بر والدین

دوسروں پرصدقہ کرنے سےزیادہ  بہتر اپنے والدین پر خرچ کرنا ہے

عربی حدیث:

 حدثنا قتیبۃ بن سعید، حدثنا اللیث عن أبی الزبیر، عن جابر رضی اللہ عنہ؛ أنہ قال: أعتق رجل من بنی عذرۃ عبدا لہ عن دبر، فبلغ ذلک رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فقال: لک مال غیرہ؟ فقال: لا، فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: من یشتریہ منی؟ فاشتراہ نعیم بن عبد اللہ النحام بثمان مائۃ درہم، فجاء بہا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فدفعہا إلیہ، ثم قال: ابدأ بنفسک فتصدق علیہا، فإن فضل شیء عن قرابتک، فہکذا وہکذا، یقول: بین یدیک وعن یمینک وعن شمالک.۔

اردو ترجمہ:

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے ایک غلام کو وفات کے بعد کی شرط پر آزاد کیا(یعنی جب میں وفات پا گیا تو تُو آزاد ہو جائے گا۔) جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کو پتہ چلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی مال ہے؟ “

 انہوں نے عرض کی:           ”نہیں۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (غلام کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا:    اس کو مجھ سے کون خریدے گا ؟“

حضرت نعیم بن عبد اللہ النحام رضی اللہ عنہ نے اسے800درہم میں خرید لیا۔خریدنے کے بعد وہ غلام لے کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے(اور غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو تحفتاً دے دیا۔)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے حضرت نعیم بن عبد اللہ النحام رضی اللہ عنہ کوغلام واپس کیا اور فرمایا:

”ابتداً اپنے آپ پر خرچ کرو، اگر کچھ بچ جائے تو رشتہ داروں پراس کے بعد فلاں فلاں پر۔“

راوی کہتے ہیں یہ بات کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سامنے اور دائیں بائیں اشارہ فرما رہے تھے۔

۔

تخریج الحدیث:

مسلم ( ۴۱)(۹۹۷)،

البخاری( ۲۱۴۱)(۲۴۰۳)(۶۷۱۶)۔

کتاب: والدین سے حسن سلوک

کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ

ماخوذ از:
کتاب: بر الوالدین، مؤلف: امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ
حوالہ جات:
کتاب: والدین سے حسن سلوک

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button