دیدار باری تعالی
مشہور

اپنے لئے دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدارکا دعوی کرنے والے  کا حکم:

جو دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدار کے وقوع کا دعوی کرے، وہ گمراہ و بد دین اور مذہب اہل سنت سے خارج ہے، لیکن کافر نہیں

اپنے لئے دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدارکا دعوی کرنے والے  کا حکم:

  1. اگر کوئی شخص اپنے یا کسی بھی دوسرے شخص کے لئے، چاہے وہ شخص بظاہر کتنا ہی ولی یا مقرب معلوم ہوتا ہو،   دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدار کے وقوع کا دعوی کرے، وہ گمراہ و بد دین اور مذہب اہل سنت سے خارج ہے اور یہ حکم بھی احتیاطاً ہے ورنہ بعض علما کے نزدیک تو ایسا شخص کافر ہو جاتا ہے۔
  2. اگر کوئی شخص اپنے یا کسی بھی دوسرے شخص کے لئے، چاہے وہ شخص بظاہر کتنا ہی ولی یا مقرب معلوم ہوتا ہو، دنیا میں جاگتی آنکھوں سے ذات باری تعالی کے دیدار کے وقوع اور اللہ تعالی کے مجسم ہونے کا دعوی کرے ، وہ بھی  گمراہ و بد دین اور مذہب اہل سنت سے خارج ہے۔
  3. اگر کوئی شخص اپنے یا کسی بھی دوسرے شخص کے لئے، چاہے وہ شخص بظاہر کتنا ہی ولی یا مقرب معلوم ہوتا ہو، دنیا میں جاگتی آنکھوں سے ذات باری تعالی کے دیدار کے وقوع اور اللہ تعالی کے مجسم ہونے کا دعوی کرے اور ساتھ اللہ تعالی کے لئے  لوازم تجسیم یعنی حدوث کا بھی اقرار کرے ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

اس میں تفصیل یہ ہے کہ مبحوث عنہ عقیدے (اپنے یا کسی بھی دوسرے ولی کے لئے دنیا میں جاگتی آنکھوں سے ذات باری تعالی کے دیدار کے عدم  وقوع) کے متعلق مجموعی طور پر علما کے تین اقوال ہیں:

  • ایک ضعیف قول یہ ہے کہ اس عقیدے کا منکر فقط فاسق ہو گا۔
  • بعض علما کے نزدیک اس عقیدے کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
  • جمہور علما کا قول یہ ہے کہ اس عقیدے کا منکر گمراہ ہو جاتا ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ  شریعت مطہرہ کے تمام  عقائد و مسائل کا حکم یکساں نہیں ہوتا بلکہ ان   کے ثبوت کے دلائل مختلف ہونے کے باعث ان کے انکار کرنے والے کے احکامات بھی مختلف ہوتے ہیں۔  بعض عقائد  ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں ”ضروریات دین“ کا نام دیا جاتا ہے۔ ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع  قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہے جن میں  شبہ یا تاویل کی بالکل گنجائش نہ ہو۔ اور اس کے منکر کا حکم یہ ہوتا ہے کہ ایسے قوی ،  واضح اور قطعی بمعنی اخص  دلائل کے انکار کی وجہ سے وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ؛ اور بعض عقائد کو ”ضروریات مذہب اہل سنت“ کا نام دیا جاتا ہے۔   ان کے ثبوت کے لئے بھی  قطعی  بمعنی اعم دلائل کی حاجت ہوتی ہے اور ان دلائل میں ایسا کوئی احتمال اور  تاویل بھی نہیں پائی جا تی جس کی بنیاد کسی دلیل پر ہو  لیکن   ان دلائل میں بغیر دلیل کے تاویل کی  گنجائش بہرحال ہوتی ہے۔ اس کے منکر کا حکم یہ ہوتا ہے کہ ایسے قطعی بمعنی اعم  دلائل کے انکار کی وجہ سے اسے گمراہ و بد دین تو قرار دیا جائے گا لیکن نفس احتمال ، اگرچہ وہ احتمال نہایت ضعیف اور  بلا دلیل ہی کیوں نہ ہو، اس  کی وجہ سے احتیاطاً  اسے کافر نہیں کہا جائے گا اور مذکورہ بالا عقیدے کے دلائل کی طرف نظر کرنے سے  یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ عقیدہ بھی ”ضروریات اہل سنت“  کے قبیل سے ہے لہذا اس کا منکر گمراہ و بد دین تو کہلائے گا ، اس کے ساتھ سوشل بائیکاٹ (Social Boycott) بھی کیا جائے گا  اور قاضی شرع  اسے تعزیراً  ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ اور جلا وطنی(ملک بدر کرنا) وغیرہ  کے ذریعے سخت سزا بھی دے گا لیکن بہرحال   اس شخص کی التزاماً  (یعنی معینہ طور پر)تکفیر نہیں کی جائے گی۔  کیونکہ:

