ARTICLES

رمی جمرات میں ترتیب کا حکم

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے دوسرے یا تیسرے روز جمرات کی رمی اس طرح کی کہ پہلے جمرہ عقبہ کی رمی پھر وسطیٰ کی اور پھر اخر میں جمرہ اولیٰ کی رمی کی، اس صورت میں رمی درست ہو گئی یا نہیں ؟ جب کہ وہ تاریخ ابھی باقی ہو۔

(السائل : محمد عرفان، از لبیک حج اینڈ عمرہ سروسز، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اگر رمی کا وقت باقی ہو تو چاہئے کہ جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کی رمی کا اعادہ کرے ، چنانچہ امام شمس الدین احمد بن محمد سرخسی حنفی متوفی 483ھ لکھتے ہیں :

قال : و ان بدا فی الیوم الثانی بجمرۃ العقبۃ فرماہا ثم بالوسطی ثم بالتی تلی المسجد ثم ذکر ذلک فی یومہ، قال : یعید علی الجمرۃ الوسطی و جمرۃ العقبۃ، لانہ نسک شرع مرتبا فی ہذا الیوم، فما سبق اوانہ لا یعتد بہ، فکان رمی الجمرۃ الاولی بمنزلۃ الافتتاح للجمرۃ الوسطی، و الوسطی بمنزلۃ الافتتاح لجمرۃ العقبۃ فما ادی قبل وجودہ مفتاحہ لا یکون معتدا بہ کمن سجد قبل الرکوع، او سعی قبل الطواف بالبیت، فالمعتد من رمیہ ہنا الجمرۃ الاولیٰ، فلہذا یعید علی الوسطی و علی جمرۃ العقبۃ (172)

یعنی، فرمایا دوسرے روز اگر جمرہ عقبہ سے رمی شروع کی پس اس کی رمی کی پھر وسطیٰ کی رمی کی، پھر اس کی رمی کی جو مسجد کے ساتھ ملا ہوا ہے ، پھر اسے اسی روز یاد ا گیا، فرمایا : جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کی رمی کا اعادہ کرے کیونکہ اس روز نسک ترتیب وار واجب ہے ، پس جو اپنے وقت سے پہلے ہوا اسے شمار نہیں کیا جاتا، پس جمرہ اولیٰ کی رمی جمرہ وسطیٰ کے لئے افتتاح کے مرتبے میں ہو گئی اور وسطیٰ کی رمی جمرہ عقبہ کے لئے افتتاح کے مرتبے میں ہو گئی۔ پس جو اپنی مفتاح کے وجود سے قبل ادا ہو وہ معتد بہ نہیں ہوتی یہ ایسے ہیں جیسے کوئی شخص رکوع سے قبل سجدہ کرے یا بیت اللہ کے طواف سے قبل سعی کرے ، پس یہاں اس کی رمی صرف جمرہ اولیٰ کی رمی شمار ہو گی، لہٰذا وہ جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کی رمی کا (ترتیب وار) اعادہ کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان میں ترتیب واجب ہے جیسا کہ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

و ہو صریح فی افادۃ ہذا المعنی (173)

یعنی، یہ اس معنی کا فائدہ دینے میں صریح ہے ۔ لیکن اکثر کے نزدیک یہ ترتیب واجب نہیں ہے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و الاکثر علی انہ سنۃ (174)

یعنی، اور اکثر اس پر ہیں کہ یہ سنت ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

و الاکثر علی انہ سنۃ موکدۃ (175)

یعنی، اکثر اس پر ہیں کہ یہ سنت موکدہ ہے ۔ چنانچہ علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم ابن نجیم حنفی متوفی 1005ھ لکھتے ہیں :

ہل ہو متعین او مسنون؟ لا دلالۃ فی کلامہ علیہ، و عبارتہ فی ’’المجمع‘‘ صریحۃ فی عدم تعینہ، قال : و یسقط الترتیب، و صرح فی ’’المناسک‘‘ بانہ سنۃ حتی لو بدا فی الثانی بجمرۃ العقبۃ ثم بالوسطی ثم بالتی تلی المسجد فان اعادہ علی الوسطی ثم علی العقبۃ فی یومہ فحسن، و ان لم یعد اجزاہ (176)

