ARTICLESشرعی سوالات

دورانِ طواف و سعی قصیدہ بُردہ یا حمد و نعت پڑھنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگ کبھی طواف میں قصیدہ بُردہ شریف اور کسی اور زبان میں نعتِ رسول اپڑھتے ہیں اور کچھ لوگ نعت شریف یا قصیدہ بُردہ شریف پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شرع میں دورانِ طواف اشعار پڑھنے کی رخصت مذکور ہے اور اگرمذکور ہے تو برائے مہربانی بیان فرما دیں ۔

(السائل : حافظ محمد جنید بن محمد یوسف، لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : دورانِ طواف و سعی اشعارِ محمودہ پڑھنا شرعاً مُباح ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی اور مُلّا علی قاری مُباحاتِ طواف کے بیان میں لکھتے ہیں :

و إنشاد شعر محمود و کذا إنشاء ہ (84)

یعنی، مُباحاتِ طواف میں سے ہے اچھے شعر پڑھنا اور اسی طرح اچھے شعر کہنا۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ مُباحاتِ طواف میں لکھتے ہیں :

ہم خواندن شعرے کہ مشتمل باشد بر حمد و ثنا وا مثال آن (85)

یعنی، طواف کا نواں مباح ایسا شعر پڑھنا ہے جو حمد و ثناء اور اس کی مثل پر مشتمل ہو۔ اور صدر الشریعہ محمد امجد علی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : یہ باتیں طواف و سعی دونوں میں مباح ہیں … حمد و نعت و منقبت کے اشعار آہستہ پڑھنا۔ (86) اور اچھے اشعار سے مراد وہ اشعار ہیں کہ جن کا پڑھنا شرعاً مُباح قرار دیا گیا ہے جیسے حمد و نعت و منقبت اور پند و نصائح و غیرہا پر مشتمل اشعار۔ اور مذموم اشعار تو ویسے بھی پڑھنا حرام ہے اور حالتِ طواف میں اشد حرام، چنانچہ علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

و المراد بالمحمود ما یُباح فی الشرع و إلّا فما یکون من قبیل الأشعار المستفاد منہا العلوم، فہو داخل فی المستحبات، و الشعر المذموم حرام أو مکروہ مطلقاً و فی الطواف أقبح (87)

یعنی، محمود سے مراد وہ ہے جو شرع میں مُباح ہے مگر وہ اشعار اس قبیل سے ہیں کہ جن سے علوم مستفاد ہوتے ہیں تو وہ مُستحبات میں داخل ہیں اور شعر مذموم حرام ہے یا مطلقاً مکروہ ہے اور طواف میں زیادہ قبیح ہے ۔ اورعلامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی دوسری فصل میں لکھتے ہیں :

و إنشاء شعرٍ یَعریٰ عن حمدٍ و ثنائٍ (88)

یعنی، وہ شعر پڑھنا مکروہ ہے جو حمد و ثناء سے خالی ہو۔ اس کے تحت مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

و فی معناہما ما یخلوا من إفادۃ علم، و موعظۃ، و ترغیب وترہیب (89)

یعنی، اور حمد و ثناء کے معنی میں وہ اشعار جو افادۂ علم، نصیحت اور ترغیب و ترہیب سے خالی ہوں (اُن کا پڑھنا مکروہ ہے )۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

سیوم خواندن شعرے کہ مشتمل نباشد بر حمد و ثناء و افادۂ علم و موعظۃ و ترغیب و ترہیب (90)

یعنی، طواف کا تیسرا مکروہ ایسا شعر پڑھنا ہے جو حمد و ثناء اور افادۂ علم و نصیحت اور ترغیب و ترہیب (نیکی کی رغبت دلانے اور بدی کے ارتکاب سے ڈرانے ) پر مشتمل نہ ہو۔ اور صدر الشریعہ محمد امجد علی لکھتے ہیں : حمد و نعت و منقبت کے سوا کوئی شعر پڑھنا (طواف میں مکروہ ہے )۔ (91) اور یہاں کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہے یعنی وہ اشعار جو مذکورہ بالا اُمور سے خالی ہوں طواف میں اُن کا پڑھنا مکروہ تحریمی ہو گا کہ مندرجہ بالا سطور میں ذکر کردہ مُلّا علی قاری کی عبارت میں ہے :

حرام أو مکروہ

یعنی، حرام یا مکروہ۔ تو حرام سے مراد احرام ظنّی اور مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہے ، اور پھر مطلقاً کراہت کے قول کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا گیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں :

قیل مطلقاً فیحمل علی الکراہۃ التنزیہیۃ لأن الإشتغال بالأذکار و الأدعیۃ أفضل (92)

یعنی، کہا گیا کہ طواف کے دوران مطلقاً شعر پڑھنا مکروہ ہے تو (اس قول کو) کراہت تنزیہیہ پر محمول کیا جائے گا کیونکہ ذکر اور دُعا میں مشغول ہونا افضل ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی لکھتے ہیں :

و در روایتی آمدہ کہ خواند شعر مطلقاً مکروہ است پس حمل کردہ شود روایت را بر ترکِ افضل چہ اشتغال با اذکار و ادعیہ افضل است (93)

یعنی، اور ایک راویت میں آیا ہے کہ شعر پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے پس اس روایت کو ترکِ افضل پر محمول کیا جائے گا کیونکہ دورانِ طواف اذکار اور دعاؤں میں مشغول ہونا افضل ہے ۔ لہٰذا وہ اشعار جو حمد و ثنا، نعت و منقبت، مناجات، افادۂ علمی، پند و نصائح یا ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہوں اُن کا پڑھنا ممنوع نہیں ہے ۔ جب کہ بآوازِ بلند نہ پڑھے ورنہ اس میں تفصیل ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت،28ذی القعدہ 1428ھ، 8دیسمبر 2007 م (New 07-F)

حوالہ جات

84۔ ذکرہ المسالک فی المناسک، باب التّمتّع، فصل فی صفۃ التّمتّع المسنون، 1/659

85۔ امام قاضی ابوالولید محمدبن احمد ابن رشد قرطبی متوفی 595ھ لکھتے ہیں : طوافِ قدوم متمتع کے لئے نہیں ہے ۔ ملخصاً(بدایۃ المجتھد، کتاب الحج، القول فی الطواف بالبیت، والکلام فی الصفۃ،ص315)

86۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب التمتّع، فصل المتمتّع علی نوعین، ص456

82۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب التّمتّع، فصل فی المتمتّع علی نوعین، ص457

83۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب التّمتّع، فصل فی المتمتّع علی نوعین، ص457

84۔ لباب الماسک وشرحہ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی مُباحاتہ، ص233

85۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم دربیانِ طواف، فصل ہفتم در بیانِ مُباحاتِ طواف، ص154

86۔ بہار شریعت، حج کابیان ، طواف و سعی صفا و مروہ و عمرہ کا بیان، مع عنوان یہ باتیں طواف وسعی الخ، 1/1114

87۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی مباحاتہ، ص233

88۔ لُباب المناسک، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی مکروہاتہ، ص119

89۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط،باب أنواع الأطوفہ وأحکامھا، فصل فی مکروھاتہ، تحت قولہ : عن حمدوثناء،ص233۔234

90۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم، فصل ششم، ص151

91۔ بہار شریعت، حج کابیان، طواف وسعی ومروہ و عمرہ کابیان، طواف میں یہ15 باتیں مکروہ ہیں ، 1/1113

92۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی مکروہاتہ، ص234

93۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم دربیانِ طواف و انواعِ آن، فصل ششم در بیان مکروہات طواف، ص152

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button