بہار شریعت

ذمی کی وصیت کے متعلق مسائل

ذمی کی وصیت کے متعلق مسائل

مسئلہ۱: یہودی یا نصرانی نے صومعہ یا کنیسہ بحالت صحت بنایا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو وہ میراث ہے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔ (جامع الصغیر از ہدایہ ج ۴ و عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۲)

مسئلہ ۲: یہودی یا عیسائی نے بوقت موت اپنے گھر کو گرجا بنانے کی متعین و معدود لوگوں کے لئے وصیت کردی تو اس کی یہ وصیت اس کے ثلث حصہ میں جاری ہوگی۔(جامع الصغیر و عالمگیری ج ۶ ص۱۳۲)

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۳: اگر اس نے اپنے گھر کو غیر محصور و غیر معدود لوگوں کے لئے کنیسہ بنانے کی وصیت کی تو یہ وصیت جائز ہے۔(جامع صغیر از ہدایہ ج ۴)

مسئلہ ۴: ذمی کی وصیت کی چار قسمیں ہیں (۱) ایک یہ کہ وہ ایسی شے کی وصیت کرے جو اس کے اعتقاد میں قربت و عبادت ہو اور مسلمانوں کے نزدیک قربت و عبادت نہ ہو جیسے کہ ذمی وصیت کرے کہ اس کے خنزیر کاٹے جائیں اور مشرکوں کو کھلائے جائیں تو اگر وصیت متعین و معدود لوگوں کے لئے ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں ، (۲)دوسرے یہ کہ ذمی ایسی چیز کی وصیت کرے جو مسلمانوں کے نزدیک قربت و عبادت ہو اور خود ذمیوں کے نزدیک عبادت نہ ہو جیسے وہ حج کرنے کی وصیت کرے یا مسجد تعمیر کرانے کی وصیت کرے یا مسجد میں چراغ روشن کرنے کی وصیت کرے تو اس کی یہ وصیت بالاجماع باطل ہے لیکن اگر مخصوص و متعین لوگوں کے لئے ہوتو جائز ہے،(۳) تیسرے یہ کہ ذمی ایسی چیز کی وصیت کرے جو مسلمانوں کے نزدیک بھی عبادت وقربت ہو اور ان کے نزدیک بھی جیسے بیت المقدس میں چراغ روشن کرنے کی وصیت کرے تو یہ وصیت جائز ہے ،(۴)چوتھے یہ کے وہ ایسی چیز کی وصیت کرے جو نہ مسلمانوں کے نزدیک قربت و عبادت ہو اور نہ ذمیوں کے نزدیک جیسے وہ گانے بجانے والی عورتوں یا نوحہ گر عورتوں کے لئے وصیت کرے تو یہ وصیت جائز نہیں (ہدایہ ج ۴ عالمگیری ج ۶ کتب الوصایا ص ۱۳۱)

مسئلہ۵: فاسق فاجر بدعتی جس کا فسق و فجور حد کفر تک نہ پہنچا ہو وصیت کے معاملہ میں بمنزلہ مسلمانوں کے ہے اور اگر اس کا فسق و فجور کفر کی حد تک ہے تو وہ بمنزلہ مرتد کے ہے جو حکم مرتد کی وصیت کاہے وہی اس کی وصیت کا ہے کہ اس کی وصیت موقوف رہے گی، اگر اس نے اپنے کفر و ارتداد سے توبہ کرلی تو وصیت نافذ ہوگی، ورنہ نہیں (ہدایہ ج۴ و عالمگیری ج ۶ص ۱۳۱)

مسئلہ۶: حربی کافر امان لے کر دار الاسلام میں داخل ہو اور اس نے اپنے کل مال کی وصیت کسی مسلمان یا ذمی کے لئے کی تو اس کی وصیت کل مال میں جائز ہے(جامع صغیر از ہدایہ و عالمگیری ج ۶ ص۱۳۲)

مسئلہ ۷: حربی کافر امان لے کر دار الاسلام میں داخل ہو اور اس نے اپنے مال کے ایک حصہ کی وصیت کسی مسلمان یا ذمی کے لئے کی تو یہ وصیت جائز ہے اس کا بقیہ مال اس کے ورثہ کو واپس دیا جائے گا(ہدایہ ج ۴ و محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص۱۳۲)

مسئلہ۸: حربی مستامن کے لئے کسی مسلمان یا ذمی نے وصیت کی تو یہ جائز ہے، (ہدایہ)مستامن اس شخض کو کہتے ہیں جو امان لے کر دار السلام میں داخل ہوا۔

مسئلہ ۹: ذمی نے اپنے ثلث مال سے زیادہ میں وصیت کی یا اپنے بعض وارثوں کے لئے وصیت کی تو جائز نہیں (ہدایہ)اور اگر اپنے غیر مذہب والے کے لئے وصیت کی تو جائز ہے(عالمگیری ج ۶ ص۱۳۲)

مسئلہ ۱۰: مسلمان یا ذمی نے دار الاسلام میں ایسے کافر حربی کے لئے وصیت کی جو دار الاسلام میں نہیں ہے تو یہ وصیت جائز ہے، (ہدایہ ج ۴ و مستصفی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۲)

مسئلہ ۱۱: اگر مسلمان مرتد ہوگیا(معاذ اللہ )پھر وصیت کی ، امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک موقوف رہے گی، اگر اسلام لے آیا اور وصیت اسلام میں صحیح ہے تو جائز ہے اور جو اسلام کے نزدیک صحیح نہیں وہ باطل ہوجائے گی(عالمگیری ج ۶ ص۱۳۲)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button