بہار شریعت

روزے کے متعلق مسائل فقہیہ

روزے کے متعلق مسائل فقہیہ

روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (عامہ کتب، تنویر الابصار ج ۲ ص ۱۱۰)

مسئلہ ۱: روزے کے تین درجے ہیں ۔ ایک عام لوگوں کا روزہ یہی کہ پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع کرنے سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ انکے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پائوں اور تمام اعضاء کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوا اللہ سے اپنے کو بالکلیہ جدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ (جوہرہ، نیرہ)

مسئلہ ۲: روزے کی پانچ قسمیں ہیں :۔

(۱) فرض (۲) واجب (۳) نفل (۴) مکروہ (۵) تنزیہی

مکروہ تحریمی، فرض و واجب کی دو قسمیں ہیں ۔ معین و غیر معین۔ فرض معین جیسے ادائے رمضان۔ فرض غیر معین جیسے قضائے رمضان اور روزہ کفارہ۔ واجب معین جیسے نذر معین۔ غیر معین جیسے نذرمطلق۔ نفل دوہیں نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورہ یعنی دسویں محرم کاروزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی۔ اور ہر مہینے میں تیرھویں ، چودھویں ، پندرھویں اور عرفہ کا روزہ۔ پیر اور جمعرات کا روزہ شش عید کے روزے صوم دائود علیہ السلام۔ یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار۔ مکروہ تنزیہی جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیر وزومہرگان کے دن کا روزہ۔ صوم دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا) صوم سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے) صوم وصال کہ روزہ رکھکر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ رکھے یہ سب مکروہ تنزیہی ہے۔ مکروہ تحریمی جیسے عید اور ایام تشریق کے روزے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۴، درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۵،۱۱۲)

مسئلہ ۳: روزے کے مختلف اسباب ہیں ۔ روزۂ رمضان کا سبب ماہ رمضان کاآنا، روزۂ نذر کا سبب منت ماننا، روزۂ کفارہ کا سبب قسم توڑنا یا قتل یا ظہار۔ (عالمگیر ی ج ۱ ص ۱۹۴)

مسئلہ ۴: ماہ رمضان کا روزہ فرض جب ہو گا کہ وہ وقت جس میں روزہ کی ابتدا کر سکے پا لے یعنی صبح صادق سے ضحوۂ کبری تک کہ اس کے بعد روزہ کی نیت نہیں ہو سکتی لہذا روزہ نہیں ہو سکتا اور رات میں نیت ہوسکتی ہے مگر روزہ کی محل نہیں لہذا اگر مجنون کو رمضان کی کسی رات میں ہوش آیا اور صبح جنون کی حالت میں ہوئی یا ضحوۂ کبری کے بعد کسی دن ہوش آیا تو اس پر رمضان کے روزے کی قضا نہیں جب کہ پورا رمضان اسی جنون میں گزر جائے اور ایک دن بھی ایسا وقت مل گیا جس میں نیت کر سکتا ہے تو سارے رمضان کی قضا لازم ہے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۲،۱۱۱)

مسئلہ ۵: رات میں روزہ کی نیت کی اور صبح غشی کی حالت میں ہوئی اور یہ غشی کئی دن تک رہی تو صرف پہلے دن کا روزہ ہوا باقی دنوں کی قضا رکھے اگر پورے رمضان بھر غشی رہی۔ اگرچہ نیت کا وقت نہ ملا۔ (جوہرہ، درمختار ج ۱ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۶: (۱) ادائے روزۂ رمضان اور (۲) نذر معین اور (۳) نفل کے روزوں کے لئے نیت کا وقت غروب آفتاب سے ضحویٔ کبری تک ہے اس وقت میں جب نیت کر لے یہ روزے ہو جائیں گے۔ لہذا آفتاب ڈوبنے سے پہلے نیت کی کہ کل روزہ رکھوں گا۔ پھر بے ہوش ہو گیا اورضحوۂ کبری کے بعد ہوش آیا تو یہ روزہ نہ ہوا اور آفتاب ڈوبنے کے بعد نیت کی تھی تو ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۷: ضحوۂ کبری نیت کا وقت نہیں بلکہ اس سے پیشتر نیت ہو جانا ضرور ہے اور اگر خاص اس وقت یعنی اس وقت آفتاب خط نصف النہار شرعی تک پہنچ گیا نیت کی تو روزہ نہ ہوا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۸: نیت کے بارے میں نفل عام سنت و مستحب و مکروہ سب کو شامل ہے کہ ان سب کے لئے نیت کے لئے وہی وقت ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۹: جس طرح اور جگہ بتایا گیا کہ نیت دل کے ا رادہ کا نام ہے زبان سے کہنا شرط نہیں یہاں بھی وہی مراد ہے مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہے اگر رات میں نیت کرے تو یوں کہے :۔

