ARTICLESشرعی سوالات

رمی، قربانی، حلق اور طوافِ زیارت میں ترتیب کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جیسے رمی ، قربانی اور حلق میں ترتیب واجب ہے اسی طرح طوافِ زیارت کا ان تین اُمور کے بعد کرنا واجب ہے یا مسنون ہے

(السائل : ۔ محمد عرفان ضیائی ، نور مسجد مٹھادر ، کراچی )

جواب

باسمہ سبحانہ تعالیٰ و تقدس الجواب : ۔روز نحر (یعنی دس ذو الحجہ کو) اعمالِ مشروعہ چار ہیں 1۔ رمی جمرہ عقبہ 2۔ جانور کی قربانی 3۔ حلق یا قصر 4۔ طواف ِزیارت اور اگر کسی نے طواف کے ساتھ سعی نہ کی تو اس کے لئے پانچویں چیز سعی بھی مشروع ہے ۔ (180) علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی 970 ھ (181) اور علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم ابن نجیم حنفی متوفی 1005 ھ (182) لکھتے ہیں :

واعلم أن مایفعل یوم النحر أربعۃ : الرمی ، والنحر ، والحلق ، والطواف

یعنی ، جاننا چائیے کہ حاجی ( قارن یا متمتع ) دسویں ذوالحجہ جو کوکام کرے گا وہ چار ہیں : (1) رمی جمرہ عقبہ، (2) جانور کی قربانی ، (3) حلق ( یا تقصیر )، (4) طواف ِزیارت علامہ ابو بکر بن علی حدادی حنفی متوفی 800 ھ لکھتے ہیں : قال فی ’’ النھایۃ ‘‘ الأمور الأربعۃ وھی الرمی والذبح والحلق، والطواف تفعل فی أول أیام النحر علی الترتیب وضابطۃ ’’ ر ذ ح ط ‘‘ فالراء الرمی ، والذال الذبح ، والحاء الحلق ، والطاء الطواف الخ (183) اور علامہ علاؤ الدین حصکفی 1108 ھ (184) اور ان سے علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ (185)نقل کرتے ہیں :

فیجب فی یوم النحر أربعۃ أشیاء : الرمی ، ثم الذبح لغیر المفرد ، ثم الحلق ، ثم الطواف

یعنی ، دسویں ذوالحجہ کو حاجی (قارن یا متمتع) پر چار چیزیں واجب ہیں : (1) رمی ، (2) قربانی، (3)حلق، (4) طوافِ زیارت۔ اور طوافِ زیارت کے درست ہونے کا وقت دسویں ذوالحجہ کی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے ۔ اس وقت سے قبل اگر کسی نے طوافِ زیارت کرلیا تو وہ طواف درست نہ ہوگا۔ اور دسویں کی صبح صادق کے بعد کرے گا تو درست ہو جائے گا اگر چہ وہ رمی و حلق سے قبل ہی کیوں نہ کرلے ،چنانچہ علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی 970 ھ (186)لکھتے ہیں اور ان سے علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ (187)نقل کرتے ہیں :

أول وقت صحتہ إذا طلع الفجر من یوم النحر ولو قبل الرمی والحلق

یعنی ، طوافِ زیارت کے درست ہونے کا اوّل وقت وہ ہے جب دسویں ذوالحجہ کی فجر طلوع ہو جائے ، اگر چہ رمی اور حلق سے قبل ہو (یعنی رمی اور حلق سے قبل طوافِ زیارت کر لے تو طواف درست ہو جائے گا)۔ اس سے معلوم ہوا اگر کسی شخص نے حلق (سر منڈوانے ) سے قبل طوافِ زیارت کر لیا تو اُس کا طواف درست ہو جائے گااور اس طرح کرنے اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی سر منڈوانے سے قبل طوافِ زیارت کرنے والے کے بارے میں لکھتے ہیں :

وقد نصّ فی ’’ المعراج ‘‘ فی مسئلۃ حلق القارن قبل الذبح أنہ إذا قدّم الطواف علی الحلق لا یلزمہ شیٔ (188)