  1. اس کے اثبات کے دلائل ایسے قطعی نہیں ہیں کہ  ان میں  شبہ یا تاویل کی بالکل گنجائش نہ ہو بلکہ ان نصوص میں احتمالِ تاویل موجود ہیں ؛ مثلاً پہلی حدیث ” تعلموا أنه لن يرى أحد منكم ربه عز وجل حتى يموت “ اور دوسری حدیث ” الموت قبل لقاء الله “ میں منکرین یہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں لفظ ”موت“ سے مجازاً مقام فنا مراد ہے لہذا اس حدیث کا معنی یہ ہے  کہ مقام فنا تک پہنچنے سے پہلے عارف اللہ تعالی کو نہیں دیکھ سکتا لیکن  جب عارف تحقیق کے بعد مقام فنا  تک پہنچ جائے تو گویا اس کی موت واقع ہو گئی ، پھر وہ دنیا میں ہی دیدار کر سکتا ہے۔    لیکن یہ تاویل فاسد ہے کہ بلا وجہ حقیقت کو چھوڑ کر مجاز مراد لیا گیا ہے جبکہ کلام میں اصل حقیقت ہے اور بلا وجہ حقیقت کو چھوڑ کر مجاز مراد لینا جائز نہیں ہے۔

تیسری حدیث ” قال: ما الإحسان؟ قال: أن تعبد الله كأنك تراه ، فإن لم تكن تراه  فانہ یراک“ میں یہ تاویل کرتے ہیں کہ حدیث میں  ”لم نافیہ “ کا تعلق لفظ ”تکن“ کے ساتھ  ہے اور”لم تکن “ سے مقام محو و فنا مراد ہے  لہذا حدیث کا معنی یہ بنے گا کہ اگر تو اپنے آپ  کو فنا کر دے حتی کہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ گویا کہ تو موجود ہی نہیں ہے تو پھر تو اللہ تعالی کو دیکھ سکتا ہے۔     لیکن یہ تاویل بھی  نہایت کمزور اور فاسد ہے  کہ  ایک تو یہ دلالۃ النص کے خلاف ہے اور پھر  اسی حدیث مبارک کے دیگر  راویوں کے بیان کردہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ”لم نافیہ “ کا تعلق لفظ ”تکن“ کے ساتھ نہیں   بلکہ ”تراہ“ کے ساتھ ہے مثلاً کھمس کی روایت کے الفاظ ہیں: ” فإنك أن لا تراه “       یہاں واضح طور پر ”لا نافیہ“ رؤیت کی نفی کے لئے آیا ہے؛ اسی طرح ابو فروہ کی روایت کے الفاظ ہیں: ” فإن لم تراه “ یہاں  لفظ ”تکن“ ہی نہیں ہے جس سے بھی واضح طور پر پتا چلتا ہے کہ  ”لم نافیہ “ کا تعلق ”تراہ“  کے ساتھ ہے۔

اگرچہ یہ تمام احتمالات اتنے کمزور اور فاسد ہیں کہ وہ کسی بھی دلیل سے ناشی نہیں ہیں  لیکن پھر بھی نفس احتمال موجود ہونے کے باعث  یہ عقیدہ ”ضروریات  دین“ کی بجائے ”ضروریات اہل سنت“ کے قبیل سے ہو گا۔  یہی وجہ ہے کہ علما فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسئلہ میں  ننانوے احتمالات  کفر کے ہوں اور کوئی ایک احتمال عدم کفر کا ہو تو اس ایک احتمال کا اعتبار کر لیا جائے گا اور تکفیر کا   حکم نہیں لگایا جائے گا۔

  1. اس کی ایک نظیر  ”آخرت میں مومنین کے لئے جاگتی آنکھوں سے  دیدار باری تعالی کے وقوع“  کا عقیدہ بھی ہے جس کا ثبوت اس سے قوی دلائل یعنی قرآن پاک کی کئی آیات اور احادیث  متواترہ سے ہے، لیکن علما متکلمین نفس احتمال کے موجود ہونے اور منکرین کے تاویل کرنے کے باعث ان کی تکفیر نہیں کرتے بلکہ تضلیل کا حکم لگاتے ہیں (جیسا کہ اوپر گزرا) تو اس عقیدے کے منکر پر بھی بدرجہ اولی تکفیر کی بجائے تضلیل(گمراہی) کا  حکم ہی  ہو گا۔
  2. جمہور علما متکلمین اور صوفیا معتبرین نے ایسے شخص کے ”گمراہ“   ہونے پر مشائخ کا اتفاق نقل فرمایا ہے۔
  3. کئی علما نے ایسے شخص کی عدم تکفیر کی صراحت فرمائی ہے۔
  4. جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ ایسے شخص کی تکفیر میں اختلاف ہے تو اس سے بھی  عدم تکفیر کے پہلو کو ترجیح حاصل ہو گئی کہ محتاط محققین علما کے مطابق قاعدہ یہ ہے کہ  جب تک تکفیر پر اجماع نہ ہو جائے اس وقت تک کسی شخص کے کفر کا فتوی نہیں دیا جا سکتا۔
  5. یہی موقف سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ  کے عمل مبارک کے بھی موافق ہے کہ  جب آپ کے پاس ایسا دعوی کرنے والا فقیر لایا گیا  تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے زجر اور  ایسا کہنے سے منع تو فرما دیا۔ لیکن اس کی تکفیر نہیں فرمائی۔

اسی طرح ” اللہ تعالی کے جسم سے پاک  ہونے “ کا عقیدہ بھی ”ضروریات اہل سنت“ کے قبیل سے ہے لہذا  جو شخص رؤیت باری تعالی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی  کے لئے جسم  بھی  ثابت کرے، وہ بھی گمراہ ہی ہے۔