نویت ان اصوم غدًاللہ تعالی من فرض رمضان

(یعنی میں نے نیت کی اللہ تعالی کے لئے کہ آج رمضان کا فرض روزہ رکھوں گا )

اور اگر تبرک و طلب و توفیق کے لئے نیت کے الفاظ میں انشاء اللہ تعالی بھی ملا لیا تو حرج نہیں اور اگر پکا ارادہ نہ ہو مذبذب ہو تو نیت ہی کہاں ہوئی۔ (جوہرہ نیرہ)

مسئلہ ۱۰: دن میں نیت کرے تو ضرور ہے کہ یہ نیت کرے میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں اور اگر نیت ہے کہ اب سے روزہ دار ہوں صبح سے نہیں تو روزہ نہیں ہوا۔ (جوہرہ، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۱۱: اگرچہ ان تین قسم کے روزوں کی نیت دن میں بھی ہو سکتی ہے مگر رات میں نیت کر لینا مستحب ہے ۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۱۲: یوں نیت کی کہ کل کہیں دعوت ہوئی تو روزہ نہیں اور نہ ہوئی تو روزہ ہے یہ نیت صحیح نہیں بہرحال وہ روزہ دار نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۵)

مسئلہ ۱۳: رمضان کے دن میں نہ روزہ کی نیت کی ہے نہ یہ کہ روزہ نہیں اگرچہ معلوم ہے کہ یہ مہینہ رمضان کا ہے تو روزہ نہ ہوا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۵)

مسئلہ ۱۴: رات میں نیت کی پھر اس کے بعد رات ہی میں کھایا پیا تو نیت جاتی نہ رہی وہی پہلی کافی ہے پھر سے نیت کرنا ضروری نہیں ۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۱۵: عورت حیض و نفاس والی تھی اس نے رات میں کل روزہ رکھنے کی نیت کی اور صب صادق سے پہلے حیض و نفاس سے پاک ہو گئی تو روزہ صحیح ہو گیا۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۱۶: دن میں وہ نیت کام کی ہے کہ صبح صادق سے نیت کرتے وقت تک روزہ کے خلاف کوئی امر نہ پایا گیا ہو لہذا اگر صبح صادق کے بعد بھول کر بھی کھا پی لیا ہو یا جماع کر لیا تو اب نیت نہیں ہو سکتی۔ (جوہرہ) مگرمعتمد یہ ہے کہ بھولنے کے حالت میں بھی نیت صحیح ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۱۷: جس نماز میں کلام کی نیت کی مگر بات نہ کی تو نماز فا سد نہ ہو گی یونہی روزہ میں توڑنے کی نیت سے روزہ نہیں ٹوٹے گا جب تک توڑنے والی چیز نہ کرے۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۱۸: اگر رات میں روزہ کی نیت کر پھر پکا ارادہ کر لیا کہ نہیں رکھے گا تو وہ نیت جاتی رہی۔ اگر نئی نیت نہ کی اور دن بھر بھوکا پیاسا رہا اورجماع سے بچا تو روزہ نہ ہوا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۹)

مسئلہ ۱۹: سحری کھانا بھی نیت ہے خواہ رمضان کے روزے کے لئے ہو یا کسی اور روزہ کے لئے۔ مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہو کہ صبح کو روزہ نہ ہو گا تو یہ سحری کھانا نیت نہیں ۔(جوہرہ، شامی ج ۲ ص ۱۱۶)

مسئلہ ۲۰: رمضان کے ہر روزہ کے لئے نئی نیت کی ضرورت ہے۔ پہلی یا کسی تاریخ میں پورے رمضان کے روزہ کی نیت کر لی تویہ نیت صرف اسی ایک دن کے حق میں ہے باقی دنوں کے لئے نہیں ۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۲۱: یہ تینوں یعنی رمضان کی ادا و نفل و نذر معین مطلقاًروزہ کی نیت سے ہو جاتے ہیں خاص انہیں کی نیت ضروری نہیں ۔ یونہی نفل کی نیت سے بھی ادا ہو جاتے ہیں بلکہ غیر مریض و مسافر نے رمضان میں کسی اور واجب کی نیت کی جب بھی اسی رمضان کا ہو گا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۱۶، ۱۱۷)