یعنی ، اور ’’ معراج ‘‘ میں قارن (حاجی) کے قربانی سے قبل حلق کرنے کے مسئلہ میں تصریح فرمائی ہے کہ حاجی نے جب حلق سے قبل طوافِ زیارت کرلیاتو اس پر کچھ لازم نہیں ہوگا (کیونکہ طوافِ زیارت اور ان اُمورِ ثلاثہ میں ترتیب واجب نہیں بلکہ سنّت ہے ) اورعلامہ سراج الدین عمر ابراہیم ابن نجیم حنفی متوفی 1005 ھ لکھتے ہیں :

نقل فی مسئلۃ حلق القارن قبل الذبح عن ’’ مبسوط ‘‘ شیخ الإسلام أنہ لو قدّم الطواف علی الحلق لا یلزمہ شیٔ (189)

یعنی ، قارن (حاجی) کے ذبح سے قبل حلق کرنے کا مسئلہ میں شیخ الاسلام کی کتاب ’’ مبسوط ‘‘ سے منقول ہے کہ اگر حاجی نے طواف کو حلق پر مقدم کیا تو اس پر کوئی چیز لازم نہ آئے گی اور علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی متوفی 1231 ھ لکھتے ہیں :

إن طاف قبل الحلق لاشیٔ علیہ ، لکن لا یحل بھذا الطواف بل یحل بحلق (190)

یعنی ، اگر حلق (سر منڈوانے ) سے قبل طوافِ زیارت کرلیا تو اس پر کچھ لازم نہ آئے گا ، لیکن اس طواف سے وہ احرام سے فارغ نہ ہوگا بلکہ حلق ( یعنی سر منڈوانے ) سے وہ احرام سے فارغ ہوگا جس طرح حلق سے قبل طوافِ زیارت کرنے سے کچھ لازم نہیں آئے گا اسی طرح رمی سے قبل طوافِ زیارت کرلیا تو بھی ایسا کرنے والے پر کچھ لازم نہ ہوگا چنانچہ علامہ علی بن سلطان ملا علی قاری متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

ولو طاف أی المفرد وغیرہ قبل الرمی والحلق لاشیٔ علیہ (191)

یعنی ، اگر مفرد بالحج اور اس کے غیر(متمع اور قارن) نے (جمرہ عقبہ کی ) رمی (یعنی کنکریاں مارنے ) اور حلق ( یعنی سر منڈوانے ) سے قبل طوافِ زیارت کرلیا تو اس پر کچھ لازم نہیں اور علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088 ھ لکھتے ہیں :

لکن لا شیٔ علی من طاف قبل الرمی والحلق (192)

یعنی ، لیکن جس نے طوافِ زیارت رمی (یعنی جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے ) اور حلق ( یعنی سر منڈوانے یا تقصیر ) سے پہلے کیا تو اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا۔ اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :

فلو طاف قبل الرمی والحلق لا شیٔ علیہ (193)

یعنی، پس اگر رمی اور حلق سے قبل طوافِ زیارت کرلیاتو اس پر کچھ لازم نہ آئے گا۔ اسی طرح قارن یا متمتع حاجی نے اگر قربانی سے قبل طواف زیارت کر لیا تو اس پر بھی کچھ لازم نہیں ہوگا کہ جس طرح رمی اور طوافِ زیارت میں ترتیب واجب نہیں اسی طرح قربانی اور طوافِ زیارت میں بھی ترتیب واجب نہیں ، چنانچہ سید محمد امین ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :

إذا لم یجب ترتیب الطواف علی الرمی لم یجب علی الذبح (194)

یعنی ، جب طوافِ زیارت کی ترتیب رمی پر واجب نہیں تو اس کی ترتیب قربانی پر بھی واجب نہیں ہے چنانچہ علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی لکھتے ہیں :