البتہ ”اللہ تعالی کے لئے لوازم تجسیم  یعنی حدوث وغیرہ سے پاک ہونے “  کا عقیدہ ”ضروریات دین“ کے قبیل سے ہے لہذا جو شخص رؤیت باری تعالی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی  کے لئے تجسیم  اور لوازم تجسیم   بھی  ثابت کرے  وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

  تکفیر و تضلیل کے موقف کے درمیان تطبیق کی صورت:

جن بعض علما کرام نے ” اولیا یا عوام کے لئے    دنیا میں جاگتی آنکھوں سے ذات باری تعالی کے دیدار کے اثبات  “ کرنے والے کی تکفیر فرمائی،   ان کے موقف میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ان کی تکفیر کو مندرجہ بالا آخری صورت یعنی ” رؤیت باری تعالی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی  کے لئے تجسیم  اور لوازم تجسیم کا اثبات کرنے والے“ پر محمول کیا جائے۔ جیسا کہ امام اردبیلی رحمہ اللہ (وفات: 779ھ)  نے اپنی کتب الانوار لاعمال الابرار میں دنیا میں  رؤیت باری تعالی  کا دعوی کرنے والے پر مطلق حکم کفر بیان کیا  تو علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ  (وفات: 974ھ) نے  اس  پر تنبیہ فرمائی کہ یہ عبارت مقید ہے اور  ”رؤیت کے ساتھ اللہ تعالی کے لئے تجسیم و  لوازم تجسیم کا اثبات کرنے والے“ پر محمول ہے۔

دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدار کا دعوی کرنے والے  کے متعلق علما کے اقوال:

امام صاوی مالکی رحمہ اللہ (وفات: 1241ھ) شرح جوھرۃ التوحید میں فرماتے ہیں: ”فمن ادعی رویۃ اللہ یقظۃ بعینی بصرہ فھو ضال مضل ، قیل : فاسق، وقیل مرتد“    ترجمہ: جو جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کی رؤیت کا دعوی کرے وہ گمراہ و گمراہ گر ہے ۔ ایک ضعیف قول یہ ہے کہ وہ فقط فاسق ہےا ور ایک قول یہ ہے کہ وہ مرتد ہے۔([1])

امام اردبیلی رحمہ اللہ علیہ (وفات: 779ھ) اپنی کتاب الانوار لاعمال الابرار  میں فرماتے ہیں: ’’ ولو قال انی اری اللہ تعالیٰ عیانا فی الدنیا و یکلمنی شفاھا کفر‘‘ ترجمہ: جو یہ کہے کہ میں نے اللہ عزوجل کو جاگتی آنکھوں سے دنیا میں دیکھا اور  میں نے اللہ عزوجل سے آمنے سامنے کلام کیا تو اس نے کفر کیا۔([2])

بہار شریعت میں ہے: ”دنیا میں بیداری میں اﷲ عزوجل کے دیدار یا کلامِ حقیقی سے مشرف ہونا، اِس کا جو اپنے یا کسی ولی کے لیے دعویٰ کرے، کافر ہے۔“([3])

کنز الفوائد شرح بحر العقائد اور اتحاف المرید شرح جوھرۃ التوحید میں ہے: واللفظ للاول ” من ادعاھا من العوام فھو مبتدع ضال باطباق المشائخ  بل ذھب الکواشی و المھدوی الی تکفیرہ و ھذا فی الیقظۃ “ ترجمہ:  عوام میں سے جو اس کا دعوی کرے وہ جمہور  مشائخ کے نزدیک   بدعتی اور گمراہ ہے بلکہ علامہ کواشی اور علامہ مہدوی اس کی تکفیر کی طرف گئے ہیں، اور یہ حکم جاگتی آنکھوں کے متعلق ہے۔          ([4])

مولانا بحر اعلوم عبد العلی لکھنوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” و اما در رؤیت  غیر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم در یقظہ منع کردند جمہور اہل سنت و جماعت باتفاق۔۔  حتی کہ بعضے  گفتند  ہر کہ دعوی رؤیت  در یقظہ باشد  کافر است نعوذ باللہ من ذلک “ ترجمہ: جمہور اہل سنت و جماعت بالاتفاق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علاوہ   کسی اور کے لئے جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدار کی نفی کرتے ہیں حتی کہ بعض علما نے فرمایا کہ جو بھی جاگتی آنکھوں سے نعوذ باللہ من ذالک اللہ تعالی کی رؤیت کا دعوی کرے گا وہ کافر ہو جائے گا۔([5])

ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت:

فتاوی رضویہ  میں ہے :” مانی ہوئی باتیں چار (4) قسم ہوتی ہیں:(1)ضروریات دین: ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع  قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہے جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ، اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔ (2)ضروریات مذہب اہلسنت: ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوعِ شبہہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے ۔ اسی لیے ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ ، بد مذہب ، بددین کہلاتا ہے۔ “([6])    

