بہار شریعت

روزہ کے مکروہات کے متعلق مسائل

روزہ کے مکروہات کے متعلق مسائل

حدیث ۱،۲: بخاری و ابودائود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس کی کچھ حاجت نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور اسی کے مثل طبرانی نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔

حدیث ۳،۴: ابن ماجہ و نسائی و ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی ودارمی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انہیں روزہ سے سوا پیاس کے کچھ نہیں اور بہت سے رات میں قیا م کرنے والے ایسے کہ انہیں جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں اور اسی کے مثل طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی۔

حدیث ۵،۶: بیہقی ابوعبیدہ اور طبرانی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ حضور نے فرمایا روزہ سپر ہے جب تک اسے پھاڑا نہ ہو۔ عرض کی گئی کس چیز سے پھاڑے گا ارشاد فرمایا جھوٹ یا غیبت سے۔

حدیث ۷: ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور نے فرمایا روزہ اس کا نام نہیں کہ کھانے اور پینے سے باز رہنا ہو روزہ تویہ ہے کہ لغو و بیہودہ باتوں سے بچا جائے۔

حدیث ۸: ابودائود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کی ایک شخص نے نبی ﷺ سے روزہ دار کو مباشرت کرنے کے بارے میں سوال کیا حضور نے انہیں اجازت دی پھر ایک دوسرے صاحب نے حاضر ہوکر یہی سوال کیا تو انہیں منع فرمایا اور جن کو اجازت دی تھی بوڑھے تھے اور جن کو منع فرمایا جوان تھے۔

حدیث ۹: ابودائود و ترمذی عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہتے ہیں میں نے بے شمار بار نبی ﷺ کو روزہ میں مسواک کرتے دیکھا۔

مسائل فقہیہ

مسئلہ ۱: جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا، بیہودہ بات کرنا، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں روزہ میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔

مسئلہ ۲: روزہ دار کو بلاعذر کسی چیز کا چکھنا یا چپانا مکروہ ہے چکھنے کیلئے عذر یہ ہے کہ مثلاً عورت کا شوہر یا باندی اور غلام کا آقا بدمزاج ہے کہ نمک کم و بیش ہو گا تو اس کی ناراضی کا باعث ہو گا اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں چبانے کے لئے یہ عذر ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اور کوئی نرم غذا نہیں جو اسے کھلائی جائے نہ حیض و نفاس والی یا کوئی اور بے روزہ ایسا ہے جو اسے چبا کر دے تو بچہ کے کھلانے کے لئے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۵۳ وغیرہ) چکھنے کے وہ معنی نہیں جو آج کل عام محاورہ ہے یعنی کس چیز کا مزہ دریافت کرنے کے لئے اس میں سے تھوڑا کھا لینا ہے کہ یوں تو کراہت کیسی روزہ ہی جاتا رہے گا بلکہ کفارہ کے شرائط پائے جائیں تو کفارہ بھی لازم ہو گا۔ بلکہ چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پررکھ کر مزہ دریافت کر لیں اور اسے تھوک دیں ۔ اس میں سے حلق میں کچھ نہ جانے پائے۔

مسئلہ ۳: کوئی چیز خریدی اور اس کا چکھنا ضروری ہے کہ نہ چکھے گا تو نقصان ہو گا تو چکھنے میں حرج نہیں ورنہ مکروہ ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۵۳)

مسئلہ ۴: بلاعذر چکھنا جو مکروہ بتایا گیا یہ فرض روزہ کا حکم ہے نفل میں کراہت نہیں جب کہ اس کی حاجت ہو ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۵۳)

مسئلہ ۵: عورت کا بوسہ لینا اور گلے لگانا اور بدن چھونا مکروہ ہے جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ انزال ہو جائے گا یا جماع میں مبتلا ہو گا اور ہونٹ اورزبان چوسنا روزہ میں مطلقاً مکروہ ہے یونہی مباشرت فاحشہ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۵۳)

مسئلہ ۶: گلاب یا مشک وغیرہ سونگھنا داڑھی مونچھ میں تیل لگانا اور سرمہ لگانامکروہ نہیں مگر جبکہ زینت کے لئے سرمہ لگایا اس لئے تیل لگایا کہ داڑھی بڑھ جائے حالانکہ ایک مشت داڑھی ہے تو یہ دونوں باتیں بغیر روزہ کے بھی مکروہ ہیں اور روزہ میں بدرجۂ اولی۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۵۵)

مسئلہ ۷: روزہ میں مسواک خشک ہو یا تر اگرچہ پانی سے تر کی ہو زوال سے پہلے کرے یا بعد کسی وقت مکروہ نہیں ۔(عامہ کتب، عالمگیری ج ۲ ص ۱۹۹)