وکذا لو طاف القارن والمتمتع قبل الذبح ، لأن الطواف إذا کان لا یلزم بتقدمہ علی الرمی المتقدم علی الذبح شیٔ فمن باب أولی أن لا یلزم فی تقدمہ علی الذبح الواجب فی القارن والمتمتع الخ (195)

یعنی ، اور اسی طرح اگر قارن اور متمتع نے قربانی سے قبل طوافِ زیارت کیا( تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا ) کیونکہ جب رمی جو قربانی پر (ترتیب میں ) مقدم ہے اس سے قبل طوافِ زیارت کرنے سے کچھ لازم نہیں آتا تو قارن اور متمتع کے لئے قربانی سے قبل طوافِ زیارت کرنے سے بطریقِ اولی کچھ لازم نہیں آئے گا اور فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ طوافِ زیارت اور اُمورِ ثلاثہ ( یعنی رمی و ذبح و حلق ) میں ترتیب واجب نہیں بلکہ سنّت ہے ۔چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی اور علامہ علی بن سلطان ملا علی القاری متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

وأما الترتیب بینہ أی بین طواف الزیارۃ وبین الرمی والحلق أی کونہ بعد ھما ، فسنّۃ (196)

یعنی ، اگر ترتیب طوافِ زیارت اور رمی و حلق کے مابین یعنی طوافِ زیارت کا رمی و حلق کے بعد ہونا تو وہ سنّت ہے اور علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088 ھ لکھتے ہیں :

وأما الترتیب بین الطواف وبین الرمی والحلق فسنّۃ فلو طاف قبل الرمی والحلق لا شیٔ علیہ ویکرہ ’’لباب‘‘ (197)

یعنی ، اور مگر طوافِ زیارت اور رمی و حلق میں ترتیب تو وہ سنّت ہے ،پس اگر رمی و حلق سے قبل طوافِ زیارت کرلیا تو اس پر کچھ لازم نہیں ، اور مکروہ ہوگا۔ اورعلامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی1252 ھ لکھتے ہیں :

أما الترتیب بینہ وبین الرمی والحلق فسنّۃ (198)

یعنی ،مگر طوافِ زیارت اوررمی و حلق میں ترتیب تو وہ سنّت ہے لہٰذا طوافِ زیارت اور اُمورِ ثلاثہ (رمی ، قربانی اور حلق) میں ترتیب سنّت ہے نہ کہ وہ واجب اسی لئے فقہاء کرام نے تصریح کردی کہ طوافِ زیارت اور اُمورِ ثلاثہ میں ترتیب واجب نہیں ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی طوافِ زیارت اور رمی و حلق کے مابین ترتیب کے بارے میں لکھتے ہیں :

ولیس بواجب (199)

یعنی ، ( ان کے مابین ) ترتیب واجب نہیں اورعلامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں :

والحاصل أن الطواف لا یجب ترتیبہ علی شیٔ من الثلاثہ (200)

یعنی ، حاصل کلام یہ ہے کہ طوافِ زیارت کی ترتیب اُمورِ ثَلاثہ پر واجب نہیں ہے جب رمی و حلق میں مفرد بالحج کے لئے اور رمی ، قربانی اور حلق میں قارن اور متمتع کے لئے ترتیب واجب ہے تو پھر اس ترتیب کا خلاف کرنے کی صورت میں دم واجب ہوتا ہے ،چنانچہ علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی لکھتے ہیں :

وأنما یلزم الدم إن حلق قبل الرمی مطلقاً أو ذبح قبل الرمی وکان قارناً أو متمتعاً (201)

یعنی ، دم صرف اس صورت میں لازم ہوگا جب وہ مطلقاً رمی سے قبل حلق کرے یا رمی سے قبل قربانی کرے اور وہ قارن یا متمع ہو۔ اور اُمورِ ثلاثہ سے قبل طوافِ زیارت کرنا سنّت کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ ضرور ہوگا چنانچہ علامہ علی بن سلطان ملا علی القاری متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

إلا أنہ قد خالف السنّۃ فکرہ علی ماصرّح بہ غیر واحد (202)