اسی میں ہے: ” علم قطعی دو معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ احدھما:  قطع الاحتمال علی وجہ الاستیصال بحیث لایبقی منہ خبر ولا اثروھذاھو الاخص الاعلٰی کما فی المحکم والمتواتر وھو المطلوب فی اصول الدین فلا یکتفی فیہا بالنص المشہور ۔ والثانی : ان لایکون ھناک احتمال ناش من دلیل وان کان نفس الاحتمال باقیاً  التجوز و التخصیص وسائر انحاء التاویل کما فی الظواھر والنصوص والاحادیث المشہورۃ والاول یسمی علم الیقین و مخالفہ کافر علی الاختلاف فی الاطلاق کما ھو مذہب فقہاء الاٰفاق ، والتخصیص بضروریات الدین ما ھو مشرب العلماء المتکلمین ۔ و الثانی علم الطمانیۃ ومخالفہ مبتدع ضال ولا مجال الی اکفارہ کمسئلۃ وزن الاعمال یوم القیمۃ   “ ملخصاً   ترجمہ: ایک تو یہ کہ احتمال جڑ سے منقطع ہو جائے بایں طور کہ اس کی کوئی خبر یا اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔ اور یہ اخص اعلٰی ہے جیسا کہ محکم اور متواتر میں ہوتا ہے۔ اور اصولِ دین میں یہی مطلوب ہے۔ تو اس میں نصِ مشہور پر کفایت نہیں ہوتی۔  دوسرا : یہ کہ اس جگہ ایسا احتمال نہ ہو جو دلیل سے ناشی ہو اگرچہ نفس احتمال باقی ہو۔ جیسے کہ مجاز اور تخصیص ۔ اور باقی وجوہِ تاویل ۔ جیسا کہ ظواہر اور نصوص اور احادیث مشہورہ میں ہے۔ اور پہلی قسم کا نام علم یقین ہے اور اس کا مخالف کافر ہے علماء میں اختلاف کے بموجب مطلقاً ۔ جیسا کہ فقہائے آفاق کا مذہب ہے یا ضروریات دین کی قید کے ساتھ یہ حکم مخصوص ہے جیسا کہ علمائے متکلمین کا مشرب ہے اور دوسرے کا نام علم طمانیت ہے اور اس کا مخالف بدعتی و گمراہ ہے اور اس کو کافر کہنے کی مجال نہیں۔ جیسے کہ قیامت کے دن اعمال کو تولنے کا مسئلہ۔(ت) “([7])

گمراہ شخص کو تعزیر کرنا:

ملا علی القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”فان کان مصما علی مقولہ ولم یرجع بالمنقول عن معقولہ فیجب تعزیرہ و تشھیرہ بما یراہ الحاکم الشرعی“ ترجمہ: اگر ایسا دعوی کرنے والا اپنے قول پر اصرار کرے اور معقول سے منقول کی طرف رجوع نہ کرے تو حاکم کا اپنی رائے کے مطابق  اس کو تعزیر کرنا اور اس کی تشہیر کرنا  واجب ہے ۔  ([8])

فتاوی رضویہ میں ہے : ” والصواب (عند المحقّقین) ترک اکفار ھم لکن یغلّظ علیھم بوجیع الادب، وشدید الزجروالھجر، حتی یرجعوا عن بدعھم ____ وھٰذہ کانت سیرۃ الصدر الاوّل (من الصحابۃ والتابعین ومن قرب منھم) فیھم ، ماازاحوالھم قبراً، ولا قطعوا لھم میراثا، لکنّھم ھجروھم وادّبوھم بالضرب والنہ القتل علٰی قدراحوالھم، لانھم فساق ضُلاّل(اھل بدع)“ ترجمہ:  (محققین کے نزدیک) درست یہ ہے ان (اہل تاویل) کی تکفیر نہ کی جائے لیکن مار پیٹ، سخت ڈانٹ ڈپٹ اور بائیکاٹ کے ذریعے ان کو سزا دی جائے یہاں تک کہ وہ اپنی بدعتوں سے رجوع کر لیں۔ یہ طریقہ ان کے بارے میں صدر اول (عہد صحابہ و تابعین وتبع تابعین) میں تھا۔ صدر اوّل کے مسلمانوں نے اہل تاویل کو نہ تو قبروں سے محروم کیا اور نہ ہی میراث سے منقطع کیا لیکن ان سے قطع تعلق کیا اور ان کے حالات کے مطابق مار پیٹ، جلاوطنی اور قتل کے ذریعے انہیں سزائیں دیں کیونکہ وہ فاسق ، گمراہ اور اہل بدعت ہیں۔ (ت) ([9])

دلائل  میں احتمال  اور ان کے رد پر جزئیات:

لفظ موت کے مجازی معنی پر ہونے کے متعلق کنز الفوائد میں ہے: ”وھذا لا ینافی الحدیث السابق وانکم لم تروا ربکم حتی تموتوا علی القول لان العارف لا یراہ الا بعد التحقیق بمقام فناہ  و ذلک موت عند من تعرف ایاہ“ ترجمہ: یہ ان کے مطابق حدیث سابق ” وانکم لم تروا ربکم حتی تموتوا “کے منافی نہیں ہے  کیونکہ عارف اللہ تعالی کو مقام فنا  پر پہنچنے کے بعد ہی دیکھتا ہے اور یہ عارف   باللہ کے ہاں موت ہے۔([10])