مسئلہ ۲۲: مسافر اور مریض اگر رمضان شریف میں نفل یا کسی دوسرے واجب کی نیت کی تو جس کی نیت کریں گے وہی ہو گا رمضان کا نہیں ۔ (تنویرالابصار) اور مطلق روزے کی نیت کریں تو رمضان کا ہو گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲)

مسئلہ ۲۳: نذر معین یعنی فلاں دن روزہ رکھوں گا اس میں اگر اس دن کسی اورواجب کی نیت سے روزہ رکھا تو جس کی نیت سے روزہ رکھا وہ ہوا منت کی قضا دے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲)

مسئلہ ۲۴: رمضان کے مہینے میں کوئی اور روزہ رکھا اور اسے معلوم نہ تھا کہ یہ ماہ رمضان ہے جب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۱۸)

مسئلہ ۲۵: کوئی مسلمان دارالحرب میں قید تھا اور ہر سال یہ سوچ کر کہ رمضان کا مہینہ آگیا رمضان کے روزے رکھے بعد کو معلوم ہوا کہ کسی سال بھی رمضان میں نہ ہوئے بلکہ ہر سال رمضان سے پیشتر ہوئے تو پہلے سال کا تو ہوا ہی نہیں کہ رمضان سے پیشتر رمضان کا روزہ نہیں ہو سکتا اور دوسرے تیسرے سال کی نسبت یہ ہے کہ اگر مطلق رمضان کی نیت کی تھی تو ہر سال کے روزے سال گذشتہ کے روزوں کی قضا ہیں اور اگر اس سال کے رمضان کی نیت سے رکھے تو کسی سال کے نہ ہوئے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۱۱۸)

مسئلہ ۲۶: اگر صورت مذکورہ میں تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اور روزہ رکھا مگر واقع میں روزے شوال کے مہینے میں ہوئے تو اگر رات سے نیت کی تو ہو گئے کیونکہ قضا میں قضا کی نیت شرط نہیں بلکہ ادا کی نیت سے بھی قضا ہو جاتی ہے پھر اگر رمضان و شوال دونوں تیس تیس دن یا انتیس انیتس دن کے ہیں تو ایک روزہ اور رکھے کہ عید کا روزہ ممنوع ہے اور اگر رمضان تیس کا اور شوال انیتس کا تو دو اور رکھے اور رمضان انیتس کا تھا اور یہ تیس کا تو پورے ہو گئے اور اگر وہ مہینہ ذی الحج کا تھا تو اگر دونوں تیس یا انیتس کے ہیں تو چار روزے اور رکھے اور رمضان تیس کا تھا یہ انتیس کا تو پانچ اور بالعکس تو تین رکھے۔ غرض ممنوع روزے نکال کر وہ تعداد پوری کرنی ہو گی جتنے رمضان کے دن تھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۶)

مسئلہ ۲۷: ادائے رمضان اور نذر معین اور نفل کے علاوہ باقی روزے مثلاً قضائے رمضان اور نذر غیر معین اور نفل کی قضا (یعنی نفلی روزہ رکھکر توڑ دیا تھا اس کی قضا) اور نذر معین کی قضا اور کفارہ کا روزہ اور حرم میں شکار کرنے کی وجہ سے جو روزہ واجب ہوا اور حج میں وقت سے پہلے سر منڈانے کا روزہ ان سب میں عین صبح چمکتے وقت یا رات میں نیت کرنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے خاص اس معین کی نیت کرے اور ان روزوں کی نیت اگر دن میں کی تو نفل ہوئے پھر بھی ان کا پورا کرنا ضروری ہے توڑے گا تو قضا واجب ہو گی۔ اگرچہ یہ اس کے علم میں ہو کہ جو روزہ رکھنا چاہتا ہے یہ وہ نہیں ہو گا بلکہ نفل ہو گا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۱۸،۱۱۹ وغیرہ)

مسئلہ ۲۸: یہ گمان کر کے کہ اس کے ذمہ روزے کی قضا ہے روزہ رکھا۔ اب معلوم ہوا کہ گمان غلط تھا تو اگر فوراً توڑ دے تو توڑ سکتا ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ پورا کرلے اور فوراً نہ توڑا تو اب نہیں توڑ سکتا توڑے گا تو قضا واجب ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۹)

مسئلہ ۲۹: رات میں قضا روزے کی نیت کی صبح کو اسے نفل کرنا چاہتا ہے تو نہیں کر سکتا۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۹)

مسئلہ ۳۰: نماز پڑھنے میں روزہ کی نیت کی تو یہ نیت صحیح ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۱۹)

