ARTICLESشرعی سوالات

دم فوری دینا ضروری ہے یا اس میں تاخیر کی اجازت ہے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ اگر کسی وجہ سے دَم لازم آ جائے تو دَم دینا فوری طور پر لازم ہوتا ہے یا اُس میں تاخیر کی شرعاً کوئی رُخصت ہے ؟

(السائل : محمد ظفر، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : دَم کی ادائیگی فوری طور پر واجب نہیں اِس میں تاخیر کی رُخصت ہے مگر دَم جب ذمے میں واجب ہو چکا تو ادا کئے بغیر مر گیا تو گُنہگار ہو گا اور اُس پر لازم ہو گا کہ اُس کی وصیت کر کے جائے جب وہ وصیت کر دے تو ورثہ پر تکفین و تدفین اور ادائیگی قرض کے بعد اُس کی وصیت پر عمل کرنا لازم ہو گا بشرطیکہ ادائیگی قرض کے بعد اتنا مال بچ جائے کہ جس سے اُس کی یہ وصیت جاری ہو سکے ، اور اگر وہ وصیت نہ کرے اور اس کے ورثاء کو اس کا علم ہو کہ اس پر کوئی دم باقی ہے وہ اُسے ادا کر یں تو مرنے والے کی طرف سے دَم ادا ہو جائے گا۔ چنانچہ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ ’’فتح باب العنایہ شرح النقایہ‘‘ (201) میں لکھتے ہیں اور اُن سے علامہ سید محمد امین عابدین شامی متوفی 1252ھ (202) نقل کرتے ہیں کہ :

ثم الکفَّاراتُ کُلُّہا واجبۃٌ علی التّراخی، فیکون مؤَدِّیًا فی أیِّ وقتٍ، و إنّما یتضیَّقُ علیہ الوجوبُ فی آخر عُمُرہ فی وقت یغلبُ علی ظنِّہ أنہ لو لم یُؤدِّہ لَفاتَ، فإن لم یؤدِّ فیہ حتَّی ماتَ أَثِمَ و علیہ الوصیّۃُ بہ، و لو لم یُوصِ لم یجبْ علی الورثۃِ، و لو تبرَّعُوا عنہ جاز إلاَّ الصَّومَ اھ و اللّفظ للشّامی

یعنی، پھر تمام کفّارے علی التراخی واجب ہیں (نہ کہ علی الفور) پس جس وقت بھی ادا کرے گا ادا کرنے والا ہو گا اور صرف اُس کی آخر ی عمر میں جب اُسے غالب گمان ہو کہ اگر اُسے ادا نہ کرے گا تو فوت ہو جائے گا تو اُس وقت وُجوب اُس پر تنگ ہو جائے گا، پس اگر کفّارہ ادا نہ کیا یہاں تک کہ مر گیا تو گُنہگار ہوا اور اُس پر اِس کی وصیت لازم ہے اور اگر وصیت نہ کی ورثہ پر یہ واجب نہیں اور اگر وہ مرنے والے کی طرف سے بنیت ثواب کرتے ہوئے کفّارہ ادا کر دیں تو جائز ہو جائے گا سوائے روزے کے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 26 ذو القعدہ 1429ھ، 24نوفمبر 2008 م 479-F

حوالہ جات

201۔فتح باب العنایۃ، کتاب الحجّ، فصل فی الجنایات، 2/288

202۔ رَدُّ المحتار علی الدُّرِّ المختار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، تحت قول التّنویر : الواجبُ دمٌ، 3/651۔652

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button