حدیث جبریل میں ”لم تکن “ سے مقام محو و فنا مراد ہونے  کے متعلق عمدۃ القاری میں ہے: ” وقد ادعى بعض غلات الصوفية جواز رؤية الله تعالى بالأبصار في دار الدنيا وقال في قوله ” فإن لم تكن تراه ” إشارة إلى مقام المحو والفناء وتقديره فإن لم تصر شيئا وفنيت عن نفسك حتى كأنك ليس بموجود فإنك حينئذ تراه“ ترجمہ: بعض غالی صوفیا  کا دعوی ہے کہ دنیا میں جاگتی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالی کی رؤیت ہو سکتی ہے اور ” فإن لم تكن تراه “ میں مقام محو فنا کی طرف اشارہ ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تو کوئی شئے نہیں رہے گا اور اپنے آپ کو فنا کر لے گا حتی کہ ایسا ہو جائے جیسے کہ تو موجود ہی نہیں ہے تو پھر تو اللہ تعالی کو دیکھ سکتا ہے۔([11])

بلا ضرورت حقیقت کو چھوڑ کر مجاز مراد لینے کے متعلق  فتاوی رضویہ میں ہے: ” والاصل الحقیقۃ والعدول الی المجاز من دون ضرورۃ غیر مجاز “ ترجمہ:  حقیقت اصل ہے۔ اور بغیر کسی ضرورت (حقیقت چھوڑ کر) مجاز کی طرف جانا جائز نہیں۔“([12])    

الميسر في شرح مصابيح السنة میں علامہ شہاب الدین التوربشتی رحمہ اللہ (وفات: 661ھ) لکھتے ہیں: ” لقد وجدت في المتأخرين زماناً ومنزلة ممن أفضى به جهله بأصول الدين وعلوم الشريعة إلى القول بإثبات رؤية الله تعالى للأولياء وخواص المؤمنين في هذه الدار الفانية من يظن أن له متمسكا في قوله – صلى الله عليه وسلم – (فإن لم تكن تراه فإنه يراك) وهذا قول زائغ ومذهب باطل لعدم التوقيف في جوازه ودلالة النص على خلافه “ترجمہ : مجھے معلوم ہوا کہ بعض کم علم اخلاف  جنہیں اصول دین اور علوم شرعیہ کی جہالت نے انہیں اولیا اور خواص مومنین کے لئے  اس دنیا میں اللہ تعالی کی رؤیت کے اثبات کے قول پر مجبور کیا  اور اپنے گمان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس حدیث مبارک ” فإن لم تكن تراه فإنه يراك “ سے استدلال کیا ۔ حالانکہ یہ ایک فاسد قول اور باطل مذہب ہے کیونکہ اس کے جواز میں کوئی شرعی دلیل نہیں ہے اور دلالۃ النص اس کے خلاف ہے ۔    ([13])

مذکورہ بالا تاویل کے غیر معتبر اور فاسد ہونے کو بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ (وفات: 855ھ) لکھتے ہیں:” قلت: هذا تأويل فاسد بدليل رواية كهمس فإن لفظها ” فإنك أن لا تراه فإنه يراك ” فسلط النفي على الرؤية لا على الكون وكذلك يبطل تأويلهم رواية أبي فروة : فإن لم تراه فإنه يراك “ ترجمہ:  میں کہتا ہوں : یہ تاویل کہمس کی روایت کی بنیاد پر  فاسد ہے کیونکہ اس کے الفاظ ہیں:” فإنك أن لا تراه فإنه يراك “ یہاں نفی  ”کون“ کی بجائے ”رؤیت“ پر وارد ہے۔ اسی طرح ابو فروہ کی روایت سے بھی ان کی تاویل باطل ہو جاتی ہے  کیونکہ اس میں الفاظ ہیں: ” فإن لم تراه فإنه يراك “([14])

عدم تکفیر کے لئے ضعیف پہلو کی بھی رعایت کی جائے گی:

منح الروض الازھر میں سوال ہوا؟ ھل یجوز رؤیۃ اللہ تعالی فی الدنیا بعین  البصر للاولیاء؟ اس کے جواب میں ملا علی القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لکن الاقدام علی التکفیر بمجرد  دعوی الرویۃ من الصعب الخطیر، فان الخطاء فی ابقاء الف کافر اھون من الخطاء فی افناء مسلم فی الفرض و التقدیر “  ترجمہ: لیکن فقط رؤیت کے دعوے پر ہی تکفیر کا اقدام بہت مشکل ہے کیونکہ ہزار کافروں کو مسلمان قرار دینے  کی غلطی ایک مسلمان کو   فرضی بنیاد پر کافر قرار دینے سے زیادہ آسان ہے۔([15])

فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت رحمہ اللہ التزام کفر کی احتیاط بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ” حتی ان المسئلۃ ان کانت لہا وجھۃ الی الاسلام وتسع وتسعون  وجھۃ الی الکفر فعلی المفتی ان یمیل الی الوجہۃ الاولی ، فانّ الاسلام یَعلو ولا یُعلٰی  و ان کان ھذا لاینفع القائل عند اﷲ تعالٰی ان کان اراد وجہۃً اُخرٰی “ ترجمہ:  اگر کسی مسئلہ میں ایک جہت اسلام کی اور ننانویں جہتیں کفر کی نکلتی ہوں تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ پہلی جہت کی طرف میلان کرے کیونکہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا اگرچہ یہ قائل کے لیے عنداﷲ نافع نہیں اگر اس نے دوسری جہت یعنی جہتِ کفر کا ارادہ کیا ہے۔  ([16])