مسئلہ ۸: فصد کھلوانا، پچھنے لگوانا مکروہ نہیں جب کہ ضعف کا اندیشہ نہ ہو اور اندیشہ ہو تو مکروہ ہے اسے چاہئیے کہ غروب تک مؤخر کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۹،۲۰۰)

مسئلہ ۹: روزہ دار کے لئے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے کلی میں مبالغہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ منہ بھر پانی لے اور وضو غسل کے علاوہ ٹھنڈ پہنچانے کی غرض سے کلی کرنا یا ناک میں پانی چڑھانا یا ٹھنڈ کے لئے نہانا بلکہ بدن پر بھیگا کپڑا لپیٹنا مکروہ نہیں ۔ ہاں اگر پریشانی ظاہر کرنے کے لئے بھیگا کپڑا لپیٹا تو مکروہ ہے کہ عبادت میں دل تنگ ہونا اچھی بات نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۹، ج ۲ ص ۱۵۶ وغیرہما)

مسئلہ ۱۰: پانی کے اندر ریاح خارج کرنے سے روزہ نہیں جاتا مگر مکروہ ہے اور روزہ دار کو استنجے میں مبالغہ کرنا بھی مکروہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۹) یعنی اوردنوں میں یہ حکم ہے کہ استنجا کرنے میں نیچے کو زور دیا جائے اور روزہ میں یہ مکروہ ہے۔

مسئلہ ۱۱: منہ میں تھوک اکٹھا کر کے نگل جانا بغیر روزہ کے بھی ناپسند ہے اور روزہ میں مکروہ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۹)

مسئلہ ۱۲: رمضان کے دنوں میں ایسا کام کرنا جائز نہیں جس سے ایسا ضعف آجائے کہ روزہ توڑنے کا ظن غالب ہو۔ لہذا نانبائی کو چاہیئے کہ دوپہر تک روٹی پکائے پھر باقی دن میں آرام کرے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۵۷) یہی حکم معمار و مزدور اورمشقت کے کام کرنے والوں کا ہے زیادہ ضعف کا اندیشہ ہو تو کام میں کمی کر دیں کہ روزے ادا کر سکیں ۔

مسئلہ ۱۳: اگر روزہ رکھے گا تو کمزور ہو جائے گا کھڑے ہو کر نما ز نہ پڑھ سکے گا تو حکم ہے کہ روزہ رکھے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۵۸) جب کہ کھڑا ہونے سے اتنا ہی عاجز ہو جو باب صلوۃ المریض میں گزرا۔

مسئلہ ۱۴: سحری کھانا اور اس میں تاخیر کرنا مستحب ہے مگر اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ صبح ہونے کا شک ہو جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۲۰۰)

مسئلہ ۱۵: افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے مگر افطار اس وقت کرے کہ غروب کا غالب گمان ہو جب تک گمان غالب نہ ہو افطار نہ کرے اگرچہ مؤذن نے اذان کہہ دی ہے اور ابر کے دنوں میں افطار میں جلدی نہ چاہیے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۵۷)

مسئلہ ۱۶: ایک عادل کے قول پر افطار کرسکتا ہے جب کہ اس کی بات سچی مانتا ہو اور اگر اس کی تصدیق نہ کرے تو اس کے قول کی بنا پر افطار نہ کرے یونہی مستور کے کہنے پر بھی افطار نہ کرے اور آج کل اکثر اسلامی مقامات میں افطار کے وقت توپ چلنے کا رواج ہے اس پر افطار کر سکتا ہے اگرچہ توپ چلانے والے فاسق ہوں جب کہ کسی عام محقق توقیت دان محتاط فی الدین کے حکم پر چلتی ہو آج کل کے عام علماء بھی اس فن سے ناواقف محض ہیں اور جنتریاں کہ شائع ہوتی ہیں اکثر غلط ہوتی ہے ان پر عمل جائز نہیں یونہی سحری کے وقت اکثر جگہ نقارہ بجتا ہے انھیں شرائط کیساتھ اس کا بھی اعتبار ہے اگرچہ بجانے والے کیسے ہی ہوں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۴۵)

مسئلہ ۱۷: سحری کے وقت مرغ کی اذان کا بھی اعتبار نہیں کہ اکثر دیکھا گیا کہ صبح سے بہت پہلے اذان شروع کر دیتے ہیں بلکہ جاڑے کے دنوں میں تو بعض مرغ دو بجے سے اذان کہنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ اس وقت صبح ہونے میں بہت باقی رہتا ہے یونہی بول چال سن کر اورروشنی دیکھ کر بولنے لگتے ہیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۴۵، مع زیادۃ)

مسئلہ ۱۸: صبح صادق کو رات کامطلقاً چھٹا یا ساتواں حصہ سمجھنا غلط ہے رہا یہ کہ صبح کس وقت ہوتی ہے اسے حصہ سوم باب الاوقات میں بیان کر آئے ہیں وہاں سے معلوم کریں ۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button