ARTICLES

دوکنکریاں ایک ساتھ مارنے پر کتنی بارمارناشمارہوگا؟ اپنی اورغیرکی طرف سے 14کنکریاں دو دومارنے پرکس کی رمی اداہوگی؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک حاجی صاحب کے بیان کے مطابق ان کی بیوی معذورہے ،جب رمی کاوقت ایاتوحاجی صاحب نے اپنی سات کنکریاں اوراپنی معذوربیوی کی سات کنکریاں لے کررمی کے لئے گئے ،اوررمی کرتے وقت ایک ساتھ دوکنکریاں لیں اورکہاکہ ایک میری طرف سے اوردوسری میری معذوربیوی کی طرف سے ،اورماردیں ،مطلب یہ کہ کنکریاں کل چودہ تھیں ،اوردو دوکرکے سات بار ماردیں ،اورکہتے گئے کہ ایک میری طرف سے اوردوسری میری معذور بیوی کی طرف سے ،کیااس طرح رمی درست ہے ،اگرنہیں تو کیاحکم ہے ؟ نیزاس طرح رمی کرناایک کاہوگایادونوں کا،تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں ۔ (سائل : ذاکراشرفی،انڈیا)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں چونکہ منصوص علیہ الگ الگ کنکری مارنا ہے نہ کہ عین کنکریوں کاشمار،لہذاجب کوئی جمرہ کو ایک ہی ساتھ دوکنکریاں مارے گاتووہ ایک بارفعل بجالائے گا،جس کے سبب ایک ہی بارکنکری مارنا شمارہوگا۔ چنانچہ امام ابوعبد اللہ محمد بن حسن شیبانی متوفی١٨٩ھ لکھتے ہیں : فان رمی احدی الجمار بسبع حصیات جمیعًا قال : ہذہ واحدۃ یرمیہا الان بست۔( ) یعنی،پس اگر کسی نے جمرات میں سے کسی جمرہ پرایک ہی بار میں ساتوں کنکریاں ماردیں توفرمایا کہ یہ ایک ہی بارکنکری مارناشمارہوگا،اوراب وہ چھ کنکریاں مارے ۔ اورامام ابوالفضل محمد بن محمدبن احمدمروزی حنفی متوفی٣٤٤ھ اورامام شمس الدین ابوبکرمحمدبن احمد سرخسی حنفی متوفی ٤٩٠ھ لکھتے ہیں : (قال)(فان رمی احدی الجمار بسبع حصیاتٍ جملۃً فہذہ واحدۃ)؛ لان المنصوص علیہ تفرق الاعمال لا عین الحصیات.فاذا اتی بفعلٍ واحدٍ لا یکون الا عن حصاۃٍ واحدۃٍ ، کما لو اطعم کفارۃ الیمین مسکینًا واحدًا مکان اطعام عشرۃ مساکین جملۃً لم یجزہ الا عن اطعام مسکینٍ واحدا۔( ) یعنی،امام حاکم شہید نے فرمایا : پس اگر کسی نے جمرات میں سے کسی جمرہ پرایک ہی بار میں ساتوں کنکریاں ماردیں تو یہ ایک ہی بار کنکری مارنا شمارہوگا،کیونکہ منصوص علیہ اعمال کا الگ الگ ہوناہے نہ کہ عین کنکریوں (کاشمار)،لہذاجب کوئی ایسا کرے گاتووہ ایک ہی فعل بجا لائے گا(نہ کہ الگ الگ) جس کے سبب ایک ہی بار کنکری مارنا شمارہوگا،جیسے کسی نے قسم کے کفارے میں دس مسکینوں کوکھانا کھلانے کے بجائے ایک ہی کو کھلادیا تویہ ایک ہی مسکین کوکھلانا شمار ہوگانہ کہ دس مساکین کوکھلانا۔( ) اورامام علاء الدین ابوبکربن مسعودکاسانی حنفی متوفی٥٨٧ھ لکھتے ہیں : فان رمی احدی الجمار بسبع حصیاتٍ [جمیعًا]دفعۃً واحدۃً ، فہی عن واحدۃٍ، ویرمی ستۃً اخری ؛ لان التوقیف ورد بتفریق الرمیات فوجب اعتبارہ۔( ) یعنی،پس اگر کسی نے جمرات میں سے کسی جمرہ پرایک ہی بار میں ساتوں کنکریاں ماردیں ،تو یہ ایک ہی بارکنکری مارناشمارہوگااوروہ( بقیہ) چھ کنکریاں (متفرق طورپر)اورمارے ،کیونکہ روایت میں متفرق طورپرکنکریوں کا مارنا واردہوا ہے ،پس اسی کا اعتبارواجب ہے ۔ لہذا چودہ کنکریاں دو دوکرکے مارنے سے سات شمارہوں گی،لیکن ایسا کرنا سنت کی مخالفت کے سبب مکروہ ہے ۔ چنانچہ ملا علی قاری حنفی متوفی١٠١٤ھ لکھتے ہیں : مع ھذا ینبغی ان یکون مکروھا لمخالفتہ السنۃ۔( ) یعنی،ساتھ اس کے کہ یہ سنت کی مخالفت کے سبب مکروہ ہوگا۔ خلاصہ کلام یہ کہ اگرکسی نے دویادوسے زائدکنکریاں ایک ساتھ جمرہ پرماردیں تویہ ایک ہی بارکنکری مارناشمارہوگا،نہ کہ دویااس سے زائد، نیز ایساکرناسنت کی مخالفت کے سبب مکروہ بھی ہے ،اوریہ فاعل کی طرف سے مانی جائیں گی اوریہ رمی مع الکراہۃ درست ہوگئی اورکراہت ’’تنزیہی‘‘ہوگی کہ اس سے سنت کی مخالفت لازم اتی ہے ،جیساکہ ملا علی قاری نے صراحت فرمائی ہے ۔ اوراس طرح کرنے سے اس کی اپنی رمی اداہوئی ،اوراس کی معذور بیوی کی رمی ادانہ ہوئی،اوروقت میں رمی ہونالازم تھی اوروقت گزرنے کے بعداس کی بیوی پردم لازم ائے گا۔ چنانچہ امام فخرالدین عثمان بن علی زیلعی حنفی متوفی743ھ : ان ترك رمي يومٍ واحدٍ فعليه دم….او ترك رمي جمرة العقبة في يوم النحر يجب دم۔( ) یعنی،اگرکسی نے ایک دن کی رمی چھوڑدی تواس پردم لازم ہوگا، یا جمرہ عقبہ کویوم نحرمیں رمی نہ کی ،تودم واجب ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم یوم الاحد،١٦،ذوالحجۃ١٤٤٠ھ۔١٧،اغسطس٢٠١٩م

حوالہ جات

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button