اہل سنت کے نزدیک معتزلہ کافر نہیں ہیں:

فتاوی رضویہ میں ہے:” لا نقول بالکفار المعتزلۃ والروافض اولالین الماؤلین “ترجمہ: ہم تاویل کرنے والے گزشتہ  معتزلہ اور روافض کی تکفیر نہیں کرتے ۔ “([17])

دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدار  کا دعوی کرنے والے کے ”گمراہ“   ہونے پر مشائخ کا اتفاق :

کنز الفوائد شرح بحر العقائد اور اتحاف المرید شرح جوھرۃ التوحید میں ہے: واللفظ للاول ” بل من ادعاھا من العوام فھو مبتدع ضال باطباق المشائخ  “ ترجمہ:  بلکہ عوام میں سے جو بھی اس کا دعوی کرے گا وہ جمہور مشائخ کے نزدیک گمراہ ہو جائے گا۔ ([18])

منح الروض الازھر میں سوال ہوا؟ ھل یجوز رؤیۃ اللہ تعالی فی الدنیا بعین  البصر للاولیاء؟ اس کے جواب میں ملا علی القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” القائل بانی اری اللہ تعالی فی الدنیا بعین  بصریۃ ، ان اراد بھا حال الیقظۃ، من ادعی ھذا المعنی لنفسہ من غیر تاویل فی المبنی فھو اعتقاد فاسد و زعم الکاسد، وفی حضیض ضلالۃ و تضلیل“ ملخصاً ترجمہ:” میں نے  اللہ تعالی کا دنیا میں سر کی آنکھوں کے ساتھ دیدار کیا۔ “یہ دعوی کرنے  والا   اگر اس سے  جاگتی حالت مراد لیتا ہے اور بغیر تاویل کے اپنے لیے اسے ثابت کرتا ہے تو یہ فاسد اعتقاد اور  گھٹیا سوچ ہے اور اس کی پشت پر  گمراہی  و گمراہ گری ہے۔([19])

صوفیاء کے نزدیک بھی ایسا شخص گمراہ ہے:

التعرف لمذهب أهل التصوف میں ہے: ” وقد أطبق المشايخ كلهم على تضليل من قال ذلك وتكذيب من ادعاه وصنفوا في ذلك كتبا منهم أبو سعيد الخراز وللجنيد في تكذيب من ادعاه وتضليله رسائل وكلام كثير وزعموا أن من ادعى ذلك فلم يعرف الله عز وجل “ ترجمہ: تمام مشائخ ایسا دعوی کرنے والے کی گمراہی اور اس کے دعوے کی تکذیب و تردید پر متفق ہیں اور ان مشائخ مثلاً ابو سعید الخزار اور جنید بغدادی رحمہما اللہ  نے ایسا دعوہ کرنے والے کی تکذیب و تضلیل پر مستقل کتابیں لکھی ہیں اور طویل کلام فرمایا ہے۔  اور ان  مشائخ کے مطابق جس نے ایسا دعوی کیا وہ اللہ تعالی کی معرفت سے نابلد ہے۔([20])

کفر التزامی نہ کرنے  کی تصریحات:

فتاوی حدیثیۃ میں امام ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (وفات: 974ھ) فرماتے ہیں: ” وأما من اعتقد رؤية عين منزهة عن انضمام ذلك إليها فلا يظهر الحكم بكفره بمجرد ذلك، لأن المنقول المعتمد عندنا عدم كفر الجهوية والمجسمة إلا إن اعتقدوا الحدوث أو ما يستلزمه، ولا نظر إلى لازم مذهبهم لأن الأصح في الأصول أن لازم المذهب ليس بمذهب، لجواز أن يعتقد الملزوم دون اللازم ۔۔۔ وإذا تقرر هذا في الجهوية والمجسمة فكذا يقال به في زاعم رؤية العين “ ترجمہ: جو سر کی انکھوں سے لوازمات تجسیم سے  پاک اللہ تعالی کی رؤیت کا اعتقاد رکھتا ہو ، اس پر فقط اس دعوے سے حکم کفر نہیں ہو گا کیونکہ ہمارے نزدیک منقول و معتمد قول  جہویہ و مجسمہ کی عدم تکفیر کا ہے، الا یہ کہ وہ حدوث یا اس کے لوازمات کا اعتقاد رکھیں اور ان کے لازم مذہب کو نہیں دیکھا جائے گا کیونکہ اصح  اصول یہ ہے کہ لازم مذہب، مذہب نہیں ہوتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ  کوئی ملزوم کا اعتقاد رکھتا ہو لیکن لازم کا اعتقاد نہ رکھتا ہو۔ جب یہ جہویہ و مجسمہ کے متعلق طے ہے تو رؤیت باری تعالی کا اعتقاد رکھنے والے کے لئے بھی یہی کہا جائے گا۔([21])