یعنی ،مگر یہ کہ اس نے سنّت کا خلاف کیا تو ( اس کا یہ فعل ) مکروہ ہوگا بنا بر اس کے کہ جس کی سوائے ایک کے باقی نے تصریح کی۔ لہٰذا فقہائے کرام نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح کی ہے جیسا کہ علامہ علاؤ الدین حصکفی نے ’’در مختار‘‘ کے کتاب الحج میں فرائض و واجباتِ حج کے بیان میں لکھا : ’’ویکرہ ‘‘ (مکروہ ہے ) اور باب الجنایات میں لکھا ہے : ’’ نعم یکرہ ‘‘ ( ہاں مکروہ ہے ) اورشیخ رحمت اللہ سندھی نے ’’ لباب المناسک ‘‘ کے باب الجنایات، فصل فی ترک الترتیب بین أفعال الحج میں لکھا : ’’ ویکرہ ‘‘اور( مفرد بالحج کورمی و حلق سے قبل طوافِ زیارت کرنا )مکروہ ہے اور ملا علی القاری نے لکھا : ’’ مکروہ ‘‘ ہے جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں گذرا۔ اور اس کراہت سے مراد کراہت تنز یہی ہوگی کیونکہ یہ کراہت ترکِ سنّت کی وجہ سے لازم آئی چنانچہ ملا علی قاری ’’ لباب المناسک ‘‘ کی عبارت ’’ ویکرہ ‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں

أی لترکہ السنّۃ (203)

یعنی ، اس لئے کہ اس نے سنّت کو ترک کیا ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ فقہاء کرام نے لکھا ہے ایسا کرنے والے پر کچھ لازم نہیں ، اگر کراہت تحریمی ہوتی تو اُس پر کچھ لازم ضرور آتااور علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی نے ’’درمختار‘‘ پر اپنے ’’حاشیہ‘‘ میں تصریح فرمائی ہے کہ صاحبِ در کے قول : ’’ مکروہ ہے ‘‘ سے مراد مکروہ تنز یہی ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

قولہ : یکرہ أی تنزیھًا لأنھا فی مقابلۃ السنّۃ (204 ) قولہ : نعم یکرہ أی تنزیہ کما یفاد ممّا تقدم (205)

یعنی ،صاحب در کا قول : ’’ مکروہ‘‘ ہے یعنی مکروہ تنز یہی ہے ، کیونکہ وہ سنّت کے مقابلہ میں ہے ( دوسرے مقام پر لکھا ) صاحب در کا قول : ’’ہاں مکروہ ہے ‘‘ کا مطلب ہے مکروہ تنز یہی ہے جیسا کہ جو پہلے گذرا اس سے مستفاد ہے ۔ اور بعض علماء کرام طوافِ زیارت اور اُمور ثلاثہ کے مابین ترتیب کو بھی واجب سمجھتے ہیں اور قِلّتِ مطالعہ یا کُتُبِ فقہ کی طرف عدم مراجعت کی بنا پر اس میں نزاع بھی کرتے ہیں ، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ترتیب تو رمی وذبح و حلق میں واجب ہے نہ کہ طواف زیارت اور اُمورِ ثلاثہ (یعنی رمی ، قربانی اور حلق )میں ۔ چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں :

وإنما یجب الترتیب الثلاثۃ : الرمی ، ثم الذبح ، ثم الحلق لکن المفرد لاذبح علیہ فبقی علیہ الترتیب بین الرمی والحلق (205)

یعنی ، اور ترتیب صرف تین میں واجب ہے : (1) رمی، (2) پھر ذبح ، (3) پھر حلق ، لیکن مفرد بالحج پر ذبح نہیں تواس پر رمی اور حلق میں ترتیب باقی رہے گی۔ اور ’’بہار شریعت‘‘ کی عبارت جو طوافِ زیارت اور اُمور ثلاثہ کے مابین ترتیب کے وجوب کو ثابت کرنے کے لئے پیش کی جاتی ہے اس سے مراد یومِ نحر میں کئے جانے والے اعمال مشروعہ کا بیان کرنا ہے نہ کہ سب میں ترتیب کو واجب بتانا کیونکہ جو ترتیب وہاں مذکور ہے اس میں تین کے مابین ترتیب واجب اور اُن کی چوتھے یعنی طوافِ زیارت کے ساتھ ترتیب مسنون ہے جیسا کہ فقہ حنفی کی معتبر، متعمد کُتُب میں اس کی تصریح مذکور ہے ۔

