ARTICLES

رمی،قربانی،حلق اورطواف زیارت میں ترتیب کاحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کیارمی،قربانی،حلق اورطواف زیارت کے درمیان ترتیب واجب ہے ،اگرکوئی شخص رمی،قربانی یاحلق سے پہلے یاان تینوں ہی سے قبل طواف زیارت کرلے تو کیااس پرکچھ لازم ہوگا؟

(سائل : علامہ محمدعرفان قادری،نورمسجدکاغذی بازارکراچی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں رمی وحلق وغیرہ اور طواف زیارت کے درمیان ترتیب واجب نہیں ہے ۔ چنانچہ علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں :

ان الطواف لا يجب ترتيبه على شيءٍ من الثلاثة۔۔۔وانما يجب ترتيب الثلاثة : الرمي ثم الذبح ثم الحلق لكن المفرد لا ذبح عليه فبقي عليه الترتيب بين الرمي والحلق۔()

یعنی،طواف زیارت کی ترتیب تینوں میں سے کسی پرواجب نہیں ،اور ترتیب توصرف رمی،قربانی اورحلق کے درمیان واجب ہے اور مفردپرقربانی نہیں ہے ،پس اس پررمی وحلق کے درمیان ترتیب کاوجوب باقی رہے گا۔ پس اگرکسی نے رمی وحلق وغیرہ سے قبل طواف زیارت کرلیا،تواس پردم لازم ہوگااورنہ ہی صدقہ۔چنانچہ علامہ علاء الدین حصکفی حنفی متوفی1088ھ اور علامہ شامی لکھتے ہیں :

(لا شيء على من طاف) اي مفردًا او غيره شرح اللباب(قبل الرمي والحلق) اي وكذا قبل الذبح بالاولى، لان الرمي مقدم على الذبح، فاذا لم يجب ترتيب الطواف على الرمي لا يجب على الذبح۔۔۔ فيجب تقديم الرمي على الحلق للمفرد وغيره، وتقديم الرمي على الذبح والذبح على الحلق لغير المفرد، ولو طاف المفرد وغيره قبل الرمي والحلق لا شيء عليه لباب وكذا لو طاف قبل الذبح۔()

یعنی،مفردیااس کے غیرنے رمی وحلق سے پہلے طواف زیارت کیاتواس پرکچھ لازم نہیں ہوگا(شرح لباب) () اوراسی طرح قربانی سے پہلے طواف زیارت کرنے پربدرجہ اولیٰ کچھ لازم نہ ہوگاکیونکہ رمی‘قربانی پرمقدم ہے ،پس جب طواف زیارت کی ترتیب رمی پرواجب نہیں تو اس کی ترتیب قربانی پربھی واجب نہیں ،پس مفردوغیرہ کیلئے رمی کوحلق پرمقدم کرناواجب ہے اور غیرمفردکیلئے رمی کوقربانی پراورقربانی کوحلق پرمقدم کرنا واجب ہے ،اوراگرمفردوغیرہ نے رمی وحلق سے پہلے طواف زیارت کیاتواس پرکچھ لازم نہیں ہوگا(لباب
المناسک)اوراسی طرح قربانی سے پہلے طواف زیارت کرنے پرحکم ہے ۔ اورشیخ الاسلام مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی1174ھ لکھتے ہیں :

واما رعایت ترتیب میان حلق وطواف پس ان واجب نیست بلک سنت است تاانکہ اگر حلق کرد بعد طواف زیارت واجب نہ گردد بروے چیزے از دم یا صدقہ و ہمچنین ترتیب میان رمی وطواف واجب نیست بلک سنت ست۔ ()

یعنی،ترتیب کی رعایت حلق وطواف زیارت کے مابین واجب نہیں ،بلکہ سنت ہے حتی کہ اگرکسی نے طواف زیارت کے بعدحلق کیاتو اس پردم یاصدقہ سے کوئی چیزواجب نہ ہوگی اوراسی طرح رمی اورطواف زیارت کے درمیان ترتیب واجب نہیں بلکہ سنت ہے ۔ لیکن طواف زیارت ‘رمی وحلق کے بعدکرناسنت ہے ۔چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملا علی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(واما الترتیب بینہ) ای بین طواف الزیارۃ (وبین الرمی والحلق) ای کونہ بعدھما (فسنۃ ولیس بواجب)۔۔۔وکذا الترتیب بینہ وبین الحلق۔ ()

یعنی،طواف زیارت اوررمی وحلق کے مابین ترتیب کی رعایت سنت ہے یعنی طواف زیارت‘رمی اورحلق کے بعدکرناسنت ہے ۔ اوراس کے خلاف کرنامکروہ ہے ۔چنانچہ علامہ علاءالدین حصکفی لکھتے ہیں :

فلو طاف قبل الرمي و الحلق لا شيء عليه ويكره لباب۔()

یعنی،اگرکسی نے رمی وحلق سے قبل طواف زیارت کیاتواس پرکچھ لازم نہیں ہوگالیکن مکروہ ہے ۔(شرح لباب) () اوریہاں مکروہ سے مرادمکروہ تنزیہی ہے کیونکہ کراہت سنت کے مقابلے میں واردہے ۔چنانچہ علامہ علاءالدین حصکفی اور علامہ سیداحمدبن محمدطحطاوی حنفی متوفی1231ھ لکھتے ہیں :

(ویکرہ) ای تنزیھا لانھا فی مقابلۃ السنۃ۔()

یعنی،صاحب درکاقول کہ مکروہ ہے یعنی مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ کراہت سنت کے مقابل میں ہے ۔ لہٰذامعلوم ہواکہ طواف زیارت اورامورثلاثہ
(رمی،قربانی،حلق) کے درمیان ترتیب واجب نہیں بلکہ سنت ہے اوراس کے خلاف کرنامکروہ تنزیہی ہے ، پس اگرکوئی ان تینوں اموریاان میں سے بعض پرطواف زیارت کومقدم کرے گا تو اس پردم یا صدقہ لازم نہ ہوگا،اورنہ ہی وہ گنہگارہوگا،لیکن بہتریہی ہے کہ سنت پرعمل کیاجائے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب منگل،5ربیع الاول1443ھ۔11،اکتوبر2021م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button