ملا علی القاری رحمہ اللہ (وفات: 1014ھ) فرماتے ہیں: ”لکن الاقدام علی التکفیر بمجرد  دعوی الرویۃ من الصعب الخطیر، فان الخطاء فی ایقاء الف کافر اھون من الخطاء فی افناء مسلم فی الفرض و التقدیر، فالصواب ما قدمناہ من الجواب انہ انضم مع الدعوی ما یخرج بہ عن عقیدۃ اھل التقی فیحکم علیہ بانہ من اھل الضلالۃ و الردی “  ترجمہ: لیکن فقط رؤیت کے دعوے پر ہی تکفیر کا اقدام بہت مشکل ہے کیونکہ ہزار کافروں کو مسلمان قرار دینے  کی غلطی ایک مسلمان کو   فرضی بنیاد پر کافر قرار دینے سے زیادہ آسان ہے۔ لہذا درست قول وہی ہے جو ہم نے ماقبل جواب میں کہا کہ اگر وہ اپنے دعوے میں  اس بات کو بھی شامل کرے جس کی وجہ سے وہ متقی لوگوں کے عقیدے سے خارج ہو جائے (یعنی ذات باری تعالی کی رؤیت کا  دعوی کرے) تو اس پر گمراہ  اور بد عقیدہ  لوگوں میں سے ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔([22])

الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ میں علامہ عبد الغنی النابلسی رحمہ اللہ (وفات: 1143ھ)  اس عقیدے کے منکر کے متعلق مختلف اقوال بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”و الحاصل ان الاحتیاط فی عدم الکفر لمدعی  ذلک خصوصاً  و المسئلۃ اذا کان فیھا خلاف لا یفتی بالتکفیر فیھا کما قدمناہ ولکن الکذب و الفسق و الضلال ثابت لہ“ ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ خصوصاً ایسا دعوی کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے میں ہی احتیاط ہے کیونکہ جب کسی مسئلے میں اختلاف ہو تو اس میں (التزاماً)تکفیر پر فتوی نہیں دیا جاتا۔ ہاں! ایسا دعوی کرنے کی وجہ سے اس پر جھوٹ، فسق و فجور اور گمراہی تو ثابت ہو ہی جائے گی۔([23])      

کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو تکفیر نہیں کی جائے گی:

الدر المختار میں علامہ حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” لا یفتی بالکفر بشیئ منھا الا فیما اتفق المشائخ علیہ “ ترجمہ: فقط انہی باتوں پر حکم کفر لگایا جائے گا جس کے کفر پر مشائخ کا اتفاق ہو۔([24])

ردالمحتار میں ہے : قال الخیرالرملی اقول ولوکانت الروایۃ لغیراھل مذھبنا ویدل علٰی ذلک اشتراط کون مایوجب الکفر مجمعاً علیہ“ ترجمہ: علامہ خیرالدین رملی رحمہ اللہ نے فرمایا اگرچہ وہ روایت دوسرے مذہب مثلاً شافعیہ یا مالکیہ کی ہو اس لیے کہ تکفیر کے لیے اس بات کے کفر ہونے پر اجماع شرط ہے۔([25])

فتاوی رضویہ میں ہے: ” محققین محتاط تارکین تفریط وافراط باآنکہ سچے دل سے حنفی مقلد اور ان مشائخ کرام سے خادم و معتقد ہیں۔ زینہار ان پر فتوٰی نہیں دیتے اور حتی الامکان تکفیر سے احتراز رکھتے بلکہ صاف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روایت ضعیفہ اگر چہ دوسرے ہی مذہب کی دربارہ اسلام مل جائے گی اسی پر عمل کریں گے، اور جب تک تکفیر پر اجماع نہ ہولے کافر نہ کہیں گے۔“([26])

دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کے دیدار کا دعوی کرنے والے سے غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا عمل مبارک:

الیواقیت و الجواھر، المعتقد المنتقد وغیرہ کئی کتب  میں ہے: و اللفظ للاخر”اتی سلطان العارفین سیدنا عبد القادر الجیلانی بفقیر یزعم انہ  یری اللہ بعینہ فقال : احق ما قیل فیک؟ فاعترف، فزجرہ وھددہ ان فاہ بذلک، ثم قال لحاضریہ: ھو محق فی قولہ ملبس بہ“ ترجمہ: سلطان العارفین سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک فقیر آیا  جس کا گمان تھا کہ اس نے اللہ تعالی کو سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے دریافت فرمایا: کیا جو تیرے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ سچ ہے؟ اس نے اعتراف کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے زجر فرمایا اور ایسا کہنے سے منع فرما دیا۔ پھر حاضرین سے فرمایا: یہ اپنے قول میں حق پر ہے لیکن اس نے اسے خلط ملط کر دیا ہے۔([27])

اللہ تعالی کے لئے تجسیم اور لوازم تجسیم ثابت کرنے والے کا حکم:

فتاوی حدیثیۃ میں ہے: ” قلنا: لو صرح باعتقاد لازم الجسمية كان كافرا“ ترجمہ:  ہم کہتے ہیں : اگر کوئی لوازم تجسیم  کے اعتقاد کی صراحت کرتا ہے  تو وہ کافر ہے۔         ([28])