یعنی، کیا وہ (یعنی ترتیب) متعین (یعنی واجب) ہے یا مسنون ہے ؟ تو صاحب ’’کنز‘‘ کے کلام میں اس پر کوئی دلالت نہیں ہے ، اور اس کی عبارت ’’مجمع‘‘ میں اس کی عدم تعین میں صریح ہے ، فرمایا اور ترتیب ساقط ہو جائے گی اور ’’مناسک‘‘ میں تصریح فرمائی کہ یہ ترتیب سنت ہے یہاں تک کہ اگر دوسرے روز جمرہ عقبہ سے ابتداء کی پھر وسطیٰ کی رمی کی، پھر اس کی جو مسجد سے ملا ہوا ہے ، پس اگر وسطیٰ کی رمی کا پھر عقبہ کی رمی کا اعادہ کر لیا تو اچھا ہے اور اگر اعادہ نہ کیا تو اسے جائز ہے ۔ اور علامہ علاؤ الدین ابو بکر بن سعود کاسانی متوفی 587ھ لکھتے ہیں :

فان ترک الترتیب فی الیوم الثانی فبدا بجمرۃ العقبۃ فرماہا ثم بالوسطی ثم بالتی تلی المسجد ثم ذکر ذلک فی یومہ فانہ ینبغی ان یعید الوسطی و جمرۃ العقبۃ و ان لم یعد اجزاہ و لا یعید الجمرۃ الاولی اما اعادۃ الوسطی و جمرۃ العقبۃ فلترکہ الترتیب فانہ مسنون لان النبی علیہ الصلوۃ و السلام ﷺ رتب فاذا ترک المسنون تستحب الاعادۃ و لا یعید الاولی لانہ اذا اعاد الوسطی و العقبۃ صارت ہی الاولی و ان لم یعد الوسطی و العقبۃ اجزاہ لان الرمیات مما یجوز ان ینفرد بعضہا من بعض بدلیل ان یوم النحر یرمی فیہ جمرۃ العقبۃ و لا یومی غیرہا من الجمار و فیما جاز ان ینفرد البعض من البعض لا یشترط فیہ الترتیب کالوضوء بخلاف ترتیب السعی علی الطواف انہ شرط لان السعی لا یجوز ان ینفرد عن الطواف بحال (177)

یعنی، اگر دوسرے روز ترتیب کو ترک کیا پس جمرہ عقبہ سے شروع کیا پس اس کی رمی کی پھر وسطیٰ کو پھر اس کو جو مسجد سے ملا ہوا ہے ، پھر اسے اسی روز یاد ایا (کہ اس نے رمی خلاف ترتیب کی ہے ) تو اسے چاہئے کہ جمرہ وسطیٰ اور عقبہ کی رمی کا اعادہ کرے اور اگر اعادہ نہ کیا تو اسے جائز ہوا اور وہ جمرہ اولیٰ کی رمی کا اعادہ نہیں کرے گا مگر جمرہ وسطیٰ اور عقبہ کی رمی کا اعادہ تو وہ ترتیب کو ترک کرنے کے سبب سے ، پس بے شک وہ ترتیب مسنون ہے کیونکہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ نے ترتیب وار رمی فرمائی، پس جب مسنون عمل کو ترک کیا تو اعادہ مستحب ہوا، اور پہلے جمرہ کی رمی کا اعادہ نہیں کرے گا پس اس نے جمرہ وسطیٰ اور عقبہ کی رمی کا اعادہ کر لیا تو یہ اولیٰ ہو گیا اور اگر جمرہ وسطیٰ اور عقبہ کی رمی کا اعادہ نہ کیا تو اسے جائز ہوا کیونکہ رمی ان افعال میں سے ہے کہ جنہیں بعض کو بعض سے منفرد کرنا جائز ہے اس دلیل سے کہ یوم نحر میں صرف جمرہ عقبہ کو رمی کی جاتی ہے نہ کہ اس کے غیر کو، اور وہ افعال کہ جنہیں بعض کو بعض سے منفرد کرنا جائز ہے ، ان میں ترتیب شرط نہیں ہوتی جیسے وضو برخلاف سعی کو طواف پر (مقدم کرنے کے ) وہ شرط ہے کیونکہ جائز نہیں کہ کسی بھی حال میں سعی طواف سے منفرد کیا جائے ۔ ملا علی قاری حنفی علامہ رحمت اللہ سندھی کی ’’لباب‘‘ میں عبارت ’’و الاکثر علی انہ سنۃ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں :

