ARTICLES

دوران طواف پانی پینے کی شرعی حیثیت

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کیا دوران طواف پانی وغیرہ پینا جائز ہے اگر جائز ہے تو کیا نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے ؟

(السائل : محمد ریحان قادری،لبیک حج گروپ،مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔ دوران طواف پانی پینا شرعا جائز ہے ۔ چنانچہ امام احمد رضا حنفی متوفی : 1340ھ لکھتے ہیں : یہ باتیں طواف وسعی دونوں میں مباح ہیں : سلام کرنا، جواب دینا، پانی پینا، حمد ونعت ومنقبت کے اشعار اہستہ پڑھنا، اور سعی میں کھانا کھا سکتا ہے ۔حاجت کے لیے کلام کرنا، فتویٰ پوچھنا، فتویٰ دینا۔(136) دوران طواف پانی پینا نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے ۔ چنانچہ امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی303 ھ اور امام حافظ ابو احمد عبد اللہ بن عدی جرجانی متوفی 365ھ روایت نقل کرتے ہیں :

عن ابی مسعودٍ، قال : عطش النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم حول الکعبۃ فاستسقی، فاتی بنبیذٍ من السقایۃ، فشمہ فقطب، فقال : علی بذنوبٍ من زمزم ، فصب علیہ، ثم شرب، فقال رجل : احرام ہو یا رسول اللہ؟ قال : لا.(137)

یعنی،حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کا چکر لگاتے ہوئے پیاس لگی تو اپ نے پانی طلب فرمایا تو اپ کے پاس ایک مشکیزے میں سے نبیذلایا گیا تواپ نے اسے سونگھا پھر اسے ہٹا کر فرمایا مجھے زمزم سے ایک ڈول (پانی) دو پھر اپ نے اسے اپنے اوپر ڈالا ،پھر نوش فرمایاتو ایک شخص نے کہا کیایہ (یعنی نبیذ)حرام ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ نہیں ‘‘۔ امام حافظ علی بن عمر دار قطنی متوفی385ھ روایت نقل کرتے ہیں :

عن ابی مسعودٍ الانصاری , قال : عطش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حول الکعبۃ فاستسقی فاتی بنبیذٍ من السقایۃ فشمہ ثم قطب،فقال : علی بذنوبٍ من زمزم ، فصبہ علیہ ثم شرب ،فقال رجل : احرام ہو یا رسول اللہ؟ قال : لا۔(138)

یعنی،حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کا چکر لگاتے ہوئے پیاس لگی تو اپ نے پانی طلب فرمایا تو اپ کے پاس ایک مشکیزے میں سے نبیذلایا گیا تواپ نے اسے سونگھا پھر اسے ہٹا کر فرمایا مجھے زمزم سے ایک ڈول(پانی)دو پھر اپ نے اسے اپنے اوپر ڈالا ،پھر اسے نوش فرمایاتو ایک شخص نے کہا کیایہ (یعنی نبیذ)حرام ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ نہیں ‘‘۔ امام ابو بکر احمد بن الحسین بن علی بیہقی متوفی458ھ روایت نقل کرتے ہیں :

ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم شرب ماء ً فی الطواف۔(139)

یعنی،بے شک نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران طواف پانی نوش فرمایا۔ اورعلامہ ابو منصور محمد بن کرم حنفی متوفی 592ھ : لما روی :

ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام ﷺ عطش فی طوافہ فخرج الی زمزم فشرب ثم عاد وبنی علی طوافہ۔(140)

یعنی،اس لئے مروی ہے کہ بے شک نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو طواف کے دوران میں پیاس لگی تواپ زمزم کی جانب تشریف لے گئے اور (اب زمزم )نوش فرمایاپھر لوٹے اور اپنے طواف پر بنا کی۔ اور امام علاء الدین ابی بکر بن مسعود کاسانی حنفی متوفی587ھ ایک حدیث شریف نقل فرماتے ہیں :

وروی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ خرج من الطواف، ودخل السقایۃ فاستسقی فسقی فشرب ثم عاد، وبنی علی طوافہ۔(141)

یعنی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ بے شک اپ طواف سے نکلے اورسقایہ میں تشریف لائے اورپانی طلب فرمایا پھر اسے نوش فرمایااور اپنے طواف پر بنا فرمائی۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الاثنین،1،محرم الحرام 1440ھ۔10 سبتمبر2018م FU-52

حوالہ جات

(136) فتاوی رضویہ،کتاب الحج،جنایات،رسالہ انوار البشارہ فی مسائل الحج والزیارۃ، 10/745

(137) سنن النسائی،کتاب الاشربۃ،باب ذکر الاخبار التی اعتل بھا من اباح شراب السکر، برقم : 5714،7۔8/341

الکامل فی ضعفاء الرجال، 22/592۔خالد بن سعد کوفی مولی ابی مسعود الانصاری، ص : 454

(138) سنن الدار قطنی،کتاب الاشربۃوغیرھا،برقم : 4649

(139) السنن الکبری للبیھقی،کتاب الحج،باب الشرب فی الطواف،برقم : 9297،5/139

(140) المسالک فی المناسک،فصل فی شرائط صحۃ الطواف وما یقع معتداوما لا یقع،1/448

(141) بدائع الصنائع،کتاب الحج،فصل فی شرط طواف الزیارۃ۔۔۔۔۔الخ،3/72۔73

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button