فتاوی رضویہ میں ہے: ” اب جو یہ کہے کہ جیسے ہمارے ہاتھ آنکھ ہیں ایسے ہی جسم کے ٹکڑے اﷲ عزوجل کے لیے ہیں وہ قطعاً کافر ہے اﷲ عزوجل کا ایسے ید و عین سے پاک ہونا ضروریات دین سے ہے،  اور جو کہے کہ اس کے ید و عین بھی ہیں تو جسم ہی مگر نہ مثل اجسام،  بلکہ  مشابہت  اجسام سے پاک و منزہ ہیں وہ گمراہ بد دین کہ اﷲ عزوجل کا جسم و جسمانیات سے مطلقاً پاک و منزہ ہونا ضروریات عقائد اہلسنت و جماعت سے ہے۔“([29])

جزئیات کے درمیان تطبیق:

فتاوی حدیثیہ میں امام ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (وفات: 974ھ)  امام اردبیلی رحمہ اللہ کی عبارت نقل فرما کر لکھتے ہیں: ” لكن يتعين حمله على عالم أو جاهل مقصر بجهله، وقد ضم إلى زعمه الرؤية بعينه، زعمه اعتقاد وجود جسم ولازمه من الحدوث، أو ما يستلزمه كالصورة واللون ونحوهما فهذا هو الذي يتجه الحكم بكفره، لأنه حينئذ لم يعتقد قدم الحق ولا كماله تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا. “ ترجمہ: لیکن یہ عبارت اس عالم یا ایسا جاہل جو اپنی کوتاہی کی وجہ سے جہالت میں غرق ہو اور اپنی سر کی آنکھوں سے رؤیت ہونے کے گمان کے ساتھ وجود جسم اور اس کے لوازم مثلاً حدوث یا جو اس کو مستلزم ہے مثلاً صورت ، رنگ وغیرہ کے عقیدے کا بھی گمان رکھتا ہو، یہی وہ شخص ہے جس کی طرف حکم کفر متوجہ ہو گا کیونکہ اس صورت میں وہ اللہ تعالی کے قدم و کمال پر ایمان نہیں رکھتا  ۔ اور اللہ تعالی کی ذات اس سے بہت بلند ہے۔ ([30])

حوالہ جات:

[1]…۔ شرح جوھرۃ التوحید  للصاوی، صفحہ 265، دار ابن کثیر، بیروت

[2]…۔ الانوار لاعمال الابرار، جلد3، صفحہ 285، دار الضیاء، کویت

[3]…۔ بہار شریعت، جلد1، صفحہ 271، مکتبہ المدینہ، کراچی

[4]…۔ کنز الفوائد شرح بحر العقائد،  صفحہ 72، مخطوط

[5]…۔ شرح فقہ اکبر، صفحہ 68، طبع مجتبائی،  لکھنو 

[6]…۔ فتاوی رضویہ،جلد29،صفحہ385، رضا فاؤنڈیشن، لاہور

[7]…۔ فتاوی رضویہ، جلد28،صفحہ668، رضا فاونڈیشن، لاہور

[8]…۔ منح الروض الازھر،صفحہ355، دار البشائر الاسلامیہ، بیروت

[9]…۔ فتاوی رضویہ، جلد27،صفحہ176، رضا فاونڈیشن، لاہور

[10]…۔ کنز الفوائد شرح بحر العقائد،  صفحہ 72، مخطوط

[11]…۔ عمدۃ القاری ، جلد1، صفحہ 291، دار احیاء التراث العربی، بیروت

[12]…۔ فتاوی رضویہ، جلد5،صفحہ297، رضا فاونڈیشن، لاہور

[13]…۔ الميسر في شرح مصابيح السنة، جلد1، صفحہ 39، مكتبة نزار مصطفى الباز، بیروت

[14]…۔ عمدۃ القاری ، جلد1، صفحہ 291، دار احیاء التراث العربی، بیروت

[15]…۔ منح الروض الازھر،صفحہ356، دار البشائر الاسلامیہ، بیروت

[16]…۔ فتاوی رضویہ، جلد28،صفحہ178، رضا فاونڈیشن، لاہور

[17]…۔ فتاوی رضویہ، جلد28،صفحہ668، رضا فاونڈیشن، لاہور

[18]…۔ کنز الفوائد شرح بحر العقائد،  صفحہ 72، مخطوط

[19]…۔ منح الروض الازھر،صفحہ353-354، دار البشائر الاسلامیہ، بیروت

[20]…۔ التعرف لمذهب أهل التصوف، صفحہ 44، دار الکتب العلمیہ، بیروت

[21]…۔ فتاوی حدیثیۃ، صفحہ 108، دار الفکر، بیروت

[22]…۔ منح الروض الازھر،صفحہ356، دار البشائر الاسلامیہ، بیروت

[23]…۔ الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ، جلد2، صفحہ90 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت

[24]…۔ رد المحتارعلی الدر المختار  ، جلد4، صفحہ 233، دار الفکر، بیروت

[25]…۔ الدر المختار مع رد المحتار، جلد4، صفحہ 230، دار الفکر، بیروت

[26]…۔ فتاوی رضویہ، جلد 9،صفحہ 941، رضا فاونڈیشن، لاہور

[27]…۔ المعتد المنتقد، صفحہ 138-139، دار اھل السنۃ ، کراچی

[28]…۔ فتاوی حدیثیۃ، صفحہ 108، دار الفکر، بیروت

[29]…۔ فتاوی رضویہ، جلد29،صفحہ414، رضا فاونڈیشن، لاہور

[30]…۔ فتاوی حدیثیہ، صفحہ 108، دار الفکر، بیروت

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button