کما صرح بہ صاحب ’’البدائع‘‘، و الکرمانی، و ’’المحیط‘‘ و ’’فتاوی السراجیۃ‘‘ و قال ابن الہمام، و الذی یقوی عندی استنان الترتیب لا تعیینہ (178)

یعنی، جیسا کہ اس کی صاحب ’’بدائع‘‘ ، کرمانی، ’’محیط‘‘ اور ’’فتاوی سراجیہ‘‘ نے تصریح کی ہے اور امام ابن ہمام نے فرمایا : میرے نزدیک جو قوی ہے وہ ترتیب کا سنت ہونا ہے نہ کہ تعیین اس کی (یعنی وجوب اس کا)۔ اور سنت سے مراد سنت موکدہ ہے چنانچہ ملا علی قاری حنفی علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی کے قول ’’او سنۃ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں :

موکدۃ عند الاکثر (179)

یعنی، اکثر کے نزدیک سنت موکدہ ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی لکھتے ہیں :

و الاکثر علی انہ سنۃ موکدۃ (180)

یعنی، اور اکثر اس پر ہیں کہ یہ (ترتیب) سنت موکدہ ہے ۔ امام اہلسنت امام احمد رضا حنفی متوفی 1340ھ نے خلاف ترتیب رمی کو مکروہات میں شمار کیا ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں : جمروں میں خلاف ترتیب کرنا (مکروہ ہے )۔ (181) اس سے مراد مکروہ تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی کیونکہ اس میں جو بھی امور ذکر کئے ہیں سب کے سب مکروہات تنزیہی ہیں ۔ لہٰذا اگر خلاف ترتیب رمی کر لی تو چاہئے کہ وسطیٰ اور عقبہ کی دوبارہ رمی کر لے کہ اعادہ سنت موکدہ ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی لکھتے ہیں :

اگر عکس کرد سنت موکدہ باشد اعادہ رمی بر جمرہ وسطیٰ و قصوی (182)

یعنی، اگر ترتیب کا عکس کر لیا توسنت موکدہ ہے کہ جمرہ وسطیٰ اور عقبہ پر رمی کا اعادہ کرے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاثنین، 12 ذوالحجۃ 1435ھـ، 6 اکتوبر 2014 م 946-F

حوالہ جات

172۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب رمی الجمار، 2/59

173۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب رمی الجمار و احکامہ، فصل : فی احکام الرمی و شرائطہ و واجباتہ، تحت قولہ : العاشر الترتیب الخ، ص352

174۔ لباب المناسک و عباب المسالک، باب رمی الجمار و احکامہ، فصل فی احکام الرمی و شرائطہ و واجباتہ، ص166

175۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب دہم در رمی جمار، فصل دویم دربیان شرائط صحت رمی جمار، ص214

176۔ النہر الفائق، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : ثم بالجمرۃ العقبۃ، 2/91

177۔ بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، کتاب الحج، فصل : فی حکمہ اذا تاخر عن وقتہ اوفات، 3/97

178۔ المسلک المتقسط، باب رمی الجمار و احکامہ، شرائط الرمی عشرۃ، العاشر : الترتیب فی الرمی، تحت قولہ : و الاکثر علی انہ سنۃ، ص352

179۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، ص134

180۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب دہم در رمی جمار، فصل دویم در بیان شرائط صحتہ رمی جمار، ص214

181۔ فتاوی رضویہ، فصل پنجم منی و مزدلفہ و باقی افعال حج، رمی میں یہ امور مکروہ ہیں ، 10/755

182۔ حیات القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب ی جمار، واما سنن رمی پس ان…الخ، ص214

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button