واللّٰہ تعالیٰ أعلم بالصواب

یوم السبت، 21 جمادی الأخریٰ 30 یولیو 2005 م (84-F.inp)

حوالہ جات

180۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب للمخدوم محمد ہاشم التتوی ، باب نہم ، فصل الثانی، ص 210

181۔ البحرالرائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الحج ، باب الجنایات ، فصل ، تحت قولہ أو أخّر الحلق الخ ،3/42

182۔ النھر الفائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الحج ، باب الجنایات ، تحت قولہ : أوطواف الرکن ، 2/30

183۔ الجوھرۃ النیرۃ ،کتاب الحج ، تحت قولہ : وقد حل لہ کل شیٔ الخ،1/384

184۔ الدر المختار ، کتاب الحج ، باب الجنایات ،2/157

185۔ رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب الحج ، مطلب : فی فروض الحج و واجبات،3/542

186۔ البحر الرائق ، کتاب الحج ، باب الإحرام ، تحت قولہ : ثم إلی مکۃ یوم النحر الخ، 2/608

187۔ منحۃ الخالق علی البحرالرائق ،،کتاب الحج ، باب الجنایات ، تحت قولہ : وقد نص فی ’’ المعراج ‘‘ الخ ، 3/42

188۔ البحرالرائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الحج ، باب الجنایات ، تحت قولہ : أو أخّر الحلق الخ ، 3/42

189۔ النھر الفائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الحج ، باب الجنایات ، تحت قولہ : طواف الرکن ، ص 3/130

190۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ،کتاب الحج ، باب الجنایات ، تحت قولہ : والحلق ، ص 1/525

191۔ المسلک المتقسّط : فی المنسک المتوسّط ، باب الجنایات ، فصل فی ترک الترتیب بین أفعال الحج ، ص 507

192۔ الدر المختار ، کتاب الحج ، باب الجنایات ، 2/ 167

193۔ الدر المختار ،کتاب الحج ، تحت قول التنویر : والترتیب الأتی الخ ،2/157

194۔ رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب الحج ، باب الجنایات ، 3/668

195۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ، باب الجنایات ، 1/ 525

196۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط ، باب طواف الزیارۃ ، فصل : فی شرائط صحۃ الطواف ، ص 329

197۔ الدر المختار ،کتاب الحج ، تحت قول التنویر : والترتیب الأتی الخ،ص157

198۔ رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب ، الحج ، مطلب : فی طواف الزیارۃ ،3/614

أیضاً منحۃ الخالق علی البحرا لرائق ، کتاب الحج ، باب الإحرام ، تحت قول صاحب البحر : وقول المصنف : فطف الخ ، 2/608

199۔ لباب المناسک مع شرحہ ، باب طواف الزیارۃ ، فصل : فی شرائط صحۃ الطواف ، ص 257

200۔ رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب الحج ، مطلب : فی فروض الحج و واجباتہ، 3/542

201۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ،کتاب الحج ، باب الجنایات ، 1/525

202۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط ، باب طواف الزیارۃ ، فصل فی شرائط صحۃ الطواف، ص329

203۔ المسلک المتقسّط ، باب الجنایات ، فصل : فی ترک الترتیب بین أفعال الحج ، ص 507

204۔ کتاب الحج ، ص 486

205۔ کتاب الحج ، باب الجنایات ، ص 525

206۔ الرد المحتار علی الدر المختار ،کتاب الحج ، مطلب : فی فروض الحج و واجباتہ ،3/542

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button