مسئلہ ۳۱: کئی روزے قضا ہو گئے تو نیت میں یہ ہونا چاہیئے کہ اس رمضان کے پہلے روزے کی قضا، دوسرے کی قضا اور تیسرے کی قضا اور اگر کچھ اس سال کے قضا ہو گئے کچھ پچھلے سال کے باقی ہیں تو یہ نیت ہونی چاہیئے کہ اس رمضان کی اور اس رمضان کی قضا اور اگر دن اور سال کو معین نہ کیا جب بھی ہو جائیں گے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۶)

مسئلہ ۳۲: رمضان کا روزہ قصداً توڑا تھا اس پر اس روزے کی قضا ہے اور ساٹھ روزے کفارہ کے۔ اب اس نے اکسٹھ (۶۱) روزے رکھ لئے قضا کا دن معین نہ کیا تو ہو گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۶)

مسئلہ ۳۳: یوم الشکیعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفل خالص کی نیت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اور نفل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے خواہ مطلق روزہ کی نیت ہو یا فرض یا کسی واجب کی خواہ نیت معین کی کی ہو یا تردد کے ساتھ یہ سب صورتیں مکروہ ہیں ۔ پھر اگر رمضان کی نیت ہے تو مکروہ تحریمی ہے ورنہ مقیم کے لئے تنزیہی اور مسافر نے اگر کسی واجب کی نیت کی تو کراہت نہیں پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو مقیم کے لئے بہرحال رمضان کا روزہ ہے اور اگر یہ ظاہر ہوا کہ وہ شعبان کا دن تھا اور نیت کسی واجب کی کی تھی جس واجب کی نیت تھی وہ ہوا اور اگر کچھ حال نہ کھلا تو واجب کی نیت بے کار گئی اور مسافر نے جس کی نیت کی بہرصورت وہی ہوا۔ (درمختار ، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۱۹، ۱۲۱)

مسئلہ ۳۴: اگر تیسویں تاریخ ایسے دن ہوئی کہ اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا تو اسے روزہ رکھناافضل ہے مثلاً کوئی شخص پیر یا جمعرات کا روزہ رکھا کرتا تھا اور تیسویں اسی دن پڑھی تو رکھنا افضل ہے ۔ یونہی اگر چند روزے پہلے سے رکھ رہا تھا تو اب یوم الشک میں کراہت نہیں ۔ کراہت اسی صورت میں ہے کہ رمضان میں ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھا جائے یعنی صرف تیس شعبان کو یا انیتس اور تیس کو۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۰)

مسئلہ ۳۵: اگر نہ تو اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا نہ کئی روز پہلے سے روزہ رکھے تو اب خاص لوگ روزہ رکھیں عوام نہ رکھیں بلکہ عوام کے لئے یہ حکم ہے کہ ضحوۂ کبری تک روزہ کے مثل رہیں اگر اس وقت تک چاند کا ثبوت ہو جائے تو رمضان کے روزے کی نیت کر لیں ورنہ کھا پی لیں ۔ خواص سے مراد یہاں علماء ہی نہیں بلکہ جو شخص یہ جانتا ہو کہ یوم الشک میں اس طرح روزہ رکھا جاتا ہے وہ خواص میں ہے ورنہ عوام میں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۱،۱۲۰)

مسئلہ ۳۶: یوم الشک کے روزہ میں یہ پکا ارادہ کر لے کہ یہ روزہ نفل ہے تردد نہ رہے یوں نہ ہو کہ اگر رمضان ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے ورنہ نفل کایا یوں کہ اگر آج رمضان کا دن ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے ورنہ کسی اورواجب کا کہ یہ دونوں صورتیں مکروہ ہیں پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو فرض رمضان ادا ہو گا۔ ورنہ دونوں صورتوں میں نفل ہے اور گناہگار بہرحال ہوا اور یوں بھی نیت نہ کرے کہ یہ دن رمضان کا ہے تو روزہ ہے ورنہ روزہ نہیں کہ اس صورت میں تو نہ نیت ہی ہوئی نہ روزہ ہوا اور اگرنفل کا پورا ارادہ ہے مگر کبھی کبھی دل میں یہ خیال گزر جاتا ہے کہ شائد آج رمضان کا دن ہو تو اس میں حرج نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۲۲۰، درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۳۷: عوام کو یہ جو حکم دیا گیا کہ ضحوۂ کبری تک انتظار کریں جس نے اس پر عمل کیا مگر بھول کر کھا لیا پھر اس دن کا رمضان ہونا ظاہر ہوا تو روزہ کی نیت کر لے ہو جائے گا کہ انتظار کرنے والا روزہ دار کے حکم میں ہے اور بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۲۲)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button