ARTICLESشرعی سوالات

دورانِ طواف چپل وغیرہ پہننے کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ جوتے پہن کر بعض چپل پہن کر مسجد حرام اور مطاف میں پھرتے ہیں اور طواف کرتے ہیں ، شریعت مطہرہ میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

(السائل : محمد عمران، الفتانی حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : دورانِ طواف پاک و صاف جوتے یا موزے پہننے کو فقہاء کرام نے مُباحات میں ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی اِسے بے ادبی شمار کیا ہے جب کہ بلا عذر پہنے اور اگر پاک نہ ہوں تو مکروہ قرار دیا ہے اور بعض فقہائِ احناف نے بلا عُذر مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی مُباحاتِ طواف کے بیان میں لکھتے ہیں :

والطّواف فی نعلٍ أو خُفٍ إذا کانا طاہرَین (132)

یعنی، چپل یا موزے میں طواف (مُباح ہے ) جب کہ وہ پاک ہوں ۔ اور دوسری فصل میں لکھتے ہیں :

و الطّواف متنعلاً ترک الأدب (133)

یعنی، چپل پہن کر طواف کرنا ترکِ ادب ہے ۔ اور مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

لکن فی النّعلین و لو طاہرَین ترک الأدب کما ذکرہ فی ’’البدائع‘‘ إلا أنہ محمول علی حال عدم العذر (134)

یعنی، لیکن چپل پہن کر طواف کرنا اگرچہ پاک ہوں ترکِ ادب ہے جیسا کہ اسے ’’بدائع الصنائع‘‘(135) میں ذکر کیا مگر وہ عُدم عذر کی حالت پر محمول ہے ۔ اور اگر پاک نہ ہوں تو مکروہ ہے چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

و إلا فیکون مکروہ (136)

یعنی، اگر پاک نہ ہوں تو مکروہ ہے ۔ لیکن مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ نے مطلقاً مکروہ لکھا ہے چنانچہ مکروہاتِ طواف کے بیان میں لکھتے ہیں :

طواف کردن بانعل چون بغیر عُذر باشد چہ مکروہ است دخول مع النّعل در مسجد مطلقاً اگرچہ در حالۃ غیر طواف باشد (137)

یعنی، چپل کے ساتھ طواف کرنا مکروہ ہے جب کہ بلا عذر ہو کیونکہ چپل کے ساتھ مسجد میں داخل ہونا مطلقاً مکروہ ہے اگرچہ غیر طواف کی حالت میں ہو۔ مُلّا علی قاری حنفی نے ترکِ ادب کی دلیل بیان کرتے ہوئے لکھا کہ :

أی المستفاد من قولہ تعالیٰ : {فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ} (طٰہٰ : 12) إلا لضرورۃ التّعب (138)

یعنی، ترکِ ادب اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’توتواپنے جوتے اتارڈال‘‘ سے مستفاد ہے مگر کسی ضرورت کی وجہ سے (ہو تو ترکِ ادب نہیں )۔ جب کہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی نے اسی آیت کو مسجد میں مطلقاً چپل پہن کر جانے کی کراہت کی دلیل کے طور پر ذکر کیا چنانچہ لکھتے ہیں :

لقولہ تعالیٰ ’’فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ‘‘ (139)

یعنی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’توتواپنے جوتے اتارڈال‘‘۔ مُلّا علی قاری حنفی نے اسے ترکِ ادب قرار دیتے ہوئے ’’بدائع الصنائع‘‘ کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں ہے اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی نے کراہت کا قول ذکر کرنے کے بعد ’’بدائع الصنائع‘‘ کے حوالے سے ترکِ ادب کے قول کو بھی ذکر کیا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قول اُن کے نزدیک راجح نہیں ہے اور کراہت کے قول کا حوالہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

کذا صرّح بہ فی ’’الفتاویٰ السراجیّۃ‘‘ و غیرہا (140)

یعنی، اسی طرح ’’فتاویٰ سراجیہ‘‘ وغیرہا میں (کراہت کے قول کی) تصریح کی ہے ۔ اور ’’فتاویٰ سراجیہ‘‘ کی عبارت مندرجہ ذیل ہے :

دخول المسجد متنعلاً مکروہ، قال اللّٰہ تعالٰی : {فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ} (141)

یعنی، چپل پہن کر مسجد میں داخل ہونا مکروہ ہے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’توتواپنے جوتے اتارڈال‘‘ بہر حال کراہت کے قول کو ترجیح دینا زیادہ مناسب ہے کہ جوتوں وغیرہا کی پاکی نادر ہوتی ہے جب کہ موزوں کے بارے میں مُلّا علی قاری نے اباحت کا قول کیا ہے اور مخدوم صاحب نے بھی ’’بدائع‘‘ کے حوالے سے اباحت کو ہی ذکر کیا ہے جب کہ پاک ہوں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 8ذی الحجۃ 1428ھ، 17دیسمبر 2007 م (New 21-F)

حوالہ جات

132۔ لُباب المناسک، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی مُباحاتہ، ص118

133۔ لُباب المناسک ، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی مسائل شتی، ص125

134۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب أنواع الأطوفۃ وأحکامھا، فصل : فی مباحات الطواف، تحت قولہ : والطواف فی نعل أو خف اذا…الخ، ص232

135۔ بدائع الصنائع،کتا ب الحج، فصل فی شرط طواف الزیارۃ و واجباتہ،3/75، ذکرہ بغیر لفظہ

136۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب أنواع الأطوفۃ وأحکامھا، فصل : فی مباحات الطواف، تحت قولہ : والطواف فی نعل أو خف اذا…الخ، ص232

137۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم دربیان طواف وانواع آن، فصل ششم دربیان مکروہات طواف، ص153

138۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی مسائل شتی، ص237

139۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم دربیان طواف وانواع آن، فصل ششم در بیان مکروہات طواف، ص153

140۔ حیاۃ القلوب، فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم در بیان طواف وانواع آن، فصل ششم در بیان مکروہات طواف، ص153

141۔ الفتاویٰ السراجیۃ، کتاب الکراہیۃ، باب المسجد، ص71

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button