ARTICLES

دو مختلف جگہوں پر ٹھہرنے کا ارادہ رکھنے والے مسافر کا حکم

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک قافلہ کراچی سے دو یا تین تاریخ کو ایا ان کو تقریبا چھ دن بعد حج کے مناسک ادا کرنے کے لیے منیٰ روانہ ہونا تھا جب یہ ائے تو قصر نماز پڑھ رہے تھے اور افعال حج کی ادائیگی کے بعد ان کے پاس سترہ دن کا عزیزیہ میں قیام ہے جب یہ منیٰ سے عزیزیہ ارہے تھے تو ان کی نیت یہ تھی کہ وہ دس روز کے اندر اندر ایک رات کے لئے مدینہ تشریف لے جائیں گے مگر وہ نہ جاسکے تو اب انہوں نے طائف جانے کا ارادہ کیا ہے اور اب تک قصر نماز پڑھ رہے ہیں انہیں طائف جا کر رات گزارناضروری ہے یا صرف جاکر واپس انا ان کے مسافر رہنے کے لیے کافی ہے اور اگر یہ طائف کا سفر نہیں کرتے تو ان پر مسافر رہنے کے لیے مدینہ شریف کا سفر ان پر لازم ہے یا نہیں ؟

(السائل : اصف مدنی عزیزیہ ،مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں یہ لو گ مسافر ہی رہیں گے کیونکہ انہوں نے کل سترہ دن عزیزیہ میں ٹھہرنا تھا اور دس روز بعد ایک رات کے لیے مدینہ شریف جانے کا ارادہ کیا تو نہ ہی مدینہ شریف روانگی کے ارادے سے قبل پندرہ دن بنتے ہیں اور نہ ہی اس کے بعد اور مختلف جگہوں پرٹھہرنے کے ارادے سے کوئی مسافر مقیم نہیں ہوتا۔ کیونکہ اقامت کی نیت ایک جگہ کے لئے ہی ہوتی ہے یاد رہے دو مختلف مستقل جگہوں پر ٹھہرنے کے ارادے میں دونوں جگہوں میں مدت سفر کی مسافت کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے ۔ جیسے کوئی شخص پندرہ دن مکہ مکرمہ اور منیٰ میں پندرہ دن ٹھہرنے کے ارادے سے مکہ مکرمہ میں اکر ٹھہرا تو وہ مسافر ہی رہے گا ۔مکہ مکرمہ میں بھی قصر کرتا رہے گا اور منیٰ و عرفات میں بھی وہ شخص مقیم نہ ہوگا۔ اس لئے سوال میں ذکر کردہ لوگ پہلی نیت سے ہی مسافر ٹھہرے انہیں اپنے اپ کو مسافر رکھنے کے لیے طائف جانے کا تکلف کرنے کی حاجت نہیں تھی ان کی نیت ہی کافی تھی۔ چنانچہ امام برہان الدین ابو المعالی محمود بن صدرالشریعہ ابن مازہ بخاری حنفی متوفی 616ھ لکھتے ہیں :

لان نیۃ للاقامۃ انما تکون فی موضع واحد فان الاقامۃ ضد السفر وھوالضرب فی الارض والانتقال من موضع الی موضع یکون ضربا فی الارض فلایکون اقامۃ۔ (118)

یعنی، کیونکہ اقامت کی نیت ایک جگہ میں ہوتی ہے بے شک اقامت سفر کی ضد ہے اورسفر ضرب فی الارض ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ضرب فی الارض ہے پس وہ اقامت نہ ہوگا۔ امام ابن مازہ بخاری حنفی مزید لکھتے ہیں :

واذا نوی المسافر الاقامۃ فی موطنین خمسۃ عشریوما نحو مکۃ ومنیً،او الکوفۃ والحیرۃ،لم یصر مقیما۔ (119)

اور جب مسافر نے وہ جگہ اقامت کی نیت کرلی جیسے مکہ اورمنیٰ یا کوفہ اور حیرہ تو مقیم نہ ہوگا۔ اور علامہ طاہر بن عبدا لرشید بخاری حنفی متوفی 542 ھ لکھتے ہیں :

ولونوی الاقامۃ فی موضعین خمسۃ عشر یوما لا یصیر مقیما (120)

اگر دوجگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلی مقیم نہ ہوگا۔ علامہ ابراھیم بن محمد بن ابراھیم حلبی حنفی متوفی 956 ھ لکھتے ہیں :

ولونواھا بموضعین کمکۃ ومنی لایصیر مقیماالا ان یبیت باحدھما۔ (121)

یعنی : اگر دوجگہ ٹھہرنے کی نیت کی جیسے مکہ اورمنیٰ تو مقیم نہ ہوگامگر یہ کہ ان دونوں سے ایک جگہ رات گزارے ۔ علامہ شیخ ابراھیم حلبی دوسری جگہ لکھتے ہیں :

وکذا ان نوی خمسۃ عشر یوما لکن موضعین لایصیر مقیما (122)

یعنی : اوراسی طرح اگر پندرہ دن کی نیت کی لیکن دوجگہوں پر تو مقیم نہ ہوگا۔ لہٰذا دوجگہ اقامت کی نیت ہی درست نہیں ہے چنانچہ علامہ عبداللہ بن محمود موصلی حنفی متوفیٰ 683ھ لکھتے ہیں :

ولونوی ان یقیم بموضعین لایصح۔ (123)

یعنی : اگر نیت کی کہ دو جگہوں پر ٹھہرے گاتو(یہ نیت اقامت)درست نہیں ۔ کیونکہ اگر دوجگہ کی نیت درست ہوجائے تو دو سے زیادہ جگہ کی نیت بھی درست ہونی چاہیئے چنانچہ علامہ موصلی اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

اذ لوصح فی موضعین لصح فی اکثر وانہ ممتنع۔ (124)

یعنی : کیونکہ دو جگہ نیت درست ہوجائے تو کئی جگہوں پر(ٹھہرنے کی نیت)درست ہوجائے گی حالانکہ یہ ممنوع ہے ۔ اور دوجگہ اقامت کے درست ہونے کی ایک صورت ہے جو کتب فقہ میں مذکورہے ، مگر وہ صورت یہاں موجود نہیں ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 16 ذوالحجۃ 1437ھـ۔ 17 سبتمبر2016م990-F

حوالہ جات

118۔ المحیط البرھانی کتاب الصلاۃ الفصل الثانی والعشرون فلاۃ السفر،2/391،392

119۔ المحیط البرھانی کتاب الصلاۃ الفصل الثانی والعشرون فلاۃ السفر، 2/391، 392

120۔ خلاصۃ الفتاوی،کتاب الصلاۃ،الفصل الثانی والعشرون فی صلاۃ المسافر، 1/99

121۔ ملتقی الابحر مع شرحہ کتاب الصلاۃ،باب المسافر،1/240

122۔ حلبی کبیر،الصلاۃ،فصل فی صلاۃ المسافر،ثم المسافر،639

123۔ المختار الفتوی مع شرحہ للمصنف،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر،1/107

124۔ الاختیار لتعلیل المختار،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر،1/107

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button