہ 1428ھ، 6دیسمبر 2007 م (New 03-F)

حوالہ جات

67۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب ما یلبسہ المحرم من الثیاب،2/4/115

68۔ الحج مصنّفہ محمد سلیمان اشرف، مکروہات، ص48

69۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اَوّل در بیانِ احرام، فصل ہفتم در بیانِ مکروہات تنزیہیہ اِحرام، برقم : 17، ص95

70۔ لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب الجنایات وأنواعھا، فصل : فی التداوی بالطیب، 454

71۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملا علی القاری، باب الجنایات، فصل فی التّداوی بالطّیب، ص452

72۔ لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات، فصل فی التّداوی بالطّیب